Life Styleطب صحت

کیا آپ کا بچہ کچھ بھی یاد کرتے ہی بھول جاتا ہے، تو آج سے ہی اسے کھانے میں دیجئے یہ 7 چیزیں

بچوں کے لیے دماغی غذا: والدین اکثر اس بات سے پریشان ہوتے ہیں کہ ان کا بچہ پڑھنے کے چند منٹوں میں وہ سب کچھ بھول جاتا ہے جو انھوں نے یاد کیا تھا۔  وہ گانے بہت جلدی یاد کرلیتا ہے لیکن جب پڑھائی کی بات آتی ہے تو اسے چیزوں کو یاد رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔اس سے کلاس میں بچے کی کارکردگی پر بھی بہت بڑا اثر پڑتا ہے۔  ایسے میں بچے کو ڈانٹنے کے بجائے اس کی خوراک کو بہتر بنانا چاہیے۔  اسے ایسی دماغی غذائیں دی جائیں جس سے اس کی یادداشت میں اضافہ ہو اور وہ آسانی سے کوئی چیز نہ بھول سکے۔


ان غذاؤں سے یادداشت ہو جائے گی تیز




اخروٹ – دماغ کے سائز کے یہ گری دار میوے دماغ کے لیے بہترین مانے جاتے ہیں۔  وہ ڈی ایچ اے سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کی ایک قسم ہے۔  یہ دماغ کی صحت کا خیال رکھتا ہے اور اس کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔



دلیا: جئی یا دلیا پروٹین اور فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جو دماغ کے اعصاب کو صاف رکھتے ہیں۔  یہ وٹامن ای، وٹامن بی، زنک اور پوٹاشیم کا بھی اچھا ذریعہ ہے جو بچے کو توانائی فراہم کرتا ہے۔



ہری سبزیاں – کیلے اور پالک ایسی سبزیاں ہیں جو بھولنے کی عادت کو کم کرتی ہیں۔  اس کے ساتھ ساتھ کیلے ایک سپر فوڈ ہے جو اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے اور دماغی خلیات بنانے میں مدد کرتا ہے۔  آپ ان سبزیوں کو سموتھیز یا آملیٹ میں ڈال کر بچوں کو کھلا سکتے ہیں۔



انڈے: انڈوں میں موجود پروٹین بچوں کو توجہ مرکوز کرنے میں مدد کرتا ہے۔  اس کے ساتھ اس کے پیلے حصے میں کولن بھی ہوتا ہے جو یادداشت کو تیز کرتا ہے۔



مچھلی – یہ اومیگا تھری اور وٹامن ڈی سے بھرپور ہوتی ہے۔  یہ ایسے غذائی اجزاء ہیں جو دماغی یادداشت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔  وہ جتنا زیادہ بچوں کو کھلائیں گے، ان کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت اتنی ہی بڑھے گی۔



مونگ پھلی کا مکھن – مونگ پھلی یا مونگ پھلی کا مکھن وٹامن ای کا ایک اچھا ذریعہ ہے جو ایک اینٹی آکسیڈینٹ ہے جو اعصابی جھلیوں کی حفاظت کرتا ہے۔  اس میں موجود تھامین دماغ اور اعصابی نظام کے لیے فائدہ مند ہے۔



دودھ اور دہی: ان دونوں دودھ کی مصنوعات میں اچھی مقدار میں پروٹین اور کاربوہائیڈریٹ ہوتے ہیں جو دماغ کو کافی توانائی دیتے ہیں۔



ڈس کلیمر: یہ مواد بشمول مشورے، صرف عام معلومات فراہم کرتا ہے۔  یہ کسی بھی طرح مستند طبی رائے کا متبادل نہیں ہے۔  مزید تفصیلات کے لیے ہمیشہ کسی ماہر یا اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ Qaumi Tarjuman اس معلومات کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button