بہارتازہ ترین

مفتی اختر امام عادل قاسمی، استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد ادریس نیموی ایوارڈ سے سرفرا


مفتی صاحب کی تصنیفی وفقہی خدمات کے اعتراف میں جمعیت علماء بیگوسراے اور جامعہ رشیدیہ مدنی نگر خاتوپور کے اشتراک سے ایوارڈ وسپاس نامہ پیش کیا گیا۔


جمعیۃ نیوز (بیگوسراے)

حکومتی گائڈ لائن کی پاسداری برتتے ہوئےایک غیر رسمی تہنیتی مجلس میں صوبہ بہار کی عظیم علمی وروحانی شخصیت حضرت مولانا مفتی اختر امام عادل قاسمی صاحب مدظلہ کی ہمہ جہت گراں قدر خدمات کے اعتراف میں یہاں جامعہ رشیدیہ مدنی نگر خاتوپور میں انہیں نوازاگیا۔


پروگرا کی سرپرستی ضلع جمعیۃ کے جنرل سکریٹری الحاج مولانا محمد صابر نظامی قاسمی مدظلہ نے کی ،جب کہ پروگرام کی صدارت ،صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ مشہورعالم دین مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی صدر جمعیۃ علماء بیگوسراے فرمارہے تھے ،انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں مہمان خصوصی کا بلند الفاظ میں تعارف کرایا اور ان کی جلیل القدر خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مفتی اختر امام عادل قاسمی صاحب جیسی شخصیت ،نئی نسل بالخصوص فضلاء مدارس اسلامیہ کے لئے آئڈیل اور قیمتی سرمایہ ہیں ،مفتی صاحب نہ صرف علمی وقلمی صلاحیتوں کے مالک ہیں ،بلکہ خاندانی شرافتوں کے ساتھ علمی ،روحانی ،تصنیفی اور فکری روایتوں کے بھی امین ہیں ،ان کی زندگی فقیہ ملت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی جیسے صاحب علم وفضل کی صحبتوں میں ڈھلی ہے ،وہ جتنا اچھا بولتے ہیں اتنا ہی اچھا لکھتے بھی ہیں اور خوب لکھتے ہیں،ہمہ جہت صنفوں پر لکھنے کی یکساں قدرت رکھتے ہیں ۔ان کی شخصیت کا خمیر فکر وتحقیق سے تیار ہوا ہے،وہ علم وتحقیق کا اعلی ذوق رکھتے ہیں ،اور جس صنف پر بھی لکھتے ہیں ،انتہائی محنت سے لکھتے ہیں ۔
اس موقع پر ممتاز دانشورپروفیسر شمیم باروی اور مفتی محمد خالد حسین نیموی اور مولانا ضیاء الرحمان قاسمی کے ہاتھوں سپاس نامہ ،مولانا مکرم الحسینی قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء صوبہ بہار، ماسٹر مبین اختر ، مولانا محمد صابر نظامی قاسمی،مفتی عین الحق امینی قاسمی ،مولانا فیروز احمدقاسمی، مولانا زین العابدین قاسمی،مولانا افتخار وصی قاسمی مولانا فرحان راہی وغیرہ کے ہاتھوں ان کی عزت افزائی کی گئی،بعد ازاں شال پوشی کرانہیں” استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمدادریس نیموی” ایوارڈ سے سرفرازکیا گیا ۔


پروگرام کی اہم کڑی کے طور پرحال میں جمعیۃ علماء ریاست بہار کے نائب صدر منتخب ہونے کے تعلق سےحضرت مولانا سید مکرم الحسینی قاسمی صاحب کی عزت افزائی بھی شامل تھی ،جسے بحسن خوبی انجام دیا گیا ،جناب پروفیسر شمیم باروی اور مفتی محمد داؤد صاحب مظاہری کے ہاتھوں بوکے اور شال پیش کر ان کا شاندار استقبال کیا گیا ۔


اپنی عزت افزائی سے متآثر ہوکر انہوں نے کہا کہ یہ جماعت بزرگوں کی امانت ہے ،اسے جتنا زیادہ فعال کیا جائے گا ،اتنا ہی عقیدت کا خراج ملے گا ،انہوں نے کہا کہ میں ضلع جمعیت کی موجودہ ٹیم اور اس کی سرگرمیوں سے کافی مطمئن ہوں ،موجودہ ذمہ داران کی قابل قدر محنتوں اور غیر معمولی کوششوں نے جمعیت علماء ہندکے مرکزی اراکین کی نگاہ میں پوری ریاست بہار کے اندر بیگوسراے کو جو مقام ومرتبہ بخشا ہے وہ حوصلہ افزائی ہی نہیں ،سراہنئے بھی ہے۔
پروگرام کی تیسری کڑی وہ علماء ،حفاظ اور اسکول وکالج کے طلباء وطالبات تھے، جنہوں نے گزشتہ برس 2021 میں ضلع جمعیۃ کی تحریک پر انشاء پردازی کے مقابلے میں حصہ لیا تھا ، انشاء پردازی کے اس مقابلے میں اول پوزیشن مفتی نفیس احمد قاسمی نے حاصل کی ،دوسری پوزیشن قاری عبدالقیوم شاد اور مولانا لقمان عثمانی قاسمی نے حاصل کی جب کہ تیسرا مقام مولوی عبداللہ کریم نے حاصل کیا۔ مقابلے میں خصوصی انعام کے ساتھ تمام شرکت کنندگان کو تشجیعی انعام سے بھی نوازا گیا ،انہیں میڈل ،سرٹیفیکٹ سمیت رقوم کی شکل میں نقد انعام سے بھی چند منتخب معزز افراد کے ہاتھوں سرفراز کیا گیا


مہمان خصوصی کی حیثیت سے تشریف لائے مفتی اختر امام عادل صاحب قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منور وا شریف نے فرمایا کہ استقبال کرنے ا ور خطاب سے نوازنے کا یہ سلسلہ جدید نہیں ہے ،بلکہ ایک قدیم سلسلہ ہے ،خود جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں مختلف صحابہ کرام کو فرق مراتب کے لحاظ سے خطاب عنایت فرمایا ہے ،چنانچہ حضرات خلفاء راشدین سمیت حضرت معاذ بن جبل،حضرت خالد بن ولید، حضرت عبداللہ بن مسعود وغیرہ جیسے صحابہ کرام کو آپ نے خصوصی خطاب و القاب سے نواز اہے اور غزوہ موتہ سے واپس ہورہے صحابہ کے استقبال کے لئے آپ مدینہ منورہ سے باہر بھی تشریف لے گئے تھے۔


اخیر میں انہوں نے حضرت عبداللہ بن مبارک کے حوالے سے عوام وخواص کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ صرف عوام ہی قابل اصلاح نہیں ہیں ،خواص بھی محتاج اصلاح ہیں ،انہوں نے مزید اس حوالے سے اپنی تفصیلی بات چیت میں کہا کہ خواص کی پانچوں قسمیں زاہد ،علماء ،ولاۃوملوک ،تاجر اور غازی ومجاہد سبھوں کو اپنے اپنے دائرہ عمل میں نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔


زاہدوں کو اس لئے کہ وہ اس امت کے بادشاہ ہیں ،علماء اس لئے کہ وہ انبیاء کے وارث وامین ہیں ،انہیں انبیاؤں کی مزاجی کیفیت کے ساتھ کام کرنا ہوگا ،کبھی مزاج عیسوی کے ساتھ اور کبھی مزاج موسوی کے ساتھ ۔ ملوک وولاۃ بھی اس لئے کہ وہ زمین میں مالیات واکنومی کے ذمہ دار ہیں ،تاجر لوگ اس لئے قابل اصلاح ہیں کہ وہ زمین پر امین ہیں اور غازی ومجاہد اس لئے کہ وہ اللہ کی تلوار ہیں ،اگر یہ سارے خواص اپنی خصوصیت کھورہے ہیں ،تو کیوں نہیں انہیں بھی اصلاح کی طلب میں اپنا محاسبہ کرنا چاہئے ،اگر خواص بھی اپنی حقیقی حیثیت کھو رہے ہیں تو عام لوگوں کا کیا حال ہوگا ،ان میں بگاڑ کیوں نہیں آئے گا ،اس لئے خواص کو سب سے پہلے اپنے اندر بدلاؤ لانے کی آج سخت ضرورت ہے ،تاکہ عوام کی اصلاح بخوبی ہوسکے ۔مفتی صاحب نے عوام سے بھی درخواست کی کہ کم کھانا ،مسجد میں بیٹھنا ،خانہ کعبہ کو دیکھنا ،قرآن کریم کے حروف کو دیکھنا اور عالم دین کے چہرے کو دیکھنا بھی عبادت ہے ،ان چیزوں کو بھی عبادت سمجھیں اور اہتمام کریں ۔
تہنیتی مجلس سے مفتی محمد داؤد صاحب مظاہر ی،پروفیسر شمیم باروی وغیرہ نے بھی خیالات پیش کئے ،
پروگرام کے دوران حال میں گزرنے والے ضلع کی دو عظیم شخصیت جناب قاری جمیل الرحمان صاحب اور جناب مولانا عبد الاحد صاحب مرحوم کے حق میں دعاء مغفرت کی گئی اور ان کے واثین کو تعزیت مسنونہ پیش کیا گیا ۔


اخیر میں سرپرست مجلس مولانا محمد صابر نظامی قاسمی مدظلہ نے اپنے تمام مہمانان کا شکریہ اداکرتے ہوئے فرمایا کہ حوصلہ افزائی پروگرام کا یہ سلسلہ ان شاء اللہ سالانہ منعقد ہوا کرے گا ،انہوں نے مفتی اختر امام عادل قاسمی صاحب کا خصوصیت سے شکریہ اداکیا اور ضلع بھر میں قائم جمعیۃ کی تمام یونٹوں سے حوصلہ افزاء پروگرام منعقد کرنے کی اپیل بھی کی تاکہ نئ نسل میں اہل ہنر کی قدر شناسی کا مزاج پیدا ہوسکے ۔



اہم شرکاء مجلس میں مولانا عبد المجید اسحاق قاسمی مولانا ضیاء الرحمن قاسمی مفتی محمد داؤد مظاہری مولانا زین العابدین، قاری عبدالقیوم شاد، پروفیسر شمیم باروی ، جناب ماسٹر مبین اختر صاحب ، جناب مقبول عالم صاحب،مولانا شعیب اکرم ،مولانا عبدالمجید اسحاق قاسمی ،مولانا معراج الحق قاسمی ،مولانا دانش احمد قاسمی ،قاری ارمان الحق جامعی مفتی نفیس احمد قاسمی ودیگر مؤقر و مقتدرشخصیات نےشرکت کی۔


اجلاس کی نظامت نائب صدر جمعیہ علماء بیگوسراے مفتی عین الحق امینی قاسمی نے کی ، محمد ذکاء اللہ کی تلاوت کام پاک سے مجلس کا آغاز ہوا جب کہ محمد انتخاب عالم متعلم جامعہ رشیدیہ نے نعت پاک پیش کیا ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button