Daily E- Urdu Akhbarروزنامہ اردو اخبارات

ناول (میگزین)

  • مدنی صاحب کی آمد پر اِجلاس تقسیمِ انعامات کی تیاریاں مکمل

    کشن گنج : ۳؍ دسمبر / قومی ترجمان بیورو

    جمعیۃ علماء کشن گنج تعلیم وترقی کے کئی میدانوں میں سر گرم عمل ہے، گذشتہ کئی سالوں سے جمعیۃ علماء کشن گنج کے اراکین وذمہ داران ملک وملت کے لئے کئی محاذوں میں کام کر رہا ہے، اور بحمد للہ انہوں نے تعلیم کے میدان میں کئی طرح کی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

    اسی سلسلے میں گذشتہ ۶؍ نومبر کو کشن گنج کے مختلف اسکول اورمدرسوں کے طلبہ کے درمیان حیات ِ رسول ﷺ کوئز کمپٹیشن کرایا جس میں ۱۹۲؍ اسکول اور کچھ مدارس کے تقریباً ۴۲۰۰ طلبہ وطالبات نے حصلہ لیا تھا واضح رہے کہ یہ کوئز کمپٹیشن کا یہ پروگرام بہادرگنج اور کشن گنج میں منعقد کرایا گیا تھا، اب اس کا رزلٹ اور تقسیم انعامات کا پروگرام برے ہی تزک واحتشام کے ساتھ مدرسہ انجمن اسلامیہ کشن گنج میں آج منعقد کرایا جارہا ہے۔

    اس تقسیم انعامات اجلاس میں ملک وملت کی عظیم شخصیت قائد جمعیۃ حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب مدظلہ صدر جمعیۃ علماء ہند تشریف لارہے ہیں ، انہی کے ہاتھوں سے اول ، دو اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو گراں قدر انعامات سے سر فراز کیا جائے گا۔

    صدر محترم جمعیۃ علماء ہند کی آمد پر اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے آ ج جمعیۃ علماء کشن گنج کی اعلی سطحی وفد نے مدرسہ انجمن اسلامیہ کشن گنج میں میٹنگ کی اور تیاریوں پر تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اطمنان کا اظہار کیا، اور ملت کے بہی خواہوں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک اجلاس ہوکر معصوم اور ہونہار بچوں کی حوصلہ افزائی کریں، ان شاء اللہ اس پروگرام میں ۵؍ ہزار سے زائد طلبہ اور ان کے گاجین حضرات کے ساتھ ساتھ جمعیۃ علماء کشن گنج کے تمام ورکروں کی شرکت متوقع ہے۔

  • ریاست میں بہار میں اردو……

    ریاست بہار میں اردو کی زبوں حالی : تحریر اسجد راہی ایڈیٹر قومی ترجمان

    اردو وطن عزیز میں چھ ریاستوں کی دفتری زبان کا درجہ رکھتی ہے ۔ ہندوستان کی یہ چھٹی بڑی زبان ہے۔ زبانِ اردو کو پہچان و ترقی اس وقت ملی جب برطانوی دور میں انگریز حکمرانوں نے اسے فارسی کے بجائے انگریزی کے ساتھ شمالی ہندوستان کے علاقوں اور جموں و کشمیر میں 1846ء اور پنجاب میں 1849ء میں بطور دفتری زبان نافذ کیا ۔ اس کے بعد تسلسل کے ساتھ عروج و ترقی کی منازل طے کرتا گیا۔ 1999 کے اعداد و شمار کے مطابق اردو زبان کے مجموعی متکلمین کی تعداد دس کروڑ ساٹھ لاکھ کے لگ بھگ تھی۔

    اردو کو بہار میں بھی دوسری ریاستی زبان کا درجہ ملا ہوا ہے اس کی فروغ و ترویج میں ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا،اور بعد میں لالو پرساد یادو کا کردار بھی اہم رہا ہے ۔ اسی ضمن میں اردو ٹرانسلیٹر، اسٹنٹ ٹرانسلیٹر اور اردو اساتذہ کی بحالی وغیرہ بھی عمل میں آئی تھی؛ لیکن حکومتوں کے بدلتے ہی اردو کے ساتھ سوتیلا رویہ بھی اپنایا گیا۔

    وزیر اعلی نتیش کمار نے اس سمت میں پیش رفت کی اور ستائیس ہزار اردو اساتذہ کی تقرری کا اعلان کیا۔ حکومتی اعلان کے بعد عملی جامہ پہنانے کی غرض سے 2013 میں اسپیشل اردو بنگلہ ٹی ای ٹی کا انعقاد کیا گیا جس میں کثیر تعداد میں امیدوار کامیاب ہوئے اور محبانِ اردو کی بے لوث محبت اور برسوں کی جدوجہد کے بعد 2016 میں ہزاروں اردو اساتذہ کی تقرری یقینی ہو سکی ہے۔

    خیال رہے کہ ریاست بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ 1981 میں ڈاکٹر جگناتھ مشرا کے دور اقتدار میں ملا تھا ۔اس کے عملی نفاذ کی بنیاد بھی کانگریسی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مشرا نے ہی ڈالی تھی لیکن اس کے بعد دیگر حکومتوں اس کے عملی نفاذ میں پیش رفت کی اور نہ ہی کوئی دلچسپی لی ۔نتیجتاً ہر جگہ دخیل و رائج زبان فقط اردو حلقوں اور اردو سے متعلق اداروں سے دفاتر تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔
    حکومت ایک طرف ابتدائی تعلیمی اداروں میں اردو اساتذہ کی چند ہزار تقرری کو لیکر (جو اصل ہدف سے کوسوں دور ہے) اپنا پیٹھ تھپتھپا رہی ہے تو وہیں دوسری طرف اصل حقائق کچھ اور ہی ہے ۔ اردو کی زبوں حالی کے لئے ذمہ دار کون ہے؟ ایک بڑا سوال ہے۔

    چند ایک اہم نکات پر نظر ڈالتے ہیں کہ جن کا کردار فروغ اردو کے لئے سب سے اہم مانا جاتا ہے۔

    سب سے پہلے اردوڈائریکٹوریٹ، اردو اکادمی،اردو مشاورتی کمیٹی اور اردو کے نام پر بنے سینکڑوں تنظیموں کا ذکر کرنا اہم ہو جاتا ہے۔

    ڈائریکٹوریٹ اور اردو مشاورتی کمیٹی اردو کی مختلف تنظیم سے لے کر اردو اکادمی تک سب کے سب سمینار، سمپوزیم اور مشاعروں کے انعقاد میں مصروف ہیں۔ ہر جگہ ادب اور زبان کے فروغ کی بات ہو رہی ہے۔ لیکن زبان کے فروغ کا کوئی کام نہیں ہو رہا ہے اور نہ ہی اس پر کسی کا دھیان ہے۔ کوئی یہ سوچنے کے لیے تیار نہیں کہ جب اردو جاننے والے ہی نہیں ہوں گے تو اردو ادب کے قدرداں کہاں سے آئیں گے۔ ادب پاروں کو قاری کہاں سے ملیں گے۔ اسکولوں میں اردو اساتذہ کی فقط تقرری ہو جانے سے اردو کا فروغ ہو جائے گا؟ کیا اردو زباں کی مکمل آبیاری اور آبپاشی کے لئے اردو اساتذہ کی تربیت کا کوئی معقول انتظام کیا گیا ہے؟ جس طرح ہندی، انگریزی یا دیگر زبانوں کے لئے تربیت کا انتظام صوبائی کونسل برائے تحقیق تعلیم و تربیت بہار انتظام کرتی ہے؟ جواب نفی میں ملے گا آخر کیوں؟

    ابتدائی اسکولوں میں تعلیم کا نظم ہی نہیں ہو سکے گا تو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اردو پڑھنے والے اور تحقیق کار کہاں سے آئیں گے۔

    حکومت کالجوں، یونیورسٹیوں اور اردو مترجم، معاون مترجم اور راج بھاشا کے خالی ہونے والے عہدوں کو پہلے ہی سے پُر کرنے سے کترا رہی ہے۔ برسوں کی سرد مہری کے بعد ابھی حال ہی میں اردو مترجم، معاون مترجم اور راج بھاشا کے خالی عہدوں پر بحالی کے لئے BSEB کے ذریعے آنلائن فارم طلب کیا گیا ہے لیکن بحالی کب تک ہو سکے گی یہ کہنا بہت مشکل ہے چونکہ حاکم وقت کا ذہن بدلتے دیر نہیں لگتا۔ اللہ تعالیٰ خیر کا معاملہ فرمائے ۔

    اردو سے متعلق سبھی ادارے صرف ادب کی آبیاری میں مصروف ہیں۔ زبان کے فروغ کی کوئی فکر نہیں ہے۔ یعنی اردو کی جڑیں سوکھ رہی ہیں اور پتیوں پر پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہے۔
    ٢) گورنمنٹ اسکولوں میں بحال اردو اساتذہ کا ذکر بھی انتہائی اہم ہے چونکہ یہی اصل معمار ہیں جو زبان و ادب اور نسل نؤ کی نہ صرف آبیاری کرتے ہیں بلک قومی و ملی تشخص کو برقرار رکھنے کا ضامن بھی ہیں ۔

    ہزاروں اساتذہ تعلیمی اداروں میں تقرر کئے گئے ہیں، نیز دیگر سرکاری دفاتر میں بھی اردو ملازمین بحال ہیں باوجودیکہ اردو زبوں حالی کا شکار ہے۔ اردو کا معیار ہر گزرتے دن کے ساتھ گھٹتا جا رہا ہے اور یہ ترقی کی راہ طئے کرنے کے بجائے تنزلی کی طرف گامزن ہے جو محبین اردو کے لئے رنجیدہ خبر ہے ۔

    بحال شدہ سینکڑوں اساتذہ بلا شبہ اپنی فرائض بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں جو یقیناً قابلِ مبارکباد ہیں؛ لیکن ایک تحقیقی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بیشتر اساتذہ اردو زبان کی جگہ دانستہ طور پر دیگر زبانوں کی تعلیم دے رہے ہیں ۔ وجوہات جو بھی ہوں اردو اساتذہ کا یہ عمل قابلِ گرفت ہے کہ معمار قوم کو اپنے منصبی فرائض میں ہو رہی غفلت و خیانت کا افسوس تک نہیں ہے۔ اردو کی نام پر روٹیاں توڑ رہے ہیں اور اسی کی جڑ کو سوکھ کر خود کا مستقبل سنوارنا چاہتے ہیں جو شاید کسب حلال کا معیار نہیں ہے ۔

    قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ بیشتر اسکولوں سے اردو کتابوں کے لئے کوئی مطالبہ ہی نہیں کیا جاتا ہے جو مستقبل کے لئے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔

    ریاست بہار میں اردو کی زبوں حالی : اسجد راہی ایڈیٹر قومی ترجمان
    ریاست بہار میں اردو کی زبوں حالی : اسجد راہی

    پہلے اردو یا اہل اردو کے ساتھ جب کوئی ناانصافی ہوتی تھی تو اس کے خلاف اردو نواز اور حق پسند عوامی نمائندے قانون سازیہ میں صدائے احتجاج بلند کرتے تھے اور وہاں سے حکومت کو انصاف کرنے کی ہدایت جاری ہوتی تھی۔ لیکن جب قانون سازیہ کی سطح پر ہی اردو کے ساتھ انصاف نہ ہو رہا ہو تو اہل اردو کہاں جائیں گے؟ دوسری جانب قوم کے معمار کہے جانے والے اساتذہ بھی جب اپنی فرائضِ منصبی میں غفلت برتیں گے تو پھر یہ زبان نئی نسل کے لئے شاید تاریخ بن کر رہ جائے گی۔ جب کسی بھی سطح کوئی پرسانِ حال نہیں ہوگا تو اردو کے چند گنے چنے خدام اردو کو کیسے بچا پائیں گے یا کیسے انصاف دلا پائیں گے؟ اس طرح کے ہزاروں سوالات اہل اردو کی زبان پر ہیں مگر ان کے جواب شاید کسی کے پاس نہیں ہیں۔

    اردو زبان و ادب کے لئے سب سے زیادہ تشویش کی بات اس میں قاری کی تعداد میں اضافہ نہ ہونا ہے ۔ اردو داں طبقہ بالخصوص نوجوان میں اردو کتابیں پڑھنے کا رجحان کم ہو رہا ہے جو افسوسناک ہے ۔ اردو اخبارات کے قاریوں میں اضافہ اطمنان بخش نہیں ہے ۔اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ بہار میں اردو بولنے والوں کی تعداد کوڑوں میں ہے پھر بھی زبان کی فروغ میں مختلف رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں ۔ پرائمری یا مڈل اسکولوں میں بحال شدہ اساتذہ کے لئے وقتاً فوقتاً اردو اساتذہ کی تربیت ضروری ہوتی ہے لیکن اس کے لئے حکومت کی جانب سے تا حال کوئی اقدام نہیں ہوا ہے؛ جبکہ اس کی ذمہ داری فوری طور پر SCERT کو سونپی جانی چاہئے ۔

    اردو اساتذہ کو اپنی منصبی فرائض بخوبی نبھانا چاہیے ساتھ ہی اردو ڈائریکٹوریٹ، اردو اکادمی، اردو مشاورتی کمیٹی اور دیگر اردو تنظیموں کو اردو کے تئیں مخلص ہو کر زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے جس سے ہماری پیاری اور شیرینی زبان کی بدرجہ اولی فروغ ممکن ہو اور آئندہ نسل تک ہم اپنی شناخت اور تہذیب کو منتقل کرنے اور اس کو زندہ و جاوید رکھنے میں کامیاب ہو سکیں ۔

  • سو دن میں تکمیل حفظ قرآن کریم یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا🖋️ محمد انظر حسین قاسمی بانکوی

    سرزمین بہار کے بارے میں یہ بات بہت کہی جاتی ہے کہ,, بہار کی سرزمین مردم خیز ہے،، اور اس کا اندازہ یہاں کے علماء، فضلاء محدثین، مفسرین، مؤرخین اور مختلف میدانوں میں یہاں کے باشندوں کی محنت ،لگن کچھ کر گذرنے کےجذبے اور اپنے اپنے میدان میں گراں قدر خدمات اور ان کے چھوڑے ہوئے انمٹ نقوش سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

    سردست تحریر درحقیقت صوبہ بہار کے ضلع بانکا کے,, بنسی پور،، گاؤں سے تعلق رکھنے والے حافظ محمد شعیب ابن محمد ارشاد کے ایک ایسے کارنامے پر خراج تحسین ہے جسے معجزات قرآن کریم ہی میں سے کہا جاسکتا ہے، محمد شعیب نامی طالب علم نے اپنی جد وجہد اور محنت سے جامعہ اشاعت العلوم اکل کواں مہاراشٹر میں محض سو دن میں حفظ قرآن کریم مکمل کیاہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بہت انوکھا کارنامہ ہے ماضی میں بہت سے جلیل القدر علماء اور اساطین علم ایسے گذرے ہیں جنہوں نے اللہ تعالٰی کے فضل و کرم اور اپنی محنت سے بڑی کم مدت میں حفظ قرآن کریم مکمل کیا،

    چنانچہ مولانا عتیق الرحمن صاحب اعظمی نے اپنے ایک مضمون میں ایسے ہی چند حفاظ کے نام ذکر کئے ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ امام محمدؒ جب امام ابوحنفیہؒ کے پاس علم حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو امام صاحب نے آپ کو قرآن شریف حفظ کرنے کا حکم دیا، امام محمدؒ ایک ہفتہ غائب رہے پھر آکر فرمایا پورا قرآن یاد کرلیا۔ (الجواہر المضیئۃ ۲/۵۲۸) شیخ عزالدین ابن جماعہ تیس علوم میں مہارت رکھتے تھے، قرآن مجید کو ایک ماہ میں یاد کرلیا تھا۔ (اسلاف کے حیرت انگیز کارنامے ۹۹)

    ہشام کلبیؒ کا بیان ہے کہ میں نے ایسا یاد کیا ہے کہ کسی نے نہ کیا ہوگا اور بھولا بھی ایسا کہ کبھی بھولا نہ ہوگا، فرماتے ہیں کہ میرے چچا ہمیشہ مجھے قرآن یاد نہ کرنے پر ملامت کیا کرتے تھے، ایک دن مجھے بڑی غیرت آئی میں ایک گھر میں بیٹھ گیا اور قسم کھائی کہ جب تک کلام باری تعالیٰ حفظ نہ کرلوں گا اس گھر سے باہر نہ نکلوں گا؛ چنانچہ پورے تین دنوں میں قرآن کریم کو حفظ کرکے اپنی قسم پوری کرلی اور بھول جانے کا قصہ یہ ہے کہ میں نے آئینہ میں دیکھا کہ داڑھی لمبی ہوگئی ہے تو میں نے اس کو چھوٹی کرنا چاہا ایک مشت سے زائد کو قطع کرنے کے لیے داڑھی مٹھی میں لی اور بجائے نیچے کے اوپر قینچی چلادی؛ چنانچہ داڑھی صاف ہوگئی۔ (وفیات الاعیان (۶/۸۲) واسلاف کے حیرت انگیز کارنامے ۸۴ و شامی ۵/۲۶۱ یا ۶/۴۰۷ تاریخ خطیب بغدادی ۱۶/۶۸)

    اللہ تعالیٰ نے ایسا اس لیے کرایاکہ ان کے اندر اس سے کبر نہ پیدا ہوجائے کہ تین دن میں قرآن حفظ کرلیا تھا۔ (ملفوظات فقیہ الامت ۲/۲۵۳ طبع جدید کراچی) قاضی ابوعبداللہ اصبہانی نے فرمایا کہ میں نے پانچ سال کی عمر میں قرآن حفظ کرلیا تھا۔ (مقدمہ ابن الصلاح ص۱۳۱، النوع ۲۴ واسلاف کے حیرت انگیز کارنامے ص۲۰۲) مولانا فضل حق خیرآبادیؒ (م۱۲۷۸ھ) نے صرف چار ماہ میں قرآن حفظ کرلیا تھا۔ (ایضاً، ونزہۃ الخواطر ۷/۴۱۳) حضرت روح اللہ لاہوریؒ نے مکہ معظمہ میں ماہ رمضان مبارک کے اندر بیس دنوں میں پورا قرآن حفظ کرلیا۔ (ایضاً ص۲۰۶)

    حضرت مولانا محمدقاسم نانوتویؒ جب حج کے لیے تشریف لے جارہے تھے تو سمندر میں جہاز پر رمضان شریف کا چاند نظر آگیا، رفقاکی خواہش ہوئی کہ تراویح پڑھی جائے؛ مگر کوئی حافظ نہیں تھا لوگوں کے اصرار پر ایک پارہ روزانہ دن میں حفظ کرتے اور رات کو تراویح میں سنادیا کرتے؛ اس طرح پورا قرآن (ایک ماہ میں ) یاد کرکے سنادیا۔ (اسلاف کے حیرت انگیز کارنامے ۲۰۷) معلوم ہوا کہ ماضی میں ایسے بہت سے حفاظ گذرے ہیں جنہوں نے بڑی کم مدت میں حفظ قرآن کریم کی سعادت حاصل کیں، لیکن موجودہ وقت میں سو دن میں حفظ قرآن کریم کی تکمیل بندۂ ناچیز نے پہلی مرتبہ سنی ہے۔ اس کارنامے پر طالب علم اور ان کے والدین نا صرف اپنے جامعہ اور اپنے علاقہ، بلکہ پورے ملک اور پوری امت مسلمہ کی طرف سے مبارک بادی اور حوصلہ افزائی کے مستحق ہیں، ساتھ ہی ساتھ ہمیں ایسے لعل و گہر کی قدر و قیمت کو پہچاننا چاہئیے کہ ۔

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

    حافظ صاحب نے اس مقام کو حاصل کرنے کے لئے بڑی محنت کی ہے، جس کا اندازہ ان کے استاذ کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے استاذ جب انہیں بسکٹ وغیرہ کھانے کے لئے دیتے تو وہ بسکٹ ان کی جیب میں اگلے دن اسی طرح ملتی ،جب استاذ محترم ان سے بسکٹ نا کھانے کا سبب پوچھتے تو طالب علم جواب دیتے ہیں میرے پاس کھانے کا وقت نہیں ہے، قربان جائیے اس جذبہ پر ! یہ جذبہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے جذبہ سے ملتا جلتا جذبہ ہے، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے معالج سے فرمایا تھا کہ سالن کے ساتھ روٹی کھانے کا میرے پاس وقت نہیں ہے، خدا کرے کہ موصوف طالب علم کی محنت اور کچھ کر گذرنے کے جذبہ سے طالب علم کو ایسا علمی مقام حاصل ہوجس کی روشنی سے سماج سے جہالت کی تاریکی کافور ہو اوروہ دوسرے طلبہ کے لیے ایک تحریک ثابت ہو!

  • بدلاؤ : اب صرف انٹر پاس ہی بنیں گی آنگن واڑی ورکر

    سہائیکا کے لیے میٹرک کی کم از کم اہلیت، درخواست ضلع سطح پر لی جائیں گی۔

    پٹنہ: آنگن واڑی کارکنوں اور معاونین کے انتخاب کے عمل میں ایک بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔ اس کے لیے کم از کم تعلیمی قابلیت میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ آنگن واڑی سیویکا کے لیے کم از کم اہلیت انٹرمیڈیٹ یا اس کے مساوی اور آنگن واڑی سہائیکا کے لیے میٹرک ہوگی۔

    پہلے یہ بالترتیب میٹرک اور آٹھویں پاس تھا۔ منگل کو وزیر اعلی نتیش کمار کی صدارت میں ریاستی کابینہ کی میٹنگ میں اسے منظوری دی گئی۔ اجلاس میں کل 31 تجاویز کی منظوری دی گئی۔

    کابینہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری ڈاکٹر ایس سدھارتھا نے کہا کہ تقرری کے لیے ضلعی سطح پر امیدواروں سے آن لائن درخواستیں لی جائیں گی۔ اس سے پہلے اشتہار جاری کیا جائے گا۔ متعلقہ ضلع کے ڈپٹی ڈویلپمنٹ کمشنر کی سربراہی میں تشکیل دی گئی کمیٹی درخواستوں کی چھان بین کر کے میرٹ لسٹ تیار کرے گی۔ اعلیٰ ترین ڈگری والے امیدواروں کو پہلا موقع دیا جائے گا۔

    اگر دو امیدواروں کی تعلیمی قابلیت ایک جیسی ہے تو انتخاب میرٹ کے نمبروں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

    اگر میرٹ لسٹ پر کوئی اعتراض ہے تو اس کے لیے شکایت درج کرانے کے لیے وقت دیا جائے گا۔ اعتراضات دور کرنے کے بعد حتمی فہرست بنائی جائے گی۔ حتمی فہرست کی بنیاد پر منتخب افراد کا تقرر جنرل باڈی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

    اس کے لیے سیویکا-سہائیکا سلیکشن گائیڈ لائن 2022 کو منظوری دے دی گئی ہے۔

    آنگن واڑی ورکروں اور مددگاروں کے لیے متعلقہ وارڈ کا رہائشی ہونا لازمی ہوگا۔ اس کے لیے مجاز اتھارٹی سے رہائشی سرٹیفکیٹ بھی لازمی ہوگا۔ جو لوگ متعلقہ وارڈ میں رہتے ہیں، انہیں ہی تعینات کیا جائے گا۔ میرٹ لسٹ پر ڈی ایم اور پھر ڈویژنل کمشنر کے پاس اپیل کرنے کا بھی انتظام ہوگا۔ درخواست کے لیے کم از کم عمر 18 اور زیادہ سے زیادہ 35 سال ہوگی۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر کے پروگرام میں آنگن واڑی ورکروں اور معاونین کے انتخاب کو لے کر عوامی عدالت میں کئی شکایتیں ہیں۔ اس کے پیش نظر چیف منسٹر نے انتخابی عمل کو درست کرنے کی ہدایت دی تھی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button