Uncategorized

یکساں سول کوڈ کا نفاذ غیر شرعی اور غیر منطقی

یکساں سول کوڈ کا نفاذ غیر شرعی اور غیر منطقی، محمد قمر الزماں ندوی، استاد / مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

اس وقت ہم مسلمان سخت امتحان اور آزمائش کے دور سے گزر رہے ہیں ،حالات یقینا بہت سخت اور مشکل ہیں ،خصوصا ہندوستانی مسلمان انتہائی کسمپرسی کے عالم میں ہیں ۔اس امت پر آج جو حملے ہورہے ہیں،جو سازشیں رچی جارہی ہیں اور دشمنوں کے جو عزائم اور ارادے ہیں، وہ طشت از بام ہیں ،شعائر اللّٰہ زد پر ہیں ،جان و مال عزت و آبرو کے لالے پڑے ہیں، دھمکیوں سے ڈرانےاور خوف زدہ کرنے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے اور وطن عزیز کا یہ منظر کتنا دلخراش ہے کہ بقول شخصے نیائے اور قانون اس دھرتی پر بیچارہ ہوتا جارہا ہے ،انصاف خود پر شرمسار ہے ،سچائی کو کھرچ کھرچ کا مٹایا جارہا ہے ،حقیقتوں کو پروپیگنڈہ میں دبایا جارہا ہے اور بے بصیرتی کی انتہا یہ ہے کہ وہ ملت جس کا ہر فرد ہمارے وطن کا چھٹا انسان ہے، اس کو خوف زدہ کرکے اور ڈرا دھمکا کر اس کےحقوق غصب کرنے کی فضا اور ماحول بنایا جارہا ہے ،یقینا اس وقت مسلمان سخت امتحان اور آزمائش کے دور سے گزر رہےہیں ،مرحلہ سخت و دشوار اور امتحان بڑا ہے ۔

بچھ گئے کوئے یار میں کانٹے
کس کو عذر برہنہ پائی ہے

اس وقت یقینا حالات کروٹ بدل رہے ہیں ،مستقبل کے بارے میں ہمارے سامنے کئی اندیشے آرہے ہیں، پچھلے دو مرکزی انتخاب( الیکشن) میں ان کواقتدار و مسند ملا ہے، جو مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کی انفرادیت کو تسلیم نہیں کرتے اور ان اقلیتوں کو اپنے سماج میں ضم کرنے کا نصب العین ہی نہیں رکھتے، بلکہ ایک طرح کا اعلان کرچکے ہیں اور بطور خاص مسلمانوں کے دینی تشخص کو ختم کرنے کا پورا عزم اور ارادہ رکھتے ہیں اور سارے ہندوستانیوں کو اکثریتی سماج کی تہذیب اور اس کے تمدن میں ضم کرکے وہ یکسانیت قائم کرنا چاہتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ تہذیب و تمدن کی اس یکسانیت سے ملک طاقت ور ہوگا اور ملک میں اندرونی اتحاد و اتفاق مضبوط ہوگا ۔ جو صرف خام خیالی ہے ۔ اس کی ایک صورت یہ پیش کرتے ہیں کہ جب بین مذاہب شادی کا رواج عام ہوگا تو مختلف مذاہب کے ماننے والوں میں اتحاد ہوگا ،آپس میں رشتہ داریاں ہوں گی تو آپسی تعلقات میں مضبوطی آئے گی، ہندؤ مسلم منافرت ختم ہوگی ۔۔ یہ صرف دھوکہ ہے ،خام خیالی پر مبنی بات ہے ۔ ابھی ایک ہفتہ قبل کی خبر ہے ،مسکان نامی لڑکی کو دو چار سال قبل ایک ہندؤ لڑکے سے پیار ہوگیا، وہ اس کے ساتھ چلی گئی ،گھر والوں نے منت خوشامد کرکے اس کو گھر واپس لایا ،لیکن کچھ دنوں کے بعد دو بارہ وہ لڑکی گھر سے چلی گئی اور اس لڑکے سے شادی کرلی ۔ تین چار سال بعد ایک ہفتہ قبل لڑکی کے والدین کے پاس کسی افسر کا فون آیا کہ آپ کی لڑکی کی لاش پوسٹ مارٹم گھر میں ہے، اس کو آکر لے جائیے اور آخری کریا کرم یعنی تدفین کیجئے ،گھر والوں نے جب سوال جواب کیا تو کہا گیا کہ سوال جواب بعد میں، پہلے لاش یہاں سے لے جائیے ۔۔۔یہ تو ایک واقعہ بتایا گیا، ورنہ تو تقریباً روزانہ اس طرح کے واقعات پیش آرہے ہیں ۔

شرعی طور پر تو یہ حرام ہے ہی ولا تنکحوا المشرکات، منطقی اور عقلی طور پر بھی اس کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ بین مذاہب شادی سے بائی چارہ اور اتحاد و اتفاق کی راہیں کھلتی ہیں اور آپس میں خوشگواریاں بڑھتی ہیں ۔

بہر حال یہ خیال خام ہے، کیونکہ یورپ کے ممالک انگلستان ،جرمنی اور فرانس کی تہذیب اہک،تمدن ایک ،نسل ایک،کلچر ایک ،ثقافت ایک، کپڑوں کی نوعیت ایک ،نشست و برخواست ایک ،چلنے پھرنے کھانے پینے کا انداز ایک ،اتنی ساری یکسانیت کے باوجود پوری دنیا میں تباہی مچانے والی دو عالمگیر جنگیں ان ہی ممالک کی باہمی لڑائی کا نتیجہ تھیں ۔
میں نے عرض کیا کہ جو اندیشے مسلمانوں کے اطراف منڈلا رہے ہیں، ان میں سب سے خطر ناک آج یونیفارم سول کوڈ کی تدوین اور اس کے ملک میں نفاذ کا ہے ۔۔ یاد رہے کہ ہندوستان میں تمام تعزیراتی PENAl، فوجداری اور دیوانی civil قوانین یکساں ہیں ،ان کے نفاذ اور اطلاق میں ہندؤ مسلمان ،سکھ ،عیسائی بودھ پارسی کی بنیاد پر کوئی فرق نہیں ،سب پر ان کا اطلاق اور نفاذ ہوتا ہے ۔فرق صرف پرسنل لا یعنی عائلی قانون کے بارے میں ہے۔پرسنل لا سے مراد وہ قوانین ہیں ،جو ایک خاندان کی تشکیل اور خاندان کے افراد کے درمیان حقوق اور ذمہ داریوں کے تعین کے بارے میں ہوتے ہیں۔خاندان وجود میں آتا ہے ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان شادی بیاہ سے اور اس خاندان کے افراد ماں باپ بھائی بہن بیٹا بیٹی کے درمیان فرائض و حقوق کا معاملہ آتا ہے اور اس قانون کی آخری منزل موت کے بعد مرنے والے کی چھوڑی ہوئی جائیداد کی تقسیم یعنی وراثت اور جانشینی سے متعلق ہے اور یہ تمام معاملات وہ ہیں جو مذہب طے کرتا ہے ۔اس لئے شادی ، علیحدگی ،نفقہ ،ترکہ ،وراثت ،ہبہ وصیت کے بارے میں ملک کے ہرمذہبی طبقے کے اپنے اپنے قوانین ہیں ۔

1950ء کے دہے میں حکومت ہند نے ہندوؤں کے لئے یکساں قوانین بنانے کی کوشش کی کیونکہ ہندوؤں میں ذاتی ،علاقے اور طبقے کے اعتبار سے قوانین الگ الگ تھے ۔مگر حکومت اپنے مقصد اور ہدف میں ناکام رہی، کیونکہ ہر قانون میں رواج کو تسلیم کرتے ہوئے رواج کی موجودگی میں قانون کو نظر انداز کرنے اور اس سے صرف نظر کرنے کی اجازت دی گئی ۔ذاتی اور طبقے کے ساتھ ساتھ شمال اور جنوب کی ایک ہی ذاتوں میں اختلاف ہے ۔جنوبی ہند میں تامل ناڈو ،کرناٹک اور آندھرا میں ماموں اور بھانجی کے درمیان بیاہ عام ہے ۔بہن اپنے چھوٹے بھائی کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اس کی بیٹی سے شادی کرے ورنہ ناراض ہوجاتی ہے ۔شمالی ہند کے ہندوؤں میں ایسا خیال بھی پاپ ہے ،ایسی متعدد مثالیں دی جاسکتی ہیں ،غرض یہ کہ ملک کے ہندوؤں میں پرسنل لا کی یکسانیت پیدا نہیں کی جاسکتی اور یہ کسی بھی طرح ممکن نہیں ہے ،قبائلی علاقوں قبائلی نظام ہے وہ کسی طرح سے اس سے دستبردار نہیں ہوسکتے ، ناگا اور آدی واسی اس کی واضح مثال ہیں ۔
ہمارے برادران وطن یہ خیال کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ یونیفارم سول کوڈ رہے گا ،لیکن رواج پر عمل کرنے کی اجازت بھی رہے گی ۔ اس لئے ضروری ہے کہ یہیں پر ملک کے عوام کے اس بڑے طبقے کی اس غلط فہمی کو دور کیا جائے ،تاکہ وہ محسوس کرسکیں کہ یونیفارم سول کوڈ بنے گا، تو ان کے رواج بھی ختم ہوں گے ۔ان میں اکثر کو یہ غلط فہمی ہے کہ صرف مسلمانوں کا قانون ختم ہوگا ہمارے رواج باقی رہیں گے ۔


جہاں تک مسلمانوں کی بات ہے تو جیسا کہ اوپر بھی ہم اس کا ذکر کرچکے ہیں کہ مسلم پرسنل لا ان کے نزدیک قانون شریعت کا حصہ ہے ،اس لئے اس کے تحفظ کی ذمہ داری ہر ہر مسلمان پر عائد ہوتی ہے ۔ اس لئے ہر مسلمان کو مسلم پرسنل لا اور اس کے متعلق جزئیات کا ضروری علم ہونا چاہیے اور ان کو عائلی قوانین کی صحت پر پورا یقین اور بھروسہ ہونا چاہیے کہ انہیں قوانین کے ذریعہ مسلم معاشرہ کی صلاح و فلاح ہوسکتی ہے اور یہ عائلی اور شخصی قوانین الگ الگ مسلم افراد پر پورے خاندان پر مسلم معاشرہ میں صحیح طور پر جاری و نافذ ہونا چاہیے ۔


لیکن آج مسلمانوں میں چار طرح کے لوگ آپ کو ملیں گے یا یہ کہیئے کہ مسلمانوں میں چار طبقات پائے جاتے ہیں ۔ایک وہ طبقہ ہے جن کو اسلامی قوانین کے بارے میں اور مسلم پرسنل لا سے متعلق اچھی معلومات ہیں لیکن ان کی تعداد کم ہے۔دوسرا وہ طبقہ ہے جسے قرآن و حدیث سے اسلامی قوانین کا علم حاصل نہیں لیکن یہ طبقہ پڑھا لکھا ہے ۔اسلام کا وفادار اور دین کا احترام کرنے والا ہے ۔ایمان داری کے ساتھ مسلم پرسنل لا میں بعض دشواریاں محسوس کرتا ہے ۔تیسرا وہ طبقہ ہے جو صرف اپنے کو مسلمانوں کا نمائندہ کہتا ہے، لیکن اسلام سے زیادہ مغربی افکار و نظریات کا وفادار ہے اور شریعت سے کہیں زیادہ ترقی پسندی کا علمبردار ہے ۔اور چوتھا طبقہ عام مسلمانوں کا ہے، جو اپنے علم و شعور کی حد تک دین پر عمل پیرا ہے اور یہ طبقہ کسی حال میں مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کے لئے تیار نہیں ہے۔ ہمارا اصل ہدف اور میدان اسی طرح کے لوگ ہیں، جن پر ہم محنت کرکے ان کی اصلاح بہت حد تک کرسکتے ہیں، باقی محنت تو اور طبقوں پر بھی کرنی ہے ۔۔
اس لئے ضرورت ہے کہ ہم اسلامی قوانین کو سمجھیں ان پر عمل پیرا ہوں اور ساتھ ہی مسلم پرسنل لا کی تفصیلات کا ہمیں بھرپور علم ہو ،مسلم پرسنل لا سے متعلق قوانین کے استعمال کا صحیح طریقہ معلوم ہو، کیونکہ اگر ہم سے اس معاملہ لغزش ہوئی تو مخالفین کو طاقت ملے گی اور وہ اس کو ہمارے خلاف استعمال کریں گے ۔۔۔۔۔۔


نوٹ ۔مختلف مراجع و مصادر کی روشنی میں یہ مضمون تیار کیا گیا ہے ۔۔۔۔
ناشر/ مولانا علاؤ الدین ایجوکیشنل سوسائٹی جھارکھنڈ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button