مضامین

علم کی "آن لائن” شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب!

مولانابدیع الزماں ندوی قاسمی

کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سےجہاں دنیا کے ہر شعبے میں حسبِ ضرورت کئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں وہیں تعلیمی شعبے میں بھی بہت کچھ بدل رہا ہے۔ اس بدلاؤ میں ” آن لائن کلاس ” سرِفہرست ہے۔
یوں تو” آن لائن کلاسوں ” کا رواج پوری دنیا میں پہلے سے ہی موجود تھا ، لیکن بھارت کے اکثر طلبہ و طالبات کے لیے درس و تدریس کا یہ ایک بالکل نیا طریقہ ہے ، جس کے لیے نہ ہمارے اساتذہ تیار تھے اور نہ ہی طالب علم، بلکہ ہمارا تو انفرااسٹرکچر بھی اس قابل نہیں ہے کہ ہم اس جدید طریقۂ تعلیم کو قبول کرسکیں، نہ ہی ہم جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہیں اور نہ تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت ہر گھر میں موجود ہے۔
لیکن شہری علاقوں میں تو پھر کسی حد تک اس نئے تعلیمی طریقہ کار پر عمل کیا جاسکتا ہے لیکن دیہی علاقوں میں کیا ہوگا؟ جہاں 3 جی اور 4 جی کی سہولت بھی بمشکل میسّر ہے۔ تو کیا وہاں رہنے والے ایک بار پھر پیچھے رہ جائیں؟ اس بارے میں کسی نے کچھ سوچا یا وہ ہمیشہ کی طرح نظر انداز ہوگئے؟ چیرمین انڈین کونسل آف فتویٰ اینڈ ریسرچ ٹرسٹ بنگلور و جامعہ فاطمہ للبنات مظفر پور مولانابدیع الزماں ندوی قاسمی نے مذکورہ بالاخیالات کا اظہار مختلف اخبار کے صحافیوں کے درمیان کیا۔
انہوں کہا کہ "آن لائن کلاسوں ” کے لیے ایک اچھا کمپیوٹر، کیمرا، ہیڈ فون، مائیک یا موبائل اور سب سے ضروری تیز انٹرنیٹ کنیکشن درکار ہوتا ہے، اب تیز انٹرنیٹ اور مذکورہ آلات ہر گھر میں موجود نہیں ہیں اور موجود ہیں بھی تو تعداد میں ایک ایک ہیں۔ بالفرض ایک گھر میں ایک سے زیادہ بچوں کی "آن لائن کلاسیں ” ہوں تو ہر ایک بچے کے لیے یہ سارے آلات خریدنا ضروری ہیں لیکن موجودہ حالات میں جہاں ایک متوسط گھرانے کے لیے ان آلات کو خریدنے کے لیے وسائل دستیاب نہیں ہیں، تو اس بات کا خطرہ بڑھ گیا ہے کہ معاشی طور پر پسماندہ طالب علم اس نئے آن لائن طریقے کے باعث تعلیم سے مزید دُور ہوجائیں گے۔
ہمارے اساتذہ بھی مکمل طور پر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں جانتے۔ عرصہ دراز سے روایتی نظامِ تعلیم سے منسلک ہونے کی وجہ سے اب ان کے لیے اپنے کورس کو ڈیجیٹل تقاضوں کے مطابق ڈھالنا اور کیمرے کے سامنے تعلیم دینا ایک مشکل مرحلہ ہے جسے سیکھنے کی سخت ضرورت ہے۔


انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب اس کام کے لیے وقت اور پیسہ دونوں درکار ہیں۔ اس سلسلے میں تعلیمی اداروں کے ذمہ داران بھی اپنے اساتذہ کو کوئی خاطر خواہ سہولت فراہم نہیں کر رہے ہیں ، اسی طرح یہ بھی ایک المیہ ہے کہ تعلیمی اداروں کے ذمہ داران اساتذہ سے توقع کرتے ہیں کہ وہ پاور پوائنٹ پریزنٹیشن بنائیں، ویڈیو لیکچر ریکارڈ کریں اور مختلف ایپس کے ذریعے ” آن لائن کلاسیں ” لیں مگر وہ اس بارے میں کوئی واضح ہدایت پیش نہیں کرتے ہیں کہ یہ کیسے ہونا چاہیے۔
ایک 60 سالہ استاد جو تکنیکی اعتبار سے زیادہ معلومات نہیں رکھتا، ان سے اس کام کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟ نتیجتاً ان کی ملازمت خطرے میں پڑجاتی ہے اور جو اساتذہ آن لائن کلاسیں لے رہے ہیں ان کا پورا دن ان کلاسوں میں ہی گزر رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔


انہوں نے اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہ اس حوالے سے ایک اور بُری خبر یہ ہے کہ اس تمام تر محنت اور اپنی نوکری بچانے کی کوشش کے باوجود کئی تعلیمی ادارے ایسے بھی ہیں جو ان اساتذہ کو وقت پر تنخواہ نہیں دے رہے ہیں ، لیکن جس طرف جا رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ والدین ، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے لیے یہ آزمائش بہت جلد ختم ہونے والی نہیں۔ اس لیے آن لائن کلاسوں کے لیے ہمیں بچوں کو مکمل طور پر کمپیوٹر، موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال کی آزادی دینے کی ضرورت ہے ، جو شاید ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے بہتر ثابت نہ ہو۔
حال ہی میں یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران بچوں میں انٹرنیٹ کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور لاکھوں بچوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
بظاہر” آن لائن کلاسوں ” میں بچوں کے سیکھنے سے متعلق نتائج زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ وہ اپنے کورس میں حقیقی طور پر مشغول ہونے اور سیکھنے کے بجائے پاسنگ گریڈ کا کریڈٹ حاصل کرنے کے لیے ایک طرح سے وقت گزاری کر رہے ہیں۔ اساتذہ کے درس اور لیکچر کے دوران اپنے دماغ میں آنے والے سوالات کو وہ ہاتھ کھڑا کرکے پوچھ نہیں سکتے ، جس سے انہیں کورس کو سمجھنے میں بھی انتہائی دشواری کا سامنا ہے۔


غرض یہ کہ، اس وبا کے پیشِ نظر ہمیں ایسے ” آن لائن نظام ” کو اپنانے کی ضرورت ہے جس میں ہر کسی کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔ والدین بھی بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں اور ان کی "آن لائن سرگرمیوں ” پر نظر رکھیں، خاص طور پر مختلف ایپ یا انٹرنیٹ راؤٹر کے ذریعے اپنے بچوں کے کمپیوٹر اور موبائل پر لاک لگائیں تاکہ وہ انٹرنیٹ کو صرف اپنی ضرورت کے تحت ہی استعمال کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں کو چاہیے کہ وہ اپنے اساتذہ کو نہ صرف فوری طور پر کمپیوٹر اور دیگر آلات فراہم کریں بلکہ ان کو استعمال کرنے کے لیے مختلف تربیتی پروگراموں کا بھی انتظام کریں۔ ان تربیتی پروگراموں میں خاص طور پر Windows, MS Office, Internet, Zoom, Google meet وغیرہ جیسے چند اہم کمپیوٹر و آن لائن پروگرامز کی تربیت دی جائے۔
کمپیوٹر و آن لائن پروگراموں سے متعلق بنیادی تربیت نہایت کم عرصے میں ممکن ہے اور اب تو ٹیکنالوجی سے واقفیت رکھنے والے کچھ افراد نے تو تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور معلمات کے لیے خصوصی ٹریننگ کا آغاز بھی کردیا ہے جن کی مدد سے اساتذہ کو "آن لائن کلاسیں” لینے میں کافی مدد ملے گی۔


مولانا موصوف نے درد بھرے انداز میں کہا کہ ایسے وقت میں ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس مشکل وقت میں قوم کی نئی نسلوں کے مستقبل کو علم کی شمع سے دُور نہ ہونے دیں ، ایسے طلبہ جو معاشی طور پر پسماندہ ہیں ان کے کمپیوٹر آلات کا مفت اجرا اور انٹرنیٹ کی مفت ترسیل کو فوری طور پر یقینی بنائیں اور اساتذہ کے لیے آن لائن ٹیچنگ ٹریننگ کے خصوصی پروگرام ترتیب دیئے جائیں تاکہ حصول تعلیم کا سلسلہ اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود بھی جاری رہ سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button