مضامین

ایک دن دیارِ تھانوی رح و دیارِ شیخ الہند رح میں

مولانامحمد ظفیر الاسلام ندوی

دو اکتوبر 2021 بروز سنیچر پہلی بار آستانۂ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ پر حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رح کا نام نامی و اسمِ گرامی تو جب سے ہوش سنبھالا کانوں میں پڑنا شروع ہو گیا تھا، پھر جیسے جیسے شعور بڑھا، اپنے بڑوں اساتذۂ کرام، علماء کرام کی زبانوں پر عقیدت و محبت اور نہایت ادب و احترام کے ساتھ حضرت رح کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا، اور پھر آگے چل کر حضرت رحمہ اللہ کی علم و حکمت سے بھری ہوئی تصانیف بھی دیکھنے اور پڑھنے کا موقع ملا، مذکورہ اسباب اور بہت سی دیگر وجوہات سب اس بات کے متقاضی تھے کہ اپنے دل کی سیاہیوں کے باوجود ایسی عالی مقام، پاکیزہ، بزرگ ہستی سے عقیدت واحترام کے جذبات دل میں پیدا ہوتے اور شدت کے ساتھ ہوتے، اور الحمدللہ ہوئے۔

احب الصالحين و لست منهم
لعل الله يرزقني صلاحا

اسی طرح ایسی سرزمین کی زیارت کا شوق بار بار دل میں انگڑائی لیتا، جو اہلِ قلوب کا مسکن رہی اور جو سالہاسال ذکر اللہ کے نغموں سے آباد رہی، اور جس کی فضاؤں میں آج بھی دل کے کانوں سے ذکر اللہ کی صدائے بازگشت سنی جاسکتی ہے۔

رشک کرتا ہے فلک ایسی زمیں پر اسعد
جس پہ دو چار گھڑی ذکرِ خدا ہوتا ہے

لیکن ہزار تمناؤں کے باوجود اور وطن سے قربت کے باوجود ابھی تک زیارت کا شرف حاصل نہ ہو سکا تھا، اگرچہ کاندھلہ 2006 میں استاد محترم مولانا فیصل صاحب ندوی کے توسط سے مایہ ناز محقق اور مورخ مولانا نور الحسن راشد صاحب کاندھلوی کی خدمت میں دس روز رہ چکا تھا، لیکن اس کے علاوہ اطراف کے مشہور تاریخی قصبات میں جانا نہ ہوسکا تھا۔
اب اللہ نے اس کا انتظام اس طرح فرمایا کہ صفا ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے ذمہ دار مولانا مفصل مرتضیٰ ندوی اور مولانا ضیاء الرحمن ندوی صاحبان (دونوں حضرات ماشاءاللہ تعلیمی میدان میں بہت محنت و جانفشانی سے لگے ہوئے ہیں، اور کئی جگہوں پر اسکولوں کا جال بچھا دیا ہے) نے دیارِ تھانوی میں صفا گروپ آف انسٹی ٹیوشنس کی ایک شاخ صفا ماڈل اسکول کے نام سے شروع کی تقریباً ایک سال سے زائد عرصہ سے دونوں کا تھانہ بھون اکثر جانا ہوتا رہتا ہے، راقم نے کئی بار اپنی تمنا کا اظہار بھی کیا، لیکن فیصلۂ الہی یوں مقدر تھا کہ مذکورہ اسکول کی افتتاحی تقریب کا انعقاد دو اکتوبر 2021 کو طے ہوا جس میں بحیثیت ناظمِ جلسہ شرکت کی سعادت میسر ہوئی، چنانچہ دو اکتوبر بروز سنیچر فجر کی نماز جماعت سے پہلے ہی اپنی نماز پڑھ کر ہمارا قافلہ جس میں دونوں حضرات کے ساتھ صفا پبلک اسکول موانہ کے منتظم (Administrator) احمد فراز، برادرِ عزیز ضیاء الاسلام ندوی اور مولانا ندیم عباس ندوی شامل تھے، موانہ کلاں ضلع میرٹھ سے جانبِ تھانہ بھون بذریعہ کار روانہ ہوا۔
کھتولی ہوتے ہوئے تقریباً سو کلومیٹر کی مسافت پونے دو گھنٹے میں طے کرنے کے بعد ہماری کار اہل اللہ کی بستی میں داخل ہو رہی تھی، سب سے پہلے سیدھے اسکول پہنچے جہاں پروگرام کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں، اسکول کا جائے وقوع بہت خوب صورت ہے، ارد گرد آبادی کم ہے، ہرے بھرےکھیت، درخت یا سبز گھاس سے بھری ہوئی زمین کے قطعے، اسکول کے احاطے میں بھی ہری بھری گھاس اور پیڑ پودے سلیقہ سے لگائے گئے ہیں جو حسین و دلکش نظارہ پیش کر رہے ہیں۔
بہرحال طویل انتظار کے بعد مہمان تشریف لانے لگے اور ساڑھے دس بجے کے قریب پروگرام شروع ہوسکا، علاقے کے معزز حضرات تشریف لائے، بالخصوص مولانا یامین صاحب قاسمی دامت برکاتہم مبلغ دارالعلوم دیوبند، ماسٹر عادل صاحب لیکچرار لالہ لاجپت رائے انٹر کالج تھانہ بھون و دیگر ماہرین تعلیم و دانشوران، الحمدللہ بہت کامیاب پروگرام رہا۔

نمازِ ظہر سے فارغ ہونے کے بعد آستانۂ تھانوی کی طرف دل میں شدید اشتیاق پیدا ہورہا تھا، آخرکار تمام ضروری انتظامات سے نمٹنے کے بعد شوق کے پروں پر سوار ہوکر ہمارا کارواں خانقاہِ امدادیہ اشرفیہ میں پہنچ چکا تھا، یہ وہ جگہ ہے جہاں وقت کے اہل اللہ، اہلِ قلوب اور اہلِ علم اپنے نورانی و روحانی فیوض و برکات اور باطنی کمالات کے ذریعہ تزکیۂ نفوس و تطہیرِ قلوب اور اصلاحِ عوام و خواص کا وہ عظیم الشان کارنامہ انجام دے چکے ہیں جس کے سامنے اصلاحِ معاشرہ کے نام پر لاکھوں روپیوں کے خرچ سے ہونے والی بڑی بڑی کانفرسیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں،

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

یہاں پہنچ کر مولانا جان محمد صاحب (خانقاہ میں چلنے والے مدرسہ امداد العلوم کے مدرس) نے بزرگوں کے باقیات صالحات کا تعارف کرایا،

ﭼﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﺨﺖ ﭘﺮ ﺟﺲ ﺩﻡ ﺷﮧِ ﮔُﻞ ﮐﺎ ﺗﺠﻤﻞ ﺗﮭﺎ
ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺑُﻠﺒُﻠﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺑﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﺷﻮﺭ ﺗﮭﺎ ﻏُﻞ ﺗﮭﺎ
ﮐُﮭﻠﯽ ﺟﺐ ﺍٓﻧﮑﮫ ﻧﺮﮔﺲ ﮐﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﺎﺟُﺰﺧﺎﺭ ﮐﭽﮫ ﺑﺎﻗﯽ
!! ﺑﺘﺎﺗﺎ ﺑﺎﻏﺒﺎﮞ ﺭﻭ ﺭﻭ ﯾﮩﺎﮞ ﻏﻨﭽﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﮔُﻞ ﺗﮭﺎ

اصل میں یہ ایک چھوٹی سی دو صف کی مسجد تھی یہ تاریخ میں مسجد پیر محمد کے نام سے مشہور ہے جو وہاں پر لگے ایک کتبہ کے مطابق اورنگ زیب عالمگیر رح (1027 ھ – 1118ھ) کے زمانے میں سن 1114ھ میں بنائی گئی تھی، اب اس میں توسیع کر دی گئی ہے لیکن اصل پرانی مسجد کے نشانات محراب وغیرہ کو باقی رکھا گیا ہے، مسجد سے متصل دو بہت چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں جن کو کمرہ کہنا بھی مشکل ہے ان میں ایک خلوت گاہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ (1233ھ -1317ھ) اور دوسری خلوت گاہ حضرت حافظ محمد ضامن شہید رحمۃ اللہ علیہ (1809ء – 1857ء) اور ایک مختصر سا برآمدہ جہاں حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ (1280ھ – 1362ھ) دوائے دل بیچتے تھے

وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گیے

یہاں پر حضرت تھانوی رح کی بنائی ہوئی ایک شمسی گھڑی بھی دیکھی جس کے ذریعہ وقت اور سایۂ اصلی، مثل اول و مثل ثانی آسانی سے معلوم ہوجاتا ہے۔
ہمارے ایک رفیقِ سفر مولانا ندیم ندوی تمام مناظر کو اپنے موبائل میں قید کر رہے تھے اس لیے تحریر کے ساتھ تصاویر بھی منسلک ہیں۔
خانقاہ کی زیارت سے فارغ ہوکر مرقدِ تھانوی رح پر فاتحہ خوانی کے لیے روانہ ہوئے یہ حضرت رح کا ذاتی باغ تھا جس میں اب مسجد بھی بنی ہوئی ہے اور سبزہ زاروں و ہرے بھرے درختوں کے ایک احاطہ میں چند کچی قبریں ہیں ان میں نشانی کے لیے حضرت کی قبر کے سرہانے ایک چھوٹا سا پتھر لگا دیا گیا ہے، باغ کے مالی نے قبروں کا تعارف کرایا،
آسماں اس لحد پر شبنم افشانی بھی کرتا ہے اور سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی بھی اور بے شمار رحمتیں اور برکتیں اس قبر پر نازل ہوتی ہونگی۔
قریب ہی حضرت حافظ ضامن شہید رحمۃ اللہ علیہ (1857ء میں شاملی کے میدان میں انگریزوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے) کی قبر ہے وہاں بھی حاضری ہوئی۔

نہ ایراں میں رہے باقی نہ توراں میں رہے باقی
وہ بندے فقر تھا جن کا ہلاکِ قیصر و کسریٰ

اس کے بعد پورقاضی ضلع مظفر نگر ہوتے ہوئے واپسی کا ارادہ تھا لیکن رفقاء کی رائے ہوئی کہ دیوبند چلا جائے، لہٰذا دیارِ تھانوی رح سے دیارِ شیخ الہند رح کی طرف رخ موڑ دیا گیا، دیوبند اگرچہ متعدد بار آنا ہوچکا ہے لیکن اہلِ علم و فضل کا مرکز رہ چکے اور ایشیا کی عظیم الشان علمی و دینی درسگاہ ہونے کے ناطے بار بار دل اس کی طرف کو کھنچتا ہے، بہرحال عصر کی نماز ہوچکی تھی کہ ہم مسجد رشید کی عالی شان، پرشکوہ اور دیدہ زیب عمارت میں داخل ہو رہے تھے اب پھر مسجد کی خوب صورتی، چمک دمک اور دلکشی و رعنائی نے رفقاء کو تصویر کشی پر مجبور کر دیا، مسجد رشید میں عصر کی نماز قصر ادا کی، یہاں پر کوئی خاص ملاقات نہ ہو سکی، صرف مولانا مہدی حسن صاحب عینی (ڈائریکٹر دیوبند اسلامک اکیڈمی) سے راستہ ہی میں مختصر سی ملاقات ہوئی، آنے کا وعدہ کرکے گیے اور پھر کسی وجہ نہ آسکے، کچھ کپڑے وغیرہ خریدے اور پھر ہمارے ایک رفیقِ سفر کی خالہ کے یہاں ناشتہ کیا اور واپسی کے لیے گاڑی میں سوار ہوگیے، الحمدللہ خوش گپیوں، ظرافتوں اور مذاق و مزاح کے ساتھ بخیر و عافیت رات ساڑھے گیارہ بجے سفر تکمیل کو پہنچا۔

دو اکتوبر 2021 بروز سنیچر پہلی بار آستانۂ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ پر حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رح کا نام نامی و اسمِ گرامی تو جب سے ہوش سنبھالا کانوں میں پڑنا شروع ہو گیا تھا، پھر جیسے جیسے شعور بڑھا، اپنے بڑوں اساتذۂ کرام، علماء کرام کی زبانوں پر عقیدت و محبت اور نہایت ادب و احترام کے ساتھ حضرت رح کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا، اور پھر آگے چل کر حضرت رحمہ اللہ کی علم و حکمت سے بھری ہوئی تصانیف بھی دیکھنے اور پڑھنے کا موقع ملا، مذکورہ اسباب اور بہت سی دیگر وجوہات سب اس بات کے متقاضی تھے کہ اپنے دل کی سیاہیوں کے باوجود ایسی عالی مقام، پاکیزہ، بزرگ ہستی سے عقیدت واحترام کے جذبات دل میں پیدا ہوتے اور شدت کے ساتھ ہوتے، اور الحمدللہ ہوئے۔

احب الصالحين و لست منهم
لعل الله يرزقني صلاحا

اسی طرح ایسی سرزمین کی زیارت کا شوق بار بار دل میں انگڑائی لیتا، جو اہلِ قلوب کا مسکن رہی اور جو سالہاسال ذکر اللہ کے نغموں سے آباد رہی، اور جس کی فضاؤں میں آج بھی دل کے کانوں سے ذکر اللہ کی صدائے بازگشت سنی جاسکتی ہے۔

رشک کرتا ہے فلک ایسی زمیں پر اسعد
جس پہ دو چار گھڑی ذکرِ خدا ہوتا ہے

لیکن ہزار تمناؤں کے باوجود اور وطن سے قربت کے باوجود ابھی تک زیارت کا شرف حاصل نہ ہو سکا تھا، اگرچہ کاندھلہ 2006 میں استاد محترم مولانا فیصل صاحب ندوی کے توسط سے مایہ ناز محقق اور مورخ مولانا نور الحسن راشد صاحب کاندھلوی کی خدمت میں دس روز رہ چکا تھا، لیکن اس کے علاوہ اطراف کے مشہور تاریخی قصبات میں جانا نہ ہوسکا تھا۔
اب اللہ نے اس کا انتظام اس طرح فرمایا کہ صفا ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے ذمہ دار مولانا مفصل مرتضیٰ ندوی اور مولانا ضیاء الرحمن ندوی صاحبان (دونوں حضرات ماشاءاللہ تعلیمی میدان میں بہت محنت و جانفشانی سے لگے ہوئے ہیں، اور کئی جگہوں پر اسکولوں کا جال بچھا دیا ہے) نے دیارِ تھانوی میں صفا گروپ آف انسٹی ٹیوشنس کی ایک شاخ صفا ماڈل اسکول کے نام سے شروع کی تقریباً ایک سال سے زائد عرصہ سے دونوں کا تھانہ بھون اکثر جانا ہوتا رہتا ہے، راقم نے کئی بار اپنی تمنا کا اظہار بھی کیا، لیکن فیصلۂ الہی یوں مقدر تھا کہ مذکورہ اسکول کی افتتاحی تقریب کا انعقاد دو اکتوبر 2021 کو طے ہوا جس میں بحیثیت ناظمِ جلسہ شرکت کی سعادت میسر ہوئی، چنانچہ دو اکتوبر بروز سنیچر فجر کی نماز جماعت سے پہلے ہی اپنی نماز پڑھ کر ہمارا قافلہ جس میں دونوں حضرات کے ساتھ صفا پبلک اسکول موانہ کے منتظم (Administrator) احمد فراز، برادرِ عزیز ضیاء الاسلام ندوی اور مولانا ندیم عباس ندوی شامل تھے، موانہ کلاں ضلع میرٹھ سے جانبِ تھانہ بھون بذریعہ کار روانہ ہوا۔
کھتولی ہوتے ہوئے تقریباً سو کلومیٹر کی مسافت پونے دو گھنٹے میں طے کرنے کے بعد ہماری کار اہل اللہ کی بستی میں داخل ہو رہی تھی، سب سے پہلے سیدھے اسکول پہنچے جہاں پروگرام کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں، اسکول کا جائے وقوع بہت خوب صورت ہے، ارد گرد آبادی کم ہے، ہرے بھرےکھیت، درخت یا سبز گھاس سے بھری ہوئی زمین کے قطعے، اسکول کے احاطے میں بھی ہری بھری گھاس اور پیڑ پودے سلیقہ سے لگائے گئے ہیں جو حسین و دلکش نظارہ پیش کر رہے ہیں۔
بہرحال طویل انتظار کے بعد مہمان تشریف لانے لگے اور ساڑھے دس بجے کے قریب پروگرام شروع ہوسکا، علاقے کے معزز حضرات تشریف لائے، بالخصوص مولانا یامین صاحب قاسمی دامت برکاتہم مبلغ دارالعلوم دیوبند، ماسٹر عادل صاحب لیکچرار لالہ لاجپت رائے انٹر کالج تھانہ بھون و دیگر ماہرین تعلیم و دانشوران، الحمدللہ بہت کامیاب پروگرام رہا۔

نمازِ ظہر سے فارغ ہونے کے بعد آستانۂ تھانوی کی طرف دل میں شدید اشتیاق پیدا ہورہا تھا، آخرکار تمام ضروری انتظامات سے نمٹنے کے بعد شوق کے پروں پر سوار ہوکر ہمارا کارواں خانقاہِ امدادیہ اشرفیہ میں پہنچ چکا تھا، یہ وہ جگہ ہے جہاں وقت کے اہل اللہ، اہلِ قلوب اور اہلِ علم اپنے نورانی و روحانی فیوض و برکات اور باطنی کمالات کے ذریعہ تزکیۂ نفوس و تطہیرِ قلوب اور اصلاحِ عوام و خواص کا وہ عظیم الشان کارنامہ انجام دے چکے ہیں جس کے سامنے اصلاحِ معاشرہ کے نام پر لاکھوں روپیوں کے خرچ سے ہونے والی بڑی بڑی کانفرسیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں،

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

یہاں پہنچ کر مولانا جان محمد صاحب (خانقاہ میں چلنے والے مدرسہ امداد العلوم کے مدرس) نے بزرگوں کے باقیات صالحات کا تعارف کرایا،

ﭼﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﺨﺖ ﭘﺮ ﺟﺲ ﺩﻡ ﺷﮧِ ﮔُﻞ ﮐﺎ ﺗﺠﻤﻞ ﺗﮭﺎ
ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺑُﻠﺒُﻠﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺑﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺍﮎ ﺷﻮﺭ ﺗﮭﺎ ﻏُﻞ ﺗﮭﺎ
ﮐُﮭﻠﯽ ﺟﺐ ﺍٓﻧﮑﮫ ﻧﺮﮔﺲ ﮐﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﺎﺟُﺰﺧﺎﺭ ﮐﭽﮫ ﺑﺎﻗﯽ
!! ﺑﺘﺎﺗﺎ ﺑﺎﻏﺒﺎﮞ ﺭﻭ ﺭﻭ ﯾﮩﺎﮞ ﻏﻨﭽﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﮔُﻞ ﺗﮭﺎ

اصل میں یہ ایک چھوٹی سی دو صف کی مسجد تھی یہ تاریخ میں مسجد پیر محمد کے نام سے مشہور ہے جو وہاں پر لگے ایک کتبہ کے مطابق اورنگ زیب عالمگیر رح (1027 ھ – 1118ھ) کے زمانے میں سن 1114ھ میں بنائی گئی تھی، اب اس میں توسیع کر دی گئی ہے لیکن اصل پرانی مسجد کے نشانات محراب وغیرہ کو باقی رکھا گیا ہے، مسجد سے متصل دو بہت چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں جن کو کمرہ کہنا بھی مشکل ہے ان میں ایک خلوت گاہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ (1233ھ -1317ھ) اور دوسری خلوت گاہ حضرت حافظ محمد ضامن شہید رحمۃ اللہ علیہ (1809ء – 1857ء) اور ایک مختصر سا برآمدہ جہاں حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ (1280ھ – 1362ھ) دوائے دل بیچتے تھے

وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گیے

یہاں پر حضرت تھانوی رح کی بنائی ہوئی ایک شمسی گھڑی بھی دیکھی جس کے ذریعہ وقت اور سایۂ اصلی، مثل اول و مثل ثانی آسانی سے معلوم ہوجاتا ہے۔
ہمارے ایک رفیقِ سفر مولانا ندیم ندوی تمام مناظر کو اپنے موبائل میں قید کر رہے تھے اس لیے تحریر کے ساتھ تصاویر بھی منسلک ہیں۔
خانقاہ کی زیارت سے فارغ ہوکر مرقدِ تھانوی رح پر فاتحہ خوانی کے لیے روانہ ہوئے یہ حضرت رح کا ذاتی باغ تھا جس میں اب مسجد بھی بنی ہوئی ہے اور سبزہ زاروں و ہرے بھرے درختوں کے ایک احاطہ میں چند کچی قبریں ہیں ان میں نشانی کے لیے حضرت کی قبر کے سرہانے ایک چھوٹا سا پتھر لگا دیا گیا ہے، باغ کے مالی نے قبروں کا تعارف کرایا،
آسماں اس لحد پر شبنم افشانی بھی کرتا ہے اور سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی بھی اور بے شمار رحمتیں اور برکتیں اس قبر پر نازل ہوتی ہونگی۔
قریب ہی حضرت حافظ ضامن شہید رحمۃ اللہ علیہ (1857ء میں شاملی کے میدان میں انگریزوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے) کی قبر ہے وہاں بھی حاضری ہوئی۔

نہ ایراں میں رہے باقی نہ توراں میں رہے باقی
وہ بندے فقر تھا جن کا ہلاکِ قیصر و کسریٰ

اس کے بعد پورقاضی ضلع مظفر نگر ہوتے ہوئے واپسی کا ارادہ تھا لیکن رفقاء کی رائے ہوئی کہ دیوبند چلا جائے، لہٰذا دیارِ تھانوی رح سے دیارِ شیخ الہند رح کی طرف رخ موڑ دیا گیا، دیوبند اگرچہ متعدد بار آنا ہوچکا ہے لیکن اہلِ علم و فضل کا مرکز رہ چکے اور ایشیا کی عظیم الشان علمی و دینی درسگاہ ہونے کے ناطے بار بار دل اس کی طرف کو کھنچتا ہے، بہرحال عصر کی نماز ہوچکی تھی کہ ہم مسجد رشید کی عالی شان، پرشکوہ اور دیدہ زیب عمارت میں داخل ہو رہے تھے اب پھر مسجد کی خوب صورتی، چمک دمک اور دلکشی و رعنائی نے رفقاء کو تصویر کشی پر مجبور کر دیا، مسجد رشید میں عصر کی نماز قصر ادا کی، یہاں پر کوئی خاص ملاقات نہ ہو سکی، صرف مولانا مہدی حسن صاحب عینی (ڈائریکٹر دیوبند اسلامک اکیڈمی) سے راستہ ہی میں مختصر سی ملاقات ہوئی، آنے کا وعدہ کرکے گیے اور پھر کسی وجہ نہ آسکے، کچھ کپڑے وغیرہ خریدے اور پھر ہمارے ایک رفیقِ سفر کی خالہ کے یہاں ناشتہ کیا اور واپسی کے لیے گاڑی میں سوار ہوگیے، الحمدللہ خوش گپیوں، ظرافتوں اور مذاق و مزاح کے ساتھ بخیر و عافیت رات ساڑھے گیارہ بجے سفر تکمیل کو پہنچا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button