اتر پردیش

"کیا ہوئے یہ لوگ”اور ہمارے شاہ صاحب

مطالعہ نگار:

سید محمد ریاض ندوی کھجناوری
رئیس: جامعة الحسنین صبریپور

رئیس القلم مولانا نسیم اختر شاہ قیصر صاحب دامت برکاتھم کا غائبانہ تعارف تو سالہا سال سے تھا،لیکن پہلی یادگار ملاقات اس وقت ہوئی جب آپ چند سال قبل ہمارے غریب خانہ کھجناور تشریف لائے، اس ملاقات میں ہم زیادہ استفادہ نہ کرسکے،چونکہ اس وقت والد محترم مولانا سید عبد الماجد صاحب قاسمی دامت برکاتھم سے گفت و شنید ہوئی،تو ہم ان حضرات کی باتوں سے محظوظ ولطف اندوز ہوتے رہے،اور بہت سی تاریخی باتیں،قدیم رشتہ داریوں کا علم ہوا،اس کے بعد مولانا کی تحریروں کو پڑھنا شروع کیا،مولانا نے اپنے یہاں آنے کی دعوت دی،بڑی خندہ پیشانی سے ملے،مہمان نوازی کا حق ادا کیا،ان کے عمل سے معلوم ہوا،کہ ان کے یہاں مہمان آئے ہو ئے ہیں،اور اس پر مہربانی کہ اپنی تحریرکردہ کتاب "میرے عہد کا دار العلوم” ہمارے ایک رفیق کے کہنے پر عنایت کی۔
دربارِ شاہ سے واپسی پر(ہم رفقاء واحباب میں ان کو شاہ صاحب سے پکارتے ہیں ) دل نے بے اختیار ان کے نغمے گانے شروع کردئیے،یہ ان کے اخلاق کریمانہ،انداز شفیقانہ کا کرشمہ تھا،اور محبت واپنائیت کا وہ احساس تھا،جو انہوں نے چند گھنٹے میں رگ جاں کردیا تھا، جس نے اس تعلق میں مزید پختگی پیدا کی، میرے عہد کا دارالعلوم مطالعہ کی میز پر آگئی ،پڑھی ،کئی بار پڑھی، ہر مرتبہ نئی تازگی محسوس ہوئی،مادرعلمی سے محبتوں کا انکشاف، عنایتوں کا اظہار، اساتذہ کی جانب سے نچھاور ہونیوالی لا زوال شفقتوں کا تذکرہ اور محبت کے سمندر میں غرق ہوکر بلکہ مادر علمی سے عشق وفدائیت کی مکمل تصویر بن کر اپنی فکر کو اوراق کی زینت بنا کر پیش کیا گیا ہے،یہی ایک ادیب کا کمال ہے،یہ کتاب پڑھ کر مجھے آپ کے طرز نگارش نے مسحور کردیا،اور اپنا گرویدہ بنالیا، سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اس سے مثبت فوائد اٹھا نا اپنے وقت کو کار آمد بنانا ہے،اور وقت کا صحیح استعمال ہی مستقبل کی کامیابی کی دلیل ہے،جبکہ لاک ڈاؤن کا زمانہ تو موبائل چلانے کے لئے بھی مشہور رہا،پھر ریختہ Rekhta پر آپ کی تحریریں پڑھیں،جن میں "میرے عہد کے لوگ” "شیخ انظر” "سید محمد ازہر شاہ قیصر ایک ادیب،ایک صحافی” "حرف تابندہ”

ایک روز واٹس ایپ پر یک لخت آٹھ کتابوں کے ٹائٹل نظر آئے،سب پر جلی حروف میں ہمارے شاہ صاحب کانامِ نامی رقم تھا، خوشی کی انتہا نہ رہی، اور حیرت اس بات پر ہوئی،اتنامصروف انسان اور آٹھ کتابیں ایک ساتھ ،پھر یقین آیا، کہ مصروف انسان ہی اپنے وقت کو کارآمد بناکر ایک تاریخ رقم کرتا ہے،جس پر صدیاں ناز کرتی ہیں،ان کے نزدیک وقت بے حد قیمتی ہے اس کی قدر کی جانی چاہئے پر عمل ہے، وہ مانتے ہیں اگر زندگی کسی کے کام آجائے، تو تحسین کے لائق ہے،وہ کسی کو فائدہ پہنچانے کے عمل کو وجہ تبریک اور قابل تعریف گردانتے ہیں،جس انسان کی فکرانسانیت کی ان اعلٰی قدروں کی غماز ہو تو اس کے قلم سے نکلنے والی تحریریں اپنے اندر جاذبیت اور کشش کا اعلی نمونہ کیوں نہ ہونگی۔ کسی نے سچ لکھا
عرفان ذات کے بغیر عرفان کائنات کی تمنا کسی دیوانے کا خواب ہے۔

وہ وقت بھی آن پہونچا جب سر زمین دیوبند میں چنیدہ اشخاص کی موجودگی میں ان کتابوں کا اجراء عمل میں آیا اور میں ان لمحات کا انتظار کرررہاتھا کب یہ ٹائٹل کتابی شکل میں سامنے آئیں اور آنکھوں کی رونق بنیں۔

ایک روز برادر عزیز مولانا فتح محمد ندوی صاحب کے ذریعہ آپ کی عطیہ کردہ کتب کا ہدیہ غالیہ ملا، دیکھ کر خوشی کی انتہا نہ رہی،علی الفور سرسری طور پر تمام کتابوں کو دیکھ ڈالا،ایک سے بڑھ کر ایک آپ کے قلم کی کائنات تھی، پھر وہی اپنا پسندیدہ اور جاں سے زیادہ عزیز موضوع خاکہ نگاری پر آکر نگاہ ٹہر گئی، دیکھا، تو "کیا ہوئے یہ لوگ ” نظروں کے سامنے تھی،اور اپنے دیدہ زیب دستی ٹائٹل سے آنکھوں کی روشنی بڑھارہی تھی،بقیہ سات کتابوں کے نام اس طرح ہیں۔

فخر المحدثین حضرت مولانا سید انظر شاہ مسعودیؒ زندگی کے چند اوراق،سیرت آقائے نامدار واقعات کے آئینہ میں،امام العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ زندگی کے چندروشن اوراق،رئیس القلم مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصرؒ زندگی کے چند روشن اوراق،وہ قومیں جن پر عذاب آیا،اکابر دیو بند (اختصاصی پہلو)کیا ہوئے یہ لوگ،

خاکہ نگاری میں مولانا نسیم اختر شاہ قیصر کانام محتاج تعارف نہیں،بنیادی طور پر ان کی شناخت ایک خاکہ نگار، تجزیہ نگار(پھول نگار، نقش نگار) کی ہے،ان کی تحریریں زبان وادب کی آبرو ہیں،اپنے انداز فکر اور انداز نگارش میں منفرد ہیں،جو بات لکھتے ہیں سلیقہ وشگفتگی سے لکھتے ہیں،حسن ابلاغ کے فن سے پورے طور پر واقف ہیں،اور حقیقت تویہ ہے کہ قلم پر ان کا اقتدار ہے،وہ جب قلم ہاتھ میں پکڑتے ہیں تو جدید سحر آفریں ادبی تعبیرات،حسین تراکیب، اور دل نشیں بندشیں ان کو سلامی دیتی ہیں،ان کا انداز تحریر اگر ایک جانب انجذاب وکشش کے اعلی مقام پر ہے،تو وہیں علم وفن کا بھی ایک دبستان ہے،یہی وجہ ہے کہ بلندیاں انہیں سلام کرتی ہیں، جب بھی ان کی کوئی تحریر سامنے آتی ہے،تو وہ قارئین کی نگاہوں کا مرکز بن جاتے ہیں،اور قلمی فضا پر چھا جاتے ہیں، اسی وجہ سے آپ کو ادب وانشا میں اتھارٹی حاصل ہے۔

"کیا ہوئےیہ لوگ” میں شاہ صاحب نے اپنے کئی کردار اور روپ پیش کئے ہیں کبھی چھوٹے بھائی بن کر سید راحت شاہ صاحبؒ کی حیات لکھی، جن کے ساتھ بیتے ہوئے لمحات اور ان کی شفقت ومحبت کی داستان سے دل کی انگیٹھی کو گرمایا ہے،اور اپنے دیرینہ تعلقات کو ہوا دی ہے،اور اتنا جامع لکھا کہ ایک مضمون میں ان کا سراپا سامنے آگیا ہے،پھر قلم رات کی تنہائی اور سناٹے میں آگے بڑھتا ہے تو آپ کی انشاپردازی کا آئینہ دکھاتے ہوئے سراج السلوک حضرت مولانا سید اصغر حسین میاں صاحبؒ کی نامور علمی شخصیت گوناگوں خصوصیات وامتیازات اور کمالات کا نقش رنگتا ہے،اور اس عالم ربانی کے پاکیزہ اوصاف کو ظاہر کرتے ہوئے ان کو اسیر مالٹا حضرت شیخ الھندؒکے ارشد تلامذہ میں شامل کرکے ان کے علمی مقام اور جلالت شان کو واضح کردیتا ہے،پھر باوضو ہوکر بیٹھتے ہیں اور تذکرہ چھیڑتے ہیں حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری طیب صاحبؒ کی حیات ممتاز کا،تو ان کا قلم عقیدت و محبت اور ادب کی تصویر بن کر ان کو دارالعلوم کے معماروں میں شمار کرتا ہے، اور ان کو شخص نہیں بلکہ شخصیت، نام نہیں بلکہ تحریک، فرد نہیں بلکہ انجمن کے زمرہ میں لاکر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، اور ان کے دنیا سے پردہ فرمانے پر یہ محسوس کرتے ہیں کہ آج ہی قاسم نانوتویؒ ،شیخ الھندؒ،اور انور شاہ کشمیریؒ کو بھی کاندھا دیا ہے،اسی مضمون کے اختتام پر یوں لکھتے ہیں:
اے حکیم الاسلامؒ، اے شبلئ دوراں،اے یکتائے زمانہ،اے ملکوتی صفات انسان،اے فرشتہ پیکر شخص تو ہزاروں ہزار دعاؤں کے ساتھ رخصت ہو،تو نے جو کچھ ہمیں دیا اس کو کبھی نہ بھلائیں گے،اور اس کے بدلے ہم تجھے کچھ نہ دے سکے اس کا احساس بھی تمام عمر ہمارے دلوں کو زخمی اور مجروح کرتا رہے گا۔
پھر ایک صاحب علم وفضل انسان حضرت مولانا فخر الحسن صاحبؒ کی علمی زندگی ان کے کارہائے نمایاں خصوصاان کی وقت کی پائبندی کو جامعیت کے ساتھ سمویا ہے،پھر تدریسی مشغولیات سے فارغ ہوکر بیٹھتے ہیں اور قلم ہاتھ میں لیتے ہیں،اور علم وفضل کے ایک سورج،خاندان قاسمی کے چشم وچراغ اور جماعت دیوبند کے اعتبار واعتماد حضرت مولانا سالم قاسمی صاحبؒ کا سفر آخرت رقم فرماتے ہیں،ایک عالم باعمل، بزرگ و برتر،صاحب نسبت کی زندگی کو آئینہ دکھاتے ہیں،اور ان کی علمی عظمتوں کے سفر کی شرح کرتے ہیں آپ کی اس تحریر میں پختہ علاقہ وتعلق،علمی عقیدت بھی جھلکتی ہے۔ شعر سے اپنی محبت اور تعلق کا اظہار کرتے ہیں۔

یادوں کی گھنی چھاؤں بھی رخصت ہوئی گھر سے۔
اور مغفرت کی دعاکرتے ہوئے قلم روک دیتے ہیں،اس کتاب میں آپ کی شخصیت پر تین مضامین شامل ہیں،سب ادب کے اعلی معیار پر فائز ہیں۔
آج ایک اجلاس عام میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت اور خطاب عام ہونا ہے، ادھرادب وصحافت کے اہم ستون اور تحریروقلم کے خوبصوت عنوان مولانا سید ازہر شاہ قیصر کی ادبی وصحافتی خدمات پر قلم بھی اٹھنا ہے خیر جلد فارغ ہوکر پھر قلم پکڑتے ہیں لیکن آج قلم ہے رکنے کا نام نہیں لیتا،کیونکہ ایک شخصیت کو قلم کی نوک پر لایا گیا ہے جس کے احسانات کو شمار نہیں کیا جاسکتا اور جن کی بدولت یہ قلم ہاتھ میں ہے جس نے اس قلم کو جنبش دینا سکھایا ہے پھر کیا تھا ایک صحافی،ایک مایہ ناز ادیب،اور معروف انشاپرداز کی شکل اختیار کرگئے اور اپنے والد صاحبؒ کی نثری ونظمی ادیبانہ شان کا تجزیہ کر ڈالا،اور ان کی شگفتہ وشاداب نثر کے حوالہ سے خوب لکھا جس کی شہادت ان کی شہرہ آفاق کتاب” یادگار زمانہ ہیں یہ لوگ”میں نظر آتی ہے،ان کے دینی،ادبی،سیاسی، شخصی،وتاثراتی مضامین کی نوعیت پر بھی روشنی ڈالتے ہیں،اور لکھتے ہیں کہ برموقع وبر محل تحریر کے درمیان اشعار کا استعمال کرکے وہ اپنی تحریر کو تازگی اور تب وتاب سے گزارتے تھے۔
جن کی یادیں قلوب میں آج بھی زندہ ہیں ان میں حضرت مولانا سید انظر شاہ مسعودی کشمیریؒ کا تذکرہ کرتے ہیں چونکہ حضرت سے ایک خاندانی رشتہ ہے اس لئے اپنائیت کے ساتھ عقیدت ومحبت کی ملی جلی تحریر سامنے آتی ہے اور ان کے ممتاز وصف اردو اور فارسی شعر وادب سے قابل رشک والہانہ لگاؤکا تذکرہ کرتے ہوئےان کے دسترخوان کے تنوعات،مدارات ومہمان نوازی کا بھی ذکر کرتے ہیں جس سے مزیداکابرین کے دسترخوان کی یادیں ہوجاتی ہیں،معاًآپ کے گھریلو معاملات، اولاد کی تربیت پر دھیان پر بھی خامہ فرسائی کی ہے،پھر بات آتی ہے محدث عصر حضرت مولانا محمد یونس صاحبؒ جونپوری کی جن کو زمانہ بھلا نہیں سکتا آپ کے بارے میں وہی لکھا جو دوسرے قلم کاروں نے لکھا اور مانا ہے،اپنی زندگی حدیث شریف کے لئے وقف کردینے والاانسان،اور محبوبیت ومقبولیت پانے والا عظیم محدث،بیسویں صدی عیسوی کے امام بخاری،
جس خانوادہ قاسمی سے ان کا شب وروز تعلق ہے اسی خانوادہ کے ایک علمی ستون اوربے باک خطیب کا ذکر کرتے ہیں، مولانا محمد اسلم صاحب قاسمیؒ کی علمی مہم جوئی، عرق ریزی ودیدہ وری،انہماک فی العلم کو تاریخی اوراق میں محفوظ کردیتے ہیں،پھر ایک برگزیدہ علمی شخصیت کی جانب رخ کرتے ہیں اور علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے نمائندہ شاگرد اور پڑوسی ملک پاکستان کے نامور عالم دین اور صاحبِ "انوار انوری”مولانا محمد انوری لائل پوریؒ کی علمی زندگی کے خد وخال محققانہ شان کے ساتھ رقم کرتے ہیں،پھر چند سال قبل محو خواب ہوئی ایک صاحب علم وفضل شخصیت شیخ ثانی مولانا عبد الحق صاحب اعظمیؒ کی علمی حیات اور علم حدیث سے شوق وشغف ان کی تدریسانہ و معلمانہ خصوصیات،اخلاق وعادات، اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے ختم کیا ہے،پھر ایک دورا ندیش و دوربیں،ذکی وذہین اور اعلی سمجھ بوجھ کے مالک عالم جلیل مولانا ریاست علی بجنوریؒ کے اپنے خاندان کے بڑوں کے ساتھ تعلقات کا ذکر خیر کرتے ہوئے آپ کی شاعرانہ صلاحیتوں کا ذکر کیا ہے جن کی عظمت ورفعت کا گواہ ترانۀدارالعلوم ہے،آج دارالعلوم وقف میں امتحان بھی ہے وہاں کی ذمہ داریاں بھی تحریری کا موں کے ساتھ انجام دینی ہیں۔دارالعلوم کے تعلیمی اوقات سے فارغ ہوکر(7 سے 1 )کھانے سے فارغ ہوتے ہیں جیب سے قلم نکالتے ہیں اور قلم کوذرا سر پر پھیرتے ہیں پھر جملوں کی آمد شروع ہوجاتی ہے اور عالم بے بدل، نامور شخصیت حضرت مولانا عبداللہ کاپودرویؒ کی جلالت شان، علمی مقام، خطیبانہ خصوصیات کو کھلی طبیعت سے بیان کرتے ہیں،اسی طریقہ سے بالترتیب ممتاز فقیہ مفتی محمود الحسنؒ چند یادیں،چند باتیں،ولئ کامل مفتی عبد القیوم رائیپوریؒ، حضرت مولانا اشرف علی قاسمی باقویؒ،حضرت مولانا شمس الھدیؒ،حضرت مولانا محمد ہاشم بخاریؒ،مولانا عبد الرشید بستویؒ،شاعر جلیس نجیب آبادیؒ،سید محمد اطہرؒ، شارح ہدایہ حضرت مولانا جمیل احمد سکروڈھویؒ،حکیم حامد تحسینؒ،وشواناتھ طاؤس، مفتی مظفر حسین صاحبؒ، مولاناغلام نبی کشمیریؒ،مولانا حسن الھاشمیؒ،مولانا رفیق احمد قاسمیؒ،مولانا سید ابوالکلام قاسمیؒ،مولانا صادق علی بستویؒ،مولانا حکیم سید محفوظ علی صاحبؒ، حفیظ نعمانیؒ،ڈاکٹر معید الزماں قاسمیؒ، مولانا مفتی فاروق صاحبؒ، مولانا حکیم ادریس حبان رحیمی صاحبؒ، مولانا ابن الحسن عباسیؒ پر آکر کتاب اختتام پذیر ہوتی ہے،216 صفحات پر مشتمل اس دیدہ زیب کتاب میں سب کے تذکرے عقیدت ومحبت کے ملےجلے جذبات کیساتھ حقائق کی روشنی میں کئے گئے ہیں جو دیکھا وہ لکھا،جو محسوس کیا اس کو قلمی رنگ دیا،نہ کمی نہ زیادتی،اپنے تعلقات کو بھی تاریخی رنگ دیا اور خاندان کے افراد یادگار علمی شخصیات کو بھی اپنے اپنے میدان میں دنیا کے سامنے نمونہ کے طور پر پیش کیا ہے،اور قلمی بلندیوں کو سر کیا ہے ،اس کتاب کو مکتبة الانور نے شائع کیا ہے کتاب کی پشت پر ماہر تعلیم اور شہنشاہ قلم جناب پروفیسر محسن عثمانی ندوی مدظلہ العالی کے دل آفریں وحقیقت آمیز تبصرہ کے ساتھ کتاب کی قیمت 200 روپئے درج ہے، شائقین کتاب کو دوڑ کر حاصل کریں اور اس صاحب فن کی نگاہ کا مطالعہ کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button