اردو ادبافسانہ / غزل / نظم / نعتیہ کلاماہم خبریں

چنگیر    { افسانہ  } 🖊ظفر امام

      شہروز ابھی اس دھرتی کا نقش و نگار بھی نہ دیکھ پایا تھا کہ باپ کا سایہ اس کے سر سے اٹھ گیا،ماں بےچاری ماتھے پر بیوگی کی بندی جمائے ادھر ادھر سے جمع پونجی کرکے کسی طور اپنا اور اپنے بیٹے کا پیٹ پال رہی تھی کہ ایک دن راہ چلتے گاڑی کی چپیٹ میں آنے سے وہ بھی شہروز کا ساتھ چھوڑ گئی،باپ کے سایہ سے محروم شہروز پانچ سال کی عمر میں ماں کی ممتا سے بھی محروم ہوگیا،اب وہ بے آسرا تھا،پڑوسیوں کے رحم و کرم پر اس کی زندگی کے شب و روز گزرنے لگے،پڑوسی بھی کب تک خوش دلی سے اس کا پالن پوسن کرتے،شروع شروع میں تو انہوں نے کافی ہمدردی جتائی،ٹسوے بہائے،حوصلہ دیا،مگر کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ان کی آنکھیں پھرنے لگیں،ماتھے پر تیوریاں چڑھنے لگیں،خشمگیں نگاہیں اس کے سر و قد کا طواف کرنے لگیں، شہروز اب عمر کی اس منزل پر پہونچ چکا تھا کہ وہ پڑوسیوں کے رویوں اور ان کی نگاہوں کو بآسانی بھانپ سکتا تھا۔

آخر پڑوسیوں کے رویوں سے مجبور ہوکر وہ ایک دن گھر سے نکل کھڑا ہوا،گھر سے نکلتے ہوئے اس نے اپنے ساتھ ایک پرانی چنگیر اٹھالی تھی،اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ جائے تو کہاں جائے اور کرے تو کیا کرے،وہ اپنی سوچوں میں چلتا جا رہا تھا کہ اچانک اس کی نگاہ ایک بہت بڑی کوٹھی پر جا پڑی، بھوک کے ہاتھوں مجبور شہروز اس  کی طرف چل پڑا اور گیٹ پر لگے برقی گھنٹی کے سوئچ پر اس نے اپنی انگلی رکھ دی۔

گھنٹی کی آواز پر کوٹھی کا مالک سیٹھ لالہ گیٹ کی طرف لپکا اور جب اس کی نگاہ چیتھڑوں میں لپٹے اور خستہ حال چنگیر اٹھائے ننھے سے شہروز پر پڑی تو کبر و نخوت سے اس کے نتھنے پھول گئے،ایک حقارت بھری نگاہ اس پر ڈالی معا ایک زور کا تھپڑ اس نے شہروز کے رخسار پر رسید کردیا،ننھا شہروز بلبلا اٹھا، مگر اس کی انتڑیاں بھوک سے بے حال تھیں سو اس نے اس ضرب کاری کی پرواہ نہ کرتے ہوئے چنگیر لالہ کے آگے کردی اور گھگھیائی ہوئی آواز میں اس سے روٹی کے چند ٹکڑے چنگیر پر رکھنے کی التجائیں کرنے لگا،مگر سیٹھ لالہ کا دل تو کب کا ہی سر بہ مہر ہوچکا تھا،اس کا دل تھا کہاں؟ وہ تو نرا پتھر کا تودہ تھا یا مٹی کا مادھو،آہیں اور التجائیں اس پر بھلا کہاں اثر انداز ہوسکتی تھیں،سو اس نے شہروز کو اس زور سے دھکا دیا کہ اس کے ہاتھ سے چنگیر چھٹک کر دور جا گری۔
    ادھر بھوک کی شدت اور ادھر سیٹھ کا بےرحمانہ سلوک، شہروز کا شیشۂ دل ٹوٹ کر بکھر گیا،آنسوؤں کی روانی اس کے رخسار پر جمے گرد و غبار کو بہانے لگے،باپ کو اس کو تو دیکھا ہی نہیں تھا،آج ماں اسے شدت سے یاد آنے لگی،اس کا ذہن دور بہت دور پانی کی لہروں کی طرح بہتا ہوا پہونچ گیا، آج سیٹھ کے دھکے نے اسے ماں کے الفت بھرے لمس کی یاد تازہ کرادی،ایک ایک کرکے اسے وہ لمحے یاد آنے لگے جب ماں اسے گرم ہوا تک بھی نہ لگنے دیتی تھی،اپنی آغوش میں اسے سلاتی اور راتوں کو اٹھ کر کئی کئی بار اس کے جسم کو ٹٹولتی کہ کہیں کچھ چبھ تو نہیں گیا،مگر ایک ٹکر نے اس سے اس کی ممتا کو چھین لیا تھا۔

وہ اپنے خیالات کی رَو میں بہتا چلا جارہا تھا کہ اچانک عقب سے آتی آواز ” اوئے بالکے! ادھرسن“ نے اسے خیالات کی نگری سے اٹھاکر حقیقت کی جولان گاہ میں لا کر کھڑا کردیا،اس کے چلتے قدم ایک ہی جھٹکے میں زمین پرمنجمد ہوگئے،وہ پلٹا،آنسو پوچھے اور اس اجنبی کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھنے لگا،اجنبی کوئی نرم دل آدمی تھا وہ اس کے قریب آیا اور نہایت ملائمت سے اسے پوچھنے لگا ” بیٹا! اکیلے اکیلے کہاں جا رہے ہو؟ اور اس عمر میں تمہارے ہاتھوں میں یہ چنگیر کیوں ہے؟ ان ہاتھوں میں تو کتابوں کا بستہ ہونا چاہیے؟ اور نہ جانے کتنے ہی ایسے ہمدردانہ سوالات تھے جو اس نے شہروز سے ایک ہی سانس میں کر ڈالے۔

شہروز کی کیفیت اس وقت اس شخص کی سی تھی جسے اپنی داستان دوسروں کو سنانے کے بعد قرار ملتا ہے،زمانے کی ستم ظریفیوں سے آلودہ اس کا دل شگفتہ ہو اٹھتا ہے،اور اسے یوں لگنے لگتا ہے جیسے کسی نے اسے تپتے ہوئے ریگ زار سے اٹھاکر فرحت بخش لالہ زار میں رکھ دیا ہو،شہروز نے آنسوؤں کی روانی میں اس اجنبی کو اپنی بپتا سنادی،اس اجنبی نے شہروز سے پوچھا ” بیٹا اگر تجھے میں اپنے گھر چلنے کو کہوں تو کیا تم میرے ساتھ چلنا چاہوگے؟ “ شہروز تو اس وقت تنکوں کے سہارے ہی کا متلاشی تھا،اس کا دل تو یہ یقین کر چلا تھا کہ اب اس خود غرض اور مفاد پرست زمین پر اسے کوئی ٹھکانہ نہ دےگا،اسے دنیا اور دنیا کے سارے نظارے اس وحشی درندہ کی شکل میں دکھائی دے رہے تھے جو کمزور اور نہتھے شخص کی گردن دبوچ لیتا ہے، ایسے میں جب اس نے اجنبی کی زبانی ان ہمدردانہ باتوں کو سنا تو بے ساختہ اس کا گلا بھرآیا،آنکھوں میں تشکر کے آنسوؤں کا ایسا ریلا امڈ آیا کہ وہ زبان سے کچھ بھی نہ کہہ سکا اس کے منجمد پیر حرکت میں آئے،ہاتھ اوپر اٹھے اور اجنبی کے گلے کا طوق بن گئے،یہ اشارہ تھا اس بات کا کہ وہ اس کے ساتھ چلنے کو تیار ہے۔

اجنبی کا گھر شہر کے دوسرے کنارے واقع تھا،پروردگارِ عالم نے متاعِ جہاں کو اس کے گھر کا خزینہ بنا دیا تھا،اس کی حویلی کی تب و تاب اور اس کی پرشکوہ راہ داریاں راہ چلتے مسافر کو دعوتِ نظارہ دے رہی تھیں،لیکن دولتوں کے انبار اور خزانوں کے ڈھیر ہوتے ہوئے اس کا دل ہر دم اداس رہا کرتاتھا کیونکہ اس کی گود اولاد کی دولت سے محروم تھی،اتنی عالیشان حویلی کے وارث کے لئے اس نے ہر جتن کئے،طرح طرح کے ٹوٹکے اپنائے،شاہی طبیبوں سے لے کر آستانے کے ملنگوں تک کے نسخے آزمائے،مگر اس کی گود ہری نہ ہونی تھی نہ ہوئی۔
       آج اس نے جب ایک بے آسرا بچے کو سڑک پر یوں روتا ہوا دیکھا تو اس کا پدرانہ پیار چھلک پڑا،اس نے سوچا کیوں نہ اس بچے کو سینے سے چمٹا کر شفقتِ پدری اس پر نچھاور کی جائے،ساتھ ہی دور افق پر اسے اپنے بعد حویلی کے چراغ کو روشن رکھنے کے لئے امید کی ایک کرن چمکتی دکھائی دینے لگی تھی،اس نے شہروز کی انگلیاں تھامی اور بہکتے قدموں کے ساتھ اسے اپنے گھر لے گیا۔
      

اس کی بیوی نے بھی خندہ پیشانی اور خوش دلی سے شہروز کو اپنے سینے سے چمٹا لیا،اور دونوں اسے وہی پیار دینے لگے جو ایک بچے کو اس کے ماں باپ دیا کرتے ہیں،شہروز نے بھی ان کے پیار کا جواب برخورداری اور اطاعت گزاری سے دیا اور پھر ایک دن میاں بیوی نے اپنی کل جائیداد شہروز کے نام کر دی۔
       وقت کا پہیہ زمانے کی شاہ راہ پر تیزگامی سے دوڑتا رہا یہاں تک کہ بیس سال کا لمبا عرصہ وقت کی ریت میں دب گیا،اس بیچ شہروز کے منہ بولے ماں باپ دنیا سے اپنا ناطہ توڑ گئے،معصوم سا اور ننھا سا دکھنے والا شہروز سجیلا جوان بن گیا،گلیوں میں چنگیر اٹھائے پھرنے والے شہروز کی جیب میں حویلی کی کنجی اور گاڑی کی چابی آگئی۔

ایک دن وہ کار پر سوار کہیں جا رہا تھا،ٹریفک میں گاڑیوں کی قطار کھڑی تھی،اس کی نگاہیں شیشے سے باہر کے منظر کے طواف میں مگن تھیں کہ اچانک ایک جانی پہچانی صورت کا آدمی پراگندہ بال،خستہ کپڑے اور ہاتھوں میں چنگیر اٹھائے عین اس کی کار کے شیشے کے سامنے آ کھڑا ہوا اور اس سے اپنی بھوک کی دہائی دے کر چنگیر میں چند ٹکے رکھنے کی عاجزی کرنے لگا،شہروز کو یوں محسوس ہوا جیسے اس صورت سے اس سے پہلے بھی کبھی سامنا ہوا ہے،وہ بار بار ذہن پر زور دے کر یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ یک بیک اس کے سامنے جیسے بجلی کوند گئی اور اس کی روشنی میں اسے بیس سال پہلے کا ایک منظر رقص کرتا ہوا نظر آنے لگا،جب کسی سیٹھ نے اسے اپنے گیٹ سے دھکے دے کر باہر نکال دیا تھا اور اس کی چنگیر اس کے ہاتھوں سے چھٹک کر دور جا گری تھی،یہ وہی سیٹھ لالہ تھا جسے مرور ایام نے دولت مندی سے نکال کر چنگیر بردار بنا دیا تھا۔
      

شہروز نے جیب سے ایک نوٹ نکالی اور اس کی چنگیر میں ڈالتے ہوئے منہ اس کے کانوں کے قریب لے گیا اور سرگوشی کی زبان میں اس سے پوچھا ” مجھے پہچانے“؟ وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا،شہروز نے اسے بیس سال پہلے کا وہ دن یاد دلاتے ہوئے کہا ” میں وہی بالک ہوں جسے آپ نے دھکے دے کر اپنے گیٹ سے باہر نکال دیا تھا “یہ سنتے ہی چنگیر اس کے ہاتھوں سے گر پڑی،شرم و ندامت سے اس کی نگاہیں زمین پر گڑ گئیں اور آنکھوں سے آنسوؤں کے قطرے نکل کر رخسار پر ڈھلک گئے۔

                                     ظفر امام،کھجورباڑی
                       دارالعلوم بہادرگنج
                       

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button