ادبیات

ویشالی : شاد عظیم آبادی کی یاد میں مشاعرے کا انعقاد


شادٓ عظیم آبادی کسی شخصیت کا نہیں، ایک دبستانِ ادب کا نام ہے /ناظم قادری


مہوہ ویشالی/شبانہ فردوس/” بزم سخنوران انٹر نیشنل” مہوہ (ویشالی ) کے زیر اہتمام شادٓ عظیم آبادی کی یاد میں کُوِڈ قانون کی پاسداری کرتے ہوۓ ایس۔ایم۔ظہیرعالم منزل مہوہ میں مشاعرہ منعقد ہوا ۔ اس مشاعرہ میں جن شعراء نے اپنے اپنے کلام پیش کئے ان کےنام مع نمونئہ کلام کچھ اس طرح ہیں ۔


1. جناب قاسمٓ ہدایت پوری
گونجتی ہے ہر سماعت میں مؤذن کی صدا
ہے مگر سنسان کیوں اللہ کا گھر آج کل
2. جناب حنیف اخترٓ
کبھی شوہر سا نوکر ڈھونڈتے ہیں
کبھی نوکر سا شوہر ڈھونڈتے ہیں
3. جناب ناظمٓ قادری
ہوس کی قید سے آزاد رہ کر
کوئی مرد قلندر جی رہا ہے ہے
4. جناب بشرٓ رحیمی
افسوس اب وہ خوئے سخاوت نہیں رہی
انسان کے دل میں پیار کی دولت نہیں رہی
5. قمرٓ شاہدی
جس کے گھر ہیں امیروں کے لئے وجہِ نشاط
اپنے گھر گاؤں محلے کی وہ عزت تھی کبھی
6. پریم ناتھ بسملٓ
جنگ اپنوں سے کیا کرے کوئی
بس یہی سوچ کر میں ہار گیا
7. اعجاز عادل شاہ پوری
ستم کا جسم پہ اب بھی ہراس باقی ہے
تمہارے ظلم کا اب بھی اساس باقی ہے
8. کام یہ تو بڑے جگر کا ہے
بے وفاؤں سےبھی وفا رکھنا


اس مشاعرے کی صدارت کہنہ مشق بزرگ شاعر عالی وقار جناب قاسم ہدایت پوری صاحب نے فرمائی۔ اور نظامت کے فرائض ہردلعزیز اور بیباک شاعر جناب اعجاز عادل شاہ پوری نے انجام دئے۔ صدر کے پرمغز، فصیح و بلیغ خطبئہ صدارت کے بعد بزمِ سخنوران مہوہ،کے بانی اور چیف ایڈمن جناب ناظم قادری نے اردو کے ممتاز شاعر شاد عظیم آبادی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شاد عظیم آبادی کسی شخصیت اور شاعر کا نہیں بلکہ ایک انجمن اور دبستانِ ادب کا نام ہے،جس نے اردو شاعری کو عروج بخشا۔ان کے بعد میزبانِ محفل پروفیسر حافظ توقیر سیفی کے اظہار تشکر کے بعد مشاعرے کا اختتام کیا گیا۔ اس مشاعرہ میں ڈاکٹر سکندر اعظم،جناب طفیل ہدایت پوری ،ڈاکٹر اسلم ،حافظ صابر علی، محمد شوکت ، محمد سجاد ،محمد اظہار ،محمد صغیر اور صحافی شرافت خان وغیرہ نے شرکت فرمائی اور اور شاعروں کو داد و تحسین سے نوازا

فوٹو میل پر ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button