اردو ادبسہ ماہی تعمیرِ افکار (سمستی پور)فکر و نظر / مضامین و مقالات

وقت زندگی کا ایک عظیم حصہ

وقت اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ تمام نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے، اس کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا‌ میں بسنے والے حضرت انسان چاہے وہ مؤمن ہو یا کافر ، بادشاہ ہو یا فقیر ، امیر ہو ، یا غریب ، ہر ایک کو وقت اللہ تعالیٰ نے یکساں عطاء فرمایا ہے ، تاریخ شاہد ہیکہ تمام ادیان و مذاھب کو جس طرح موت کے برحق ہونے پہ اختلاف نہیں اسی طرح وقت کا حضرت انسان کو یکساں ملنے پہ اختلاف نہیں ہوسکتا ،
حدیث شریف میں آتا ہیکہ پانچ چیزوں کو پانچ چیز سے قبل غنیمت سمجھو ،
ان پانچ چیزوں میں ایک یہ بھی ہیکہ فراغت کو مشغولیت سے قبل غنیمت سمجھو ،
اس حدیث شریف سے ہمیں یہ سبق مل رہا ہیکہ اس عارضی زندگی کو خوب دھیان اور توجہ سے صرف کریں کیونکہ ہم مسلمان ہیں اور بحیثیت مسلمان ہمیں اپنی زندگی کے لمحہ لمحہ کا خیال رکھنا ازحد ضروری ہے؛ کیونکہ ہماری زندگی ایک امانت ہیں اور ہمیں اس امانت کا حساب بروز قیامت ہمیں دینا ہوگا ۔

لیکن افسوس کہ ہم اپنے قیمتی اوقات کو محفل کے رقص و سرود میں ، ہوٹلوں میں ، غیبت میں ، چغل خوری میں ، اور نکتہ چینی میں صرف کردیتے ہیں

ایک بزرگ کا قول ہے کہ ایک برف فروش سے ہمیں عبرت ہوئ کہ وہ برف بیچ رہاتھا اور کہتا جارہا تھا اے لوگوں مجھ پر رحم کرو میرے پاس ایک ایسا سرمایہ ہے جو تھوڑا تھوڑا ختم ہوتا جارہا ہے ، اسی طرح ہماری زندگی بھی ہے جو تھوڑی تھوڑی ختم ہوتی جارہی ہے اور ہمیں موت سے قریب کرتی چلی جارہی ہے، وقت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس دارفانی میں جتنے بھی ادیان و مذاھب ہیں وہ سب ہمیں وقت کی پابندی کا درس دیتا ہے ، اور چوں کہ خود اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں وقت کی پابندی کا ثبوت ملتا ہے ، ہم مسلمانوں پہ پانچ وقت کی نمازیں فرض کی گئی ہیں اس کے مقررہ وقت پہ اگر ہم ان اوقات میں اس کو ادا نہ کریں تو بلا شبہ ہم گنہگار ہیں اس سے پتہ چلا کہ ہم نے وقت کی ناقدری کی اور اپنے آپ کو اللہ ربّ العزت کے حکم آگے سرسجود نہ کیا اسلیے ہم گناہ کا مرتکب ہوۓ اگر وقت پہ ہم نماز ادا کرلیں تے تو گنہگار نہیں ہوتے

اور تاریخ شاہد ہیکہ جس نے وقت کی قدر کی اور اسکی اہمیت کو سمجھا اور اس کا صحیح استعمال کیا وہ کامیاب وہ کامران ہوا اور جس نے وقت کی ناقدری کی اور اس کا غلط استعمال کیا وہ ناکام وہ نامراد ہوا

ہر انسان کو یہ بات ذہن میں رکھ لینا چاہیے کہ وقت کو کوئ خرید نہیں سکتا ،وقت کے سلسلے میں یہ کہا جاتاہے کہ "اَلْوَقْتُ اَثْمَنُ مِنَ الذَّھَبِ ” وقت سونے سے بھی قیمتی ہے، یہ ایک رواں دواں سمندر ہے اور اس سمندر سے جو لہر گزر گئ وہ لوٹ کر نہیں آسکتی ، نہ بچپن لوٹ سکتا ہے ، نہ لڑکپن لوٹ سکتا ہے ، نہ بلوغیت لوٹ سکتی ہے ، نہ نوجوانی لوٹ سکتی ، نہ جوانی لوٹ سکتی ہے ، نہ اڈھیر عمر لوٹ سکتا ہے ، نہ بڑھاپا لوٹ سکتا ہے ، اور نہیں دوبارہ موت مل سکتی ہے

جو وقت ہمارا گزرتا جارہا ہے وہ یقناً ہمیں موت سے قریب کرتا جارہا ، اسلیے ہمیں وقت کو صحیح استعمال میں صرف کرنے کی از حد ضروری ہیں

وقت کا صحیح استعمال کرنے کے لیے ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا اگر ہمارا وقت صحیح جگہ استعمال ہورہا ہے تو ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اگر غلط جگہ استعمال ہورہا ہے تو ہمیں اس سے بچنے کا عزم کرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح معنیٰ میں وقت کا صحیح استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ضیاعِ وقت سے بچنے کی توفیق دے۔آمین ثم آمین

منظر عالم ویشالوی
متعلم مدرسةالعلوم اسلامیہ ، علی گڑھ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button