مضامین و مقالات

والدین جیسا کوئی نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی متبادل ہے : محمد عامل ذاکر مفتاحی

سورہ لقمان کی آیت نمبر ١٣ میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’ ہم نے والدین کے تعلق سے انسان کو تاکید کی ، اسکی ماں نے اسے ضعف در ضعف اٹھاکر اسے پیٹ میں رکھا ، اور دو برس میں اس کا دودھ چھوٹتا ہے ، کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کیا کر ۔


مزکورہ بالا آیت کے ترجمے سے والدین کی اہمیت و عظمت کو اجاگر کیا گیا ہے ، کہ کس طرح وہ ماں اپنے پیٹ کے اندر نو ماہ (9 month) تک اسے لئے رہتی ہے اس دوران وہ ماں مشقتوں کے انبار کو برداشت کرتی ہے ، تمام تر حفاظتی اقدام اس کے لئے اٹھانے پر مجبور و لاچار ہوجاتی ہے ، اس کی بہتر نشوونما کے خاطر بڑی بڑی صعوبتوں کو گلے لگاتی ہے ، اس کے راحت و آرام کے لئے تکالیف و آلام کو بحسن و خوبی جھیلتی ہے ، ان تمام مصائب کے ساتھ پورے نو ماہ مکمل کرتی ہے ۔ پھر اسکی پیدائش کے وقت اسکی ماں جانکنی کے عالم میں ہوتی ہے ، آنسوؤں کی بارش کردیتی ہے ، شدتِ درد سے چیکتی چلاتی ہے ، اس قدر مشقت و تکلیف کو سہ کر بچہ کو جنم دیتی ہے کہ جس کا ہم اور آپ اندازہ لگا نے سے عاجز و قاصر ہیں ۔

ان آرٹیکل کو بھی پڑھیں


اس کے علاوہ وہ باپ جو اپنے باپ بننے کی خوشی میں پھولا نہ سماتا ہے اور ساتھ ہی اسکی ولادت پر مٹھائی وغیرہ کا انتظام کرتا ہے ، وہیں دوسری طرف اس بچہ یا بچی کے مستقبل کو خوشگوار بنانے کے لئے پہلے سے زیادہ چاک و چوبند ہو جاتا ہے اور اپنی اولاد کے فکر میں شب و روز محنت سے کماتا ہے ، چونکہ باپ گھر کی دیوار کے مانند ہوتا ہے ، جب تک دیوار مضبوط رہے گی تب تک گھر محفوظ رہےگا ، ایک باپ ہی کی ذات ہے جو زندگی بھر صرف اور صرف اپنے بال بچوں کے بہتری کے خاطر دکھ سکھ کو برداشت کرتا ہے اور ایک نافرمان اولاد ہے کہ ان کے احسان کو فراموش کر بیٹھتی ہے ۔ اگر باپ کی قیمت کا اندازہ لگانا ہے تو چلے جاؤ اس شخص کے پاس جن کے والد اس دنیا سے رحلت کر چکے ہیں وہ تمہیں باپ کی قیمت بتائیے گا۔ کسی شاعر نے کیا ہی اچھا کہا ہے :

ان کا اٹھنا نہیں ہے حشر سے کم گھر کی دیوار باپ کا سیا ہے

چناچہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ بچہ بولنے اور چلنے کے قابل ہوجاتا ہے تو والدین حرکت میں آتے ہیں اور اسکی فکر تعلیم میں منہمک ہوجاتے ہیں ، پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو والدین اس کی شادی کی فکر کرتے ہیں ، مناسب اور بہتر جگہ دیکھ سن کر خواہ بیٹا ہو یا بیٹی اس کا رشتہ لگاتے ہیں اسکے بعد شادی ہوجاتی ہے بچے ہوجاتی ہیں ، ان امور کو انجام دیتے ہوئے ماں باپ عمر لاغری و بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں ۔


اب جب والدین بوڑھے ہوجائیں تو اولاد کی ذمےداری ہوتی ہے کہ جس طرح اس نے تمہاری پرورش اور دیکھ بھال میں کسی طرح کی کمی محسوس نہیں ہونے دیا ، تہماری ضرورت کو اپنی ضرورت سے مقدم رکھا ، خود مصائب و آلام کو گلے لگالیا اور تمہیں اس مصائب میں مبتلا نہیں ہونے دیا ، والدین خود بھوکے پیاسے رہے تم کو بھوکا نہیں رہنے دیا ، تم چلنے، بولنے، کھانے، پینے، اٹھنے،بیٹھنے، کے قابل نہیں تھے تمہیں ماں باپ نے اس قابل بنایا ، یہ تمام احسان والدین نے اولاد پر کیا ہے تو اولاد کو بھی چاہئیے کہ ان کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک اپنائیے اور ان زیادہ سے زیادہ وقت دیں جس طرح انہوں نے تمہیں پچپن میں کلیجہ سے لگائیے رکھا ، ان تمام باتوں میں غور فکر کرکے انسان خود کہے گا کہ والدین جیسا کوئی نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی متبادل ہے ۔


والدین کے اولاد پر بے شمار احسانات و خدمات کی وجہ سے اللہ ربّ العزت نے انسانوں پر والدین کے متعلق تاکید فرمائی ہے ، حدیث میں آتا ہے کہ ایک موقع پر آپ ﷺ کی خدمت میں ایک صحابی نے عرض کیا اے اللّٰہ کے رسول میں جہاد کرنا چاہتا ہوں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے والدین باحیات ہیں؟ تو صحابی نے کہا کہ جی ہاں رسول اللہ حیات سے ہیں ، آپ ﷺ نے صحابی سے کہا کہ جاؤ والدین کی خدمت کرو کیونکہ والدین کی خدمت کرنا جہاد کے برابر ہے ( اللہ اکبر کبیرا) ۔ قرآن مجید میں بھی دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہےکہ ’’ جب والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں یا بڑھاپے کو پہنچ جائے تو انہیں اف تک نہ کہو ، جب اللہ نے والدین کے تعلق سے یہ حکم صادر کر دیا تو پھر کیوں کر أکثر الناس والدین کے لاغریت و ضعیفیت کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی انکی نافرمانی ، حق تلفی ، غیر جانبدارانہ فیصلہ کرنا شروع کردیتے ہیں ، جو احکام اللہ نے والدین کے تعلق سے جاری کیا ہے اس پر کیوں آج کی اولاد عمل پیراں نہیں ہوتے ، شادی ہوتے ہی بیوی کے غلام بن جاتے ہیں اور اس نافرمان بیوی کہ کہنے پر اپنے والدین کے ساتھ بدسلوکی و ہٹ دھرمی کاسا رویہ اختیار کرتے ہیں ، جو اس کا برتاؤ کرتے ہیں وہ احسان فراموش لوگ ہیں ، ایسی نافرمان اولاد کے لئے خدا کے ہاں درد ناک عذاب دیا جائےگا اور وہ دنیا میں بھی مختلف مصیبت و پریشانی میں جکڑے ہوئے ہوگے کیوں کہ اس اولاد نے خدا کے احکام کو فراموش کیا تو ظاہر ہے اللہ تعالیٰ بھی اسے سزا دےگا ، لیکن جو نیک اور صالح اولاد ہوتی ہیں وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرتی ہے ، ان کے ہرہر حکم پر لبیک کہتی ہے ، ان کی ضروریات کو اپنی ضرورت سمجھتی ہے ، ان کی خواہشات کی تکمیل میں کوشاں رہتی ہے ، ان کے راحت و آرام کا سامان مہیا کرتی ہے ، اپنی تمناؤں کو پس پشت ڈال کر والدین کی تمنا کا خیال رکھتی ہے ، اور ان کے چین و سکون کے خاطر ہر طرح کی قربانی پیش کر دیتی ہے ۔


مختصر یہ کہ والدین کے احسان و کرم نوازی کا بدلہ و قرض انسان قیامت تک ادا نہیں کر سکتا ، اورجب تک والدین باحیات ہوتے ہیں اولاد کے لئے دنیا کے اندر روشن ستارے کے مانند ہوتے ہیں ، جیسے ہی دنیا سے رخصت ہوتے ہیں ، تو ان کے لئے دنیا تاریک ہوجاتی ہے ۔ ابھی موقع ہے جن کی والدین باحیات ہیں ان کی قدر کرلو تو دنیا و آخرت میں سرخرو ہوجاؤ گے ، دنیا تہماری دلدادہ ہوجائیے گی اور اخروی زندگی میں جنت تہمارا ٹھکانہ ہوگا ، یہ سنہرے موقع کو غنیمت نہ جانا تو آخرت تو برباد ہوگی ہی ساتھ ہی تمہاری آخرت بھی تباہ ہوکر رہ جائے گی ، جتنا والدین اپنی اولاد کے خیر خواہ ہوتے ہیں اتنا کوئی نہیں ہوتا اسلئے مجبور ہوکر کہنا پڑا کہ والدین جیسا کوئی نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی متبادل ہے ۔ کسی نے سچ کہا ہے ۔۔


باپ زینہ ہے جو لے جاتا ہے اونچائی تک
ماں دعا ہے جو صدا سایہ فگن رہتی ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button