اہم خبریںفکر و نظر / مضامین و مقالات

میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا ✍🏻 مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانیسکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ

میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا

✍🏻 مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی
سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ

قرآن میں ذکر کیا گیا وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمْ رَسُوْل’‘مُّصَدِّق’‘لِّمَامَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ.قَالََءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ.قَالُوْٓااَقْرَرْنَا.قَالَ فَاشْھَدُوْاوَاَنَامَعَکُمْ مِّنَ الشّٰھِدِیْن۔(سورہ آل عمران،آیت:۸۱)جب ہم نے کسی نبی اور رسول کو دنیا میں نہیں بھیجا تھا اس وقت ہم نے عالم ارواح میں تمام پیغمبروں کی روحوں کو جمع کیا اور ان سے ایک عہدلیا٬تمام نبیوں سے وعدہ لیاگیا،پوچھا گیا کہ اگر ہمارے محبوب نبی تمہارے زمانے میں آگئے تم ان کا زمانہ پالوتو تم اس بات کا وعدہ کرو کہ تم ان پر ایمان لاؤگے،ان کی نبوت کو مانوگےاور ان کی مدد کرو گے٬بولو!اس وعدے کو پورا کروگے؟ تو تمام نبیوں نے کہا اےﷲ! ہم ضرور ان کے اوپر ایمان لائیں گے،ان کی باتوں کو قبول کریں گے۔آپ سونچئے کہ کتنا اونچا مقام دیا گیا کہ پیدا کرنے سے پہلے وعدہ لیا گیا کہ اگر تم یہ وعدہ کرو کہ تم ہمارے نبی کو مانو گے،تسلیم کرو گے تو ہم تم کو نبوت عطا کریں گے۔ حضورپاکﷺسب سے آخر میں دنیا میں تشریف لائے٬لیکن آپ کی نبوت و رسالت کا فیصلہ تو کب کا کیاجاچکاتھا،آپﷺنے خودارشاد فرمایا:کنت نبیا وآدم بین الماءوالطین۔ میں اس وقت بھی پیغمبر تھا جب کہ آدمؑ مٹی اور گارے کے درمیان تھے ۔ حضرت جابرؓکہتے ہیں میں نے حضورﷺ سے پوچھا اےﷲکے رسولﷺ! سب سے پہلی چیز جس کوﷲنے پیدا کیا وہ کیا ہے؟ توﷲکے نبیﷺنے ارشاد فرمایا: سب سے پہلی چیز جس کوﷲنے وجود بخشا،وہ تیرے نبی کا نورتھا۔ پھرآپ کو آسمانوں پر بلایا گیاجہاں رسولوں اور نبیوں سےآپﷺ کی ملاقات ہوئی،حضرت آدمؑ حضرت ادریسؑ،حضرت موسیٰؑ،حضرت عیسیؑؑ اورحضرت ہارونؑ سے ملاقات ہوئی،ان سب نبیوں نے مرحبا کہا، کسی نبی نے مرحبا بالابن الصالح والنبی الصالح کہا کہ ایک صالح بیٹےکومرحبا ہو، ایک نبی صالح کو مرحبا ہو، کسی پیغمبر نے کہا نبی برحق کو، نیک بھائی کو مرحبا ہو، خوش آمدید ہو٬پھر اور بلندی پر آپ کولے جایا گیا، یہاں تک کہ ایک مقام پر حضرت جبرئیلﷺنے پہنچ کر کہا کہﷲکے رسولﷺ! اب یہ آخری حد آگئی کہ اس سے آگے میں بھی نہیں جاسکتا، یہ سدرۃ المنہتیٰ ہے تذکرہ کیا گیا:عندسدرۃ المنتنھی انتہاوالا درخت،حضرت جبرئیلؑ نے کہا کہﷲکے نبیؐ اس سے آگے صرف آپﷺکا مقام ہے،صرف آپﷺجاسکتے ہیں،کوئی نبی٬کوئی رسول٬کوئی فرشتہ٬کوئی امام اور کوئی بڑے سے بڑا انسان بھی یہاں سے آگے نہیں جاسکتا۔ اگر کوئی جاسکتا ہے کہ تو وہ یتیم عبدﷲمحمدرسولﷲہیں۔ آپ سونچئےجبرئیلؑ کتنے زبردست اور مقرب فرشتے ہیں،اتنے عظیم فرشتے ہیں کہ ان کے چھ سو بازو ہیں اگر ایک بازو کھول دیں تو ساتوں آسمان اور زمین اس کے نیچے ڈھنک جائیں۔لیکن انہوں نے بھی معذرت کرلی،ایک ہندوشاعرپنڈت سادھو رام آرزو لکھنوی نے کہا؂

ہزاروں جبریل الجھے ہوئےہیں گردِراہ میں
نہ جانے کس بلندی پہ ہے کاشانہ محمدﷺکا

جبرئیل ؑ نے بھی وہاں سے ساتھ چھوڑ دیا،مجھے حضرت مولاناعطاءﷲشاہ بخاریؒ کی یاد آگئی،بڑے عظیم مقرر گزرے ہیں ہندوستان میں ان سے زیادہ بڑا مقرر پیدا نہیں ہوا۔عشاء کی نماز کے بعد سے فجر تک تقریر کرتے تھے،ایسی عظیم شخصیت کے مالک تھے٬حضورﷺکےخانوادے سے تھے ۔ ایک مرتبہ یہی معراج کا واقعہ سیرت کے جلسے میں بیان کررہے تھے، تقریر کرتے ہوئے جب یہاں تک پہنچے کہ جبریلؑ نے میرے نانا کا ساتھ چھوڑ کر کہا کہ اے پیغمبر! اب آپﷺاکیلے آگےجائیں گے اور کوئی نہیں جاسکتا، تو ایک عجیب جذبے کے ساتھ کہا٬کہ جبریل! تم پیغمبر کے ساتھ تھے، تم نے پیغمبر کا ساتھ چھوڑناپسند کیا،اگر میں نبی کے ساتھ ہوتاتو جل جانا پسند کرتا لیکن نبی کا ساتھ چھوڑنا پسند نہیں کرتا۔اور پھر کروٹ لے کر کہا کہ جبرئیل تم سےکس نے کہا کہ تمہارے پر جل جاتے؟اگر تم محبوب رب العالمین کے ساتھ آگے بڑھتے،آؤمیں تمہیں کہتاہوں کہ جو نبی کے ساتھ ہوتا ہے اس کے پر نہیں جلا کرتے اسے تو ترقی اور جلا ملا کرتی ہے۔ہمارا تو یہ عقیدہ ہے،دنیا والے تخت و تاج حکومت و منصب٬عزت و شہرت اور دولت و جائیداد وغیرہ میں کامیابی کا یقین رکھتے ہوں تو رکھے،لیکن محمد رسولﷲﷺکا غلام یہ سمجھتا ہے کہ میری کامیابی اگر کہیں ہے تو وہ محمد رسولﷲﷺکے قدموں میں ہے،جوجتنا زیادہ حضور سے قریب ہوگا وہﷲکی نگاہ میں اتنا ہی زیادہ مقرب ہوگا،کہنے والے نے کہا؂

تیری معراج کہ تو لوح و قلم تک پہنچا
میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button