فکر و نظر / مضامین و مقالات

کمزور پڑتی معیشت اور خواتین میں امداد باہمی کا رجحان

فکر ونظر

✍🏻: عین الحق امینی قاسمی

بنیادی طور پر ہمدردی ،ایثار اور جذبہ اخوت، انسانی شرافت کا مظہر ہیں ،یہی وجہ ہے کہ کمزور پڑتی معیشت کی موجودہ صورت حال کے اندر خواتین میں امداد باہمی کا رجحان کافی کچھ بدلا ہے ،لیکن پھر بھی اس حوالے سے جو مثبت رجحان فروغ پانا چاہئے ،وہ اس دم توڑتی معیشت میں تھم سا گیا ہے ،گرچہ ایک جائزہ کے مطابق خواتین میں پچاسی فیصد خواتین کے اندر خود سے زیادہ اوروں کے لئے جگہ ہوتی ہے ،جو مختلف مواقع پر پاس پڑوس کی خواتین کے لئے مدد کے جذبے سے کھڑی نظر آتی ہیں ،جب کہ دس فیصد خواتین اپنے گھر کے سرپرستوں کے دباؤ کی وجہ سے اپنی شرافت کو ظاہر نہیں کرپاتی ہیں ،البتہ پانچ فیصد خواتین ،بد مزاج ،بے مروت ا ور سماج کوش ہوتی ہیں جو مواقع اور تقاضے کے باوجود خود پسندی کے خول سے باہر نکل کر انسانی شرافت کے اظہار کے لئے آمادہ نظر نہیں آتیں ۔
آج کے ماحول میں لاک ڈاؤن اور وبائی امراض سے تحفظ کی وجہ سے لوگ سمٹ کر رہ گئے ہیں ،مزدور اور متوسط طبقہ جس کی معاشی ضرورت کی تکمیل روزمرہ کی آمدنی پر منحصر تھی ،ایسی تمام فیملیاں مانو بکھر سی گئی ہیں ،گھر کے مرد باہری ذمہ داریوں سے کٹ کر گھروں میں قید ہیں ، مگر گھریلو تقاضے بدستور قائم ہیں ،روزمرہ کی ضروریات کی تکمیل ،بچوں کے بنیادی تقاضے ،خورد ونوش سے متعلق سامان کی حصولیابی ،بیماروں کی دوائیں ،علاج کے لئے ڈاکٹروں کی فیس وغیرہ جیسی بنیادی ضرورتیں علی حالہ ،گھر کی خواتین کے ساتھ لگی ہوئی ہیں ، ان خواتین کی ذمہ داریوں میں چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ،گھروں میں بڑے بوڑھوں کی دوا وعلاج ،راشن پانی ،ساگ سبزی جیسی ضروریات لگی ہوئی ہیں ، جنہیں وہ ہر حال میں پورا کرنا چاہتی ہیں ،ایسے بہت سے خاندان ہیں ،جن کے مردوں نے ہاتھ اٹھا دئیے ہیں ،وہ اس معاملے میں اپنے گھر کی خاتون کی مدد کرنےسے لاچار ومجبور ہیں ۔ ایسے میں سماج میں بسنے والے افراد بالخصوص خاتون خانہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ امداد باہمی کے جذبوں سے اپنے گردو پیش کے احوال کی خبر گیری کریں ، کہ کون ان کے پڑوس میں کھانے کو ترس رہے ہیں ،کنہیں دوا اور علاج کی ضرورت ہے ،کن کے بچوں نے روٹی نہیں کھائی ہے اور کن گھروں میں اسباب ضرورت کے لئے مستورات گھٹ گھٹ کر زندگی جینے پر مجبور ہیں۔


بہت سی دفعہ خواتین اپنی حیا کی وجہ سے اور بہت سی مرتبہ غیرت و حمیت اور خودداری کی وجہ سے وہ اپنوں سے اپنے احوال بیاں نہیں کرپاتی ہیں ،وہ اندر ہی اندر خون کے آنسو خود ہی پی پی کر وقت بتا رہی ہوتی ہیں ،وہ گھروں میں ہوتی ہیں ،اس لئے ہر کس و ناکس کی نگاہ سے بھی وہ اوجھل ہوتی ہیں ،کبھی وہ بوڑھے ماں باپ کو بن دوا علاج ،کھاٹوں پر پڑے پا کر تو کبھی معصوم بچوں کو بھوکے ،پیاسے سوتے دیکھ کر ،کو کھ کی لہر کو ٹھنڈا کرنے کی غرض سے اپنا آنسو آپ ہی پوچھنے میں عزت سمجھ رہی ہوتی ہیں ۔
اس وقت کی صورت حال جب کہ بیش تر گھروں میں معیشت دم توڑ رہی ہے ، خصوصاً خواتین کے لئے بڑی آزمائش ہے ، انہیں حوصلہ دینا ،ان کے آنسو پوچھنا ،ان کے بچوں کی بنیادی ضرورت کے لئے ایسی شریف اور باکردار خواتین کے لئے آگے آنے کی سخت ضرورت ہے ،جنہیں اللہ نے دو وقت کی روٹی سکون سے کھانے کا موقع فراہم کیا ہوا ہے ،جنہیں عزت کے ساتھ موجودہ کس مپر سی کے دور میں بھی دو پیسے کی آمدنی ہے اور جن کے مرد نوکری پیشہ سے جڑے ہیں ،یا جن خواتین نے اپنا کوئی روزگا رکیا ہوا ہے اور یا جن کے دور نزدیک کے رشتہ دار خوشحال ہیں ،ایسی باحوصلہ خواتین کو سامنے آکر مدد کا ہاتھ بڑھانے کا موقع ہے ،انسانیت کی مدد، بڑی عبادت ہے اور بعض مواقع پر اس کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے ،قرآن واحادیث میں اس سلسلے کی ہدایات موجود ہیں ،جس میں کہا گیا ہے کہ صرف روزہ اورنمازہی عبادت نہیں ،بھوکوں کو کھانا ،کھلانا ،پیاسوں کو پانی دینا ،ننگوں کو کپڑا پہنانا ،اسی طرح راستے میں پڑی تکلیف چیز کو ہٹانا ،بیماروں کی عیادت کرنا ،مظلوموں کی مدد کرنا وغیرہ یہ سب کام بھی عبادت ہیں ،جن پر اللہ اجر عظیم سے نوازتا ہے ،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں مواخات قائم فرماکر دین کے اس پہلو کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول فرمائی ،تو آپس میں ایک دوسرے کے تعاون کا ایسا ماحول بنا کہ کوئی ایسا مسکین نہ رہا ،جسے زکواۃ یا صدیقہ واجبہ کی رقوم دی جا سکے ،خود نبی پاک صلی الللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج کی سیرت ہمارے لئے بہترین آئیڈیل ہے ،جس میں انہوں نے لوگوں کی مدد کرکے انسانیت ،شرافت ،ہمدردی اور ایثار کا ثبوت بھی دیا اور اپنے مال سے دین اسلام کی حفاظت وتبلیغ کا فریضہ بھی اداکیا ہے ،صحابہ کرام کی حالت یہ تھی کہ وہ جب اللہ کی راہ میں جنگوں کے اندر نکل جاتے تو پھر یہ پتہ نہیں ہوتا کہ واپسی کب ہوگی ،تو ایسے تمام مواقع پر صحابیات کا خاموش کردار دل تڑپا دینے والا ہوتا ،جب وہ رات کے اندھیروں میں ضرورت مند صحابہ کے گھروں کے اندر جاتیں اور حسب گنجائش مدد کر دبے پاؤں واپس آجاتیں ،کبھی پڑوس کے بچوں کو بہلا کر اپنے گھر لاتیں اور چپکے سے اس کے پیٹ کی آگ بجھا کر ماؤوں کے پاس پہنچا دیتیں ،مرہم پٹی کے سامان ودیگر ضروریات کے لئے اپنے پڑوسن کے چہروں پر نظر رکھتی تھیں ،


حضور نے ہمیں ایسی تعلیم دی ہے کہ ہم خود بھو کا رہنا تو گوارہ کرلیں گے ،مگر ہماری بہن اور اس کے بچوں کو روتا بلکتا ہم برداشت نہیں کرسکتے ، کمزور حال لوگوں کی خودمدد کرنا اسی طرح دوسروں کے ذریعے مدد کروا نا بھی نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام کی پیاری سنت ہے ، پوری زندگی حضور نے تنگ دستی کے باوجود لوگوں کی خیر خواہی کی کوشش کی ہے ،ہماری توجہ اس طرف بھی اٹھنی چاہئے اور اس وقت کو بھی یاد کیا جانا چاہئے ،جب حضورعلیہ الصلوات والسلام وحی الٰہی کے نزول اور نبوت کی ذمہ داری کی وجہ سے انتہائی پریشان تھے ،گھبرا رہے تھے ، خاتون جنت حضرت خدیجۃ الکبری نے آپ کی دل جوئی فرمائی اور کہا کہ "اللہ آپ کو ضائع نہیں کرے گا ،آپ لوگوں کا خیال رکھتے ہیں ،ان کو کھانا کھلاتے ہیں ،ان کی ضرورتیں پوری کرتے ہیں ،وہ اللہ آپ کی ضرور مدد کرے گا ” معلوم ہوا کہ جو دوسروں کی ضرورت پوری کرتا ہے اللہ اس بندے کی ضرورت کو پوری کرتا ہے ،اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مدد کا ہاتھ بڑھانے والا بندہ خواہ مرد ہو یا عورت ، نامراد نہیں ہوتا ،اللہ اس کو ضائع نہیں کرتا ،وہ اللہ کی دیکھ ریکھ میں رہتا ہے ۔


بہت سی خواتین ،حسب توفیق پاس پڑوس سمیت دور نزدیک کے رشتہ داروں کا خیال رکھ رہی ہیں ،مگر ایک بڑی تعداد ہمارے محلوں کے گھروں کے اندر ایسی ہیں ،جو محتاج ہیں ،مگر دینی غیرت ،خاندانی عزت وحمیت منھ کھولنے کی اجازت نہیں دیتی ،خدا را ایسوں کو تلا ش کیجئے ،ان کو بے سہار مت چھوڑئیے ،دینے کے لئے بہت سارے بہانے تلاش لیجئے ،انسانیت کے لئے آگے آئیے ،خواتین میں ہمدردی اوروں کے مقابلے زیادہ ہوتی ہے ،آخر آپ کی ہمدردی کب جاگے گی اور شرافت کب کام آئے گی ، آپ بھی صحابیات کی طرف سے کی جانے والی خاموش مدد والی ان سنتوں کو زندہ کیجئے ، دن کے اجالے میں تو سبھی ملتے ہیں ،کبھی رات کے اندھیرے میں بھی ملنے کی راہ تلاشئیے ،اللہ آپ کو نامراد نہیں کرے گا ،روزی کا خزانہ اسی اللہ کے پاس ہے ،جس نے ہر حیثیت کے انسان بنائے ہیں ، آئیے دل کو دل سے راحت پہنچائیے "نیکی کردیا میں ڈال "جیسے بے لوث مزاج کے ساتھ سماج کے کمزور ،غریب ،مسکین ،نادار ،یتیم ، بیوہ ،بے سہارا اور بے روزگارو لاچار لوگوں کو بنیادی مدد فراہم کیجئے۔
ضرور ت ہے کہ باتوفیق خواتین ، اس اہم فریضے کے لئے اپنی سطح سے ایک ٹیم تیار کریں اور ضرورت کے لائق اپنے ایسے تمام رشتہ داروں سے رقوم اکٹھا کریں ،ذاتی تقاضے کم کریں ،ضرورت مندوں کا خیال رکھ کر اپنے زیورات بھی فروخت کر یں ،اپنے رکھے رکھائے جمع شدہ پیسوں میں سے دوا اور علاج کے لئے دم توڑ رہے لوگوں کی جان بچانے میں مدد کریں ،محلہ وائز یا کم ازکم گاؤں سطح پر خواتین ونگ کی اپنی ایک ایسی مضبوط ٹیم تیار کریں جو بوقت مصیبت اپنی پوری آبادی کی مدد کے لئے سب سے پہلے کھڑی ہونے کا رضاکارانہ جذبہ رکھتی ہوں ، فنڈنگ کے لئے خواتین ٹیم ، دوست ، احباب سمیت ، شوہر ،سسر ، ساس ، بہو ، بیٹا ، پوتا ، ناتی نواسہ وغیرہ کی توجہ اس اہم ضرورت کی طرف مبذول کرائیں اور ان کے ذاتی خرچے میں سے کچھ پیسے ہر مہینہ کلکشن کر کے فنڈ میں جمع کریں ،تاکہ کبھی کسی بھی وقت یکمشت رقم کی ضرورت پڑنے پر خواتین اپنی انسانی شرافت کے ساتھ مشترکہ مدد کرسکیں ۔تعاون کے جذبے سے بننے والی یہ خاتون کمیٹی ،کئی خاندانوں کے لئے راحت دل وجان ثابت ہوسکتی ہے،وہ آگے چل کر خاتون میں روزگار کو فروغ بھی دے سکتی ہے ، اس کے علاؤہ بہ غرض روزگار، قرض حسنہ کے ذریعے دی جانے والی رقم ، سماجی ،تعلیمی اورمعاشی جہتوں سے بھی ترقی وخوشحالی کا اہم ذریعہ ثابت ہو گی ،جس سے ایک مضبوط ،باکردار ،خود کفیل اور صالح معاشرہ تشکیل پائے گا………(جاری)

دنیا  نہ جان   اس کو میاں  ،دریا کی یہ منجدھار ہے
اوروں  کا  بیڑا   پار  کر ، تیرا  بھی  بیڑا   پار  ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button