فکر و نظر / مضامین و مقالات

فکر ونظر

کمزور پڑتی معیشت اور خواتین میں امداد باہمی کا رجحان

(دوسری قسط)

✍🏻:عین الحق امینی قاسمی *

سرسید علیہ الرحمہ کی والدہ ایک دفعہ سخت بیمار ہوئیں ،عظیم ماں کا ہونہار بیٹا فورا ایک حکیم کے پاس گیا اور حالت بتا کر تقریبا ہزار روپے کی دوا لے کر ماں کے پاس واپس لوٹا،ماں سے کہا پابندی کے ساتھ اس ترکیب سے روزانہ دوا استعمال کرنی ہے ،اتفاقا سرسید کے گھر میں کام کرنے والی آیا بھی اسی مرض میں مبتلا تھی ،سرسید صاحب کی والدہ نے اٹھا کر ساری دوائیں آیا کو دیدیں کہ میں مروں یا بچوں ،اس آیا کو مجھ سے زیادہ دوا کی ضرورت ہے ،اس کے پاس چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں ، ہفتہ دس دن کے بعد سرسید والدہ سے ملنے آئے تو ماں کی بہتر صحت کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ ماں نے دوا پابندی سے لی ہے ،جس کا صاف اثر صحت پر محسوس ہورہا ہے ، ماں تو ماں ہوتی ہے ،بیٹے کو خوش ہوتے دیکھ کر ان کی والدہ نے حقیقت حال بیان کردیا کہ بیٹا لطیفہ ہوگیا ،سرسید چونک پڑے ! بولی ہاں ،لطیفہ یہ ہوا کہ میں نے دوا کی ایک خوراک بھی نہیں کھائی ،چوں کہ میری ہی والی پریشانی میں گھر میں کام کرنے والی آیا بھی مبتلا تھی ،اس کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے ، وہ غریب تھی ،اس کے پاس دوا کے پیسے بھی نہیں تھے ،مجھے رحم آگیا ،میں نے اپنی والی ساری دوائیں اسے کھلا دی ،اللہ کا کرنا ایسا ہواکہ وہ بھی ٹھیک ہوئی، ادھر میں بھی صحت مند ہوگئی ۔
خدا رحم کرتا نہیں اس بشر پر
نہ ہودرد کی چوٹ جس کے جگر پر
کرو مہر بانی تم اہل زمین پر
خدا مہر باں ہوگا عرش بریں پر
ہم سب اللہ تعالی کے بندے ہیں،جورحمان ورحیم ہے ، اور ایسے نبی کے امت ہیں جو رحمۃ اللعالمین ہیں ، جو انسانوں کے لئے بھی اور دیگر چرند و پرند کے لئے بھی رحمت بناکر مبعوث کئے گئے ،کسی نے پیاسے کتے کی پانی پلا کر جان بچائی تو نبی اکرم نے جنتی ہونے کی خوشخبری دی اور کسی نے بلی کو بھوکا پیاسا ماردیا تو اس کے جہنمی ہونے کی بھی خبر دی ،یہ سب کیا ہے ؟ اسی جذبہ رحم ،مروت اور ایثار کے اپنانے کا اثر اور نہ اپنانے کا نقصان ۔
حضرت عبد اللہ بن عباس مسجد نبوی میں معتکف ہیں ،ایک شخص آتا ہے اور سلام کرکے اپنی حالت بیان کرتا ہے ، وہ پوچھتے ہیں ،کیا بات ہے چہرہ اترا اترا دکھ رہا ہے ،وہ کہتا ہے کہ میں نے فلاں سے کچھ قرض لے رکھا ہے ،مگر میری حالت اس وقت قرضہ چکا نے کی نہیں ہے ، میں شرمندہ بھی ہوں اور پریشان بھی ،حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کیا میں اس سے کہہ کر کچھ مہلت دلوا دوں ؟ اس نے کہا آپ جیسا مناسب سمجھیں ،وہ مسجد کے دروازے تک تشریف لائے تو اس نے کہا حضرت شاید آپ کو اعتکاف یاد نہیں ،انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ! مجھے خوب یاد ہے ، میرا اعتکاف ہے ،مگر میں نے اس ذات اقدس سے سنا ہے ،(یہ کہ کر روضہ اطہر کی طرف اشارہ کیا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے )اگر کوئی کسی مسلمان کی پریشانی دور کرنے کے لئے چلتا ہے ،اور کچھ سہولت پہنچا دیتا ہے تو اللہ تعالی ایسے انسان کو دس سال کے اعتکاف کرنے کے برابر ثواب عطا فرماتے ہیں ،اس لئے میں تمہاری مدد کے لئے نکل پڑا ہوں ،(خطبات سبحانی ،ج،2)
اندازہ کیجئے ،قرض اتارنے پر یہ اجر نہیں ہے ،بلکہ قرض کی ادائے گی میں مہلت دینے کی سفارش کے لئے چلنے پر اتنا عظیم اجر وثواب کا وعدہ ہے ،اگر کوئی کسی کا خود قرضہ چکا دے ،یا قرض کی ادائے گی کے لئے مدد کردے ،تو پھر اللہ تعالی کتنے بڑے انعام سے نوازیں گے !اسی لئے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "لوگوں میں بہتر ین انسان وہ ہے ،جو دوسروں کے کام آئے ،دوسروں کو نفع پہنچائے "

آدمی کے کام آنا سب سے اونچا کام ہے
آدمیت وسعت فکر ونظر کا نام ہے
ایک موقع پر حضور پاک علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ پر وردگار عالم اپنے بندے کی اس وقت تک مدد فرماتا ہے ،جب تک وہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے ،ان احادیث کے بیان کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ہماری خواتین بھی اپنے اندروسعت فکر ونظر پیدا کریں ،دل بڑا کریں ،دلو ں میں دوسروں کی مدد کے لئے جگہ بنائیں ،اللہ تعالی کی سنت ہے کہ کبھی وہ اپنے بندے کو نعمتوں سے نواز کر آزماتا ہے، تو کبھی نعمتوں سے محروم کرکے امتحان لیتا ہے ،امتحان کی یہی وہ گھڑی ہوتی ہے ،جب آپ کسی اہم سفر کی تیاری میں ہوں گے ،جب آپ اپنے بچوں کی خوشحالی کا نظم کررہے ہوں گے ،جب آپ کو خود پیسوں کی ضرورت کا احساس ہوگا ،جب آپ کچھ اچھا کھاپی رہے ہوں گے ،جب آپ کے پاس بہ ظاہر دینے کو اپنی ضرورت سے زائد محسوس نہیں ہوگا اور جب آپ کی توجہ، آزمائش والے لمحوں سے بالکل بے زار ہوگی ،تب اللہ امتحان لے گا :
ملے عروج تو انسانیت کی حد میں رہو
کہ یہی مقام ہے قدرت کے آزمانے کا
اللہ سے دعا بھی کرنی ہے کہ وہ ہمارے دل کو انسانی ہمدردی کے تئیں نرم بنادے ،ہمدردی کے مواقع ضائع نہ ہوں ،تاکہ ہم لوگوں کی مدد کرسکیں ، اوپر جن امور کی طرف رہنمائی کی گئی ہے اس کے لئے عملا بھی کوشش کرنی ہے ،مزید یہ دعا بھی کرتے رہنے کی ہے کہ وہ ہمیں اپنی آزمائشوں میں مبتلا نہ کرے :

تو مجھے نوازدے تو یہ تیرا کرم ہے ورنہ
تیری رحمتوں کا بدلہ میری بندگی نہیں ہے

*نائب صدر جمعیۃ علماء بیگوسرائے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button