POSTS
غزل "وہ چاہے نظم کا ٹکڑا کہ نثر پارہ ہو” ہر ایک شعر میں بس تذکرہ تمہارا ہو


"وہ چاہے نظم کا ٹکڑا کہ نثر پارہ ہو”
ہر ایک شعر میں بس تذکرہ تمہارا ہو
تُو مجھ کو یاد نہیں بھی کرے تو یاد آؤں
کچھ اس طرح ترے دل پر مرا اجارہ ہو
یہ میرا دل بھی مقدس کتاب ہو جیسے
محبتوں سے بھرا اس کا ہر سپارہ ہو
عجب یہ مرے دل ناتواں کی خواہش ہے
وفا نبھاتے نبھاتے یہ پارہ پارہ ہو
اے ہنسنے والے تو ہنسنے کا سیکھ فن پہلے
تری خوشی سے ترا غم نہ آشکارہ ہو
یہ سہہ رہا ہے ازل سے عذابِ تنہائی
یہ چاند بھی نہ مری طرح غم کا مارا ہو
اسی میں میرا بڑا فائدہ ھے فرزاؔنہ
جو فائدہ ہو وہ اس کا، مرا خسارہ ہو
ان خبروں کو بھی پڑھیں
- بہار مدرسہ بورڈ: فوقانیہ اور مولوی امتحانات 19 جنوری سے شروع، شیڈول جاری
- نگاہوں نے زمین پر آسماں دیکھا
- انٹرمیڈیٹ پاس اقلیتی طالبات کو ملے گا ₹15,000 کی رقم!




