بین ریاستی خبریں

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسرسمیت 44 اسٹاف کی نئے وائرس سے ہوئی موت کی اعلی سطحی جانچ ہو: نظر عالم

کورونا وبا کی آڑ میں ویران ہوتی یونیورسٹی پر ہماری خاموشی افسوسناک

دربھنگہ (محمد رفیع ساگر) کورونا وبا کی آڑ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا سب سے بڑا نقصان ہوا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یونیورسٹی کے پروفیسرسمیت 44 سے زائد اسٹاف کی نئے وائرس نے جان لے لی۔ لیکن کسی کا بھی دھیان اس جانب نہیں گیاکہ وقت رہتے اس وائرس پرقابوپایا جائے۔ جب کہ یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے لوگ پوری دنیا میں بڑے بڑے عہدے پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔بہت سارے لوگ اس یونیورسٹی کے نام پر تنظیمیں بناکر چندہ بٹور رہے ہیں اور سال میں ایک دن سرسید ڈے مناکر خودکو علیگ کہلانے پر فخر محسوس کرتے ہیں وہ بھی اس جانب دھیان نہیں دئے۔ جو کہ کافی افسوسناک ہے، یہ وہ یونیورسٹی ہے جس کے نام پر کتنوں کی سیاسی دُکانیں چل رہی ہیں۔ لیکن شاید ایسے لوگوں نے اپنے مفادکی خاطرتاریخ کو ذہن سے نکال دیا یا پھر پوری طرح سے بھلادیا ہے کہ اس یونیورسٹی کو قائم کرنے کے لئے سرسیداحمد خان نے کتنی قربانیاں دی تھیں۔ ملک کے حالات کو جب دیکھتا ہوں تو یقین نہیں ہوتا کہ سرسید صاحب کتنی اعلیٰ سوچ کے مالک تھے جنہوں نے ہماری آنے والی نسل کے مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس یونیورسٹی کو قائم کیا۔ یقینا ان کی کوشش اور قربانیوں کو فراموش نہیں کیاجاسکتا۔

انہوں نے مسلم نوجوانوں کے لئے یہ تعلیمی ادارے کو قائم کیا یہ ابھی کے وقت میں مسلمانوں کا بہت بڑا سرمایہ ہے اور اسے بچائے رکھنا، اس کی بہتری کو آگے بڑھانا اور اس سیجڑے اسٹاف، پروفیسرس کے ساتھ درپیش مسائل کے حل کے لئے نہ صرف حکومتیں اور انتظامیہ کو آگے آنے کی ضرورت ہے بلکہ ملک کے ہرفردخاص کر مسلمانوں کی اصلذمہ داری ہے۔ آل انڈیا مسلم بیداری کارواں اس وبا کی زد میں آکر یونیورسٹی سے جڑے پروفیسرس اور دیگر اسٹاف کے گزرجانے پر گہرے دُکھ کا اظہار کرتا ہے اور مرحومین کے اہل خانہ کے دُکھ میں خودکو برابر کا شریک سمجھتا ہے۔ ان باتوں کا اظہارخیال کرتے ہوئے مسلم بیداری کارواں کے قومی صدرنظرعالم نے افسوس کیا کہ جس یونیورسٹی کو سنٹرل یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہو اور اس میں تعلیم حاصل کرنے والے نہ صرف ملک ہندوستان بلکہ بیرون ملک میں اپنی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہوں اس کا وائس چانسلر بھی اتنا لاپرواہ ہوگا یہ کبھی سوچا نہیں تھا۔ لوگوں کی مانیں تو 44نہیں بلکہ 70 سے زائد اسٹاف کی نئے وائرس نے جان لے لی اور یونیورسٹی کا پورا سسٹم منھ دیکھتا رہا۔ اتنا ہی نہیں وائس چانسلر نے اتنے لوگوں کی جانیں جانے کے بعد ICMR کو خط لکھ کر صورت حال سے آگاہ کیا، جب کہ اُنہیں برقت اس اقدام کو اپناناچاہئے تاکہ اتنی زیادہ سنگین صورتحال نہیں ہوتی۔نظرعالم نے اترپریش اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لگ بھگ 44 لوگوں کی موت کورونا وبا کے نئے وائرس کی وجہ کر ہوچکی ہے آگے اس تعداد میں اضافہ نہ ہواعلیٰ سطحی جانچ کرواکر وہاں پھیلے نئے وائرس پر قابو پایا جائے اور یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ بچے ہوئے سارے اسٹاف اور طالب علم کوڈاکٹروں کی ٹیم کی نگرانی میں ساری سہولیات دستیاب کرائی جائے۔

نظرعالم نے یونین کے نیتاؤں اور بریانی ماسٹروں سے بھی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹی ہے تو ہم سب ہیں، اسے بچا لیجئے،نظرعالم نے آگے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیادُنیا بھر میں جو AMU Alumni Associations بنی ہوئی ہے وہ صرف مشاعرہ کرانے کے لئے یا پھر سرسید ڈے پر ڈِنر کرنے کرانے کے لئے بنی ہوئی ہے؟ آج تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کورونا کے مریضوں کا علاج کرنے میں آکسیجن اور دوائیوں سے جوجھ رہا ہے اور لوگوں کی آئے دن جانیں جارہی ہیں تو کیا ان Alumni Associations کو مدد کے لئے آگے نہیں آنا چاہئے؟ کیا یہ Alumni Associations علی گڑھ کے میڈیکل کالج کے لئے کچھ Oxygenکا انتظام کرانے کی بھی اوقات نہیں رکھتی یا لوگوں کی مدد کا جذبہ نہیں بچا ہے؟ نظرعالم نے تمام لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بچے ہوئے اسٹاف اور یونیورسٹی کو بچانے کے لئے آگے آئیں کیوں کہ ہمارے بڑے بڑے استاذ(پروفیسر) اور اسٹاف نظرکے سامنے علاج اور دیکھ بھال نہیں ہونے کی وجہ کر ہمیں چھوڑ کر چلے گئے اور ہم کچھ نہ کرسکے۔ کیا سرسیداحمد خان کی روح کو سکون مل رہا ہوگا؟ کیا اسی دن کے لئے انہوں نے یہ قربانیاں دی تھیں اور ہمارے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے اس یونیورسٹی کو قائم کی تھی کہ ہمارے پروفیسرس اور اسٹاف مرتے رہیں اور ہم تماشہ دیکھتے رہیں۔ آگے آئیے، حکومت اور انتظامیہ سے ملئے اور آگے اور جانیں نہیں جائیں اس کے لئے ٹھوس اقدام اٹھائیے، یہی سرسید احمد خان کے لئے سچی خراجِ عقیدت ہوگی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button