علمی دنیا کا اہم ستارہ غروب ہوگیا۔مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

پٹنہ ٢٢/جولائی (پریس ریلیز) مولانا نذیر احمد خاں صاحب کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ ہے، علمی دنیا کا اہم ستارہ غروب ہوگیا، ان کی ذات بڑی بافیض تھی، ان کے شاگردوں کی بڑی تعداد ہے، انہوں نے جمعیت علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے مفید خدمات انجام دیں، پوری زندگی پوری دلجمعی کے ساتھ مدرسہ ضیاء العلوم پریوارکسول میں دینی تعلیم کے فروغ میں لگا دیا، وہ درجنوں تعلیمی اداروں اور مدارس کے ذمہ دارتھے، ان خیالات کا اظہار وفاق المدارس الاسلامیہ کے ناظم، کاروان ادب حاجی پور کے صدر اور اردو کارواں کے نائب صدر مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے کیا،

انہوں نے فرمایا کہ ٢٢/جولائی ٢٠٢١ء کا دن حضرت کے وفات کے صدمہ کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا، مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے فرمایا کہ ان سے میری کئ ملاقاتیں تھیں، حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب ناظم جامعہ عربیہ اشرف العلوم کنھواں کے عہد میں ہم دونوں طلبہ کا امتحان برسوں ساتھ ساتھ لینے کے لیے حاضر ہوتے، وہ میری تحریروں کی تعریف کرتے، خصوصاً تفہیم السنن شرح اردو آثار السنن کی ستائش کرتے اور ہر ملاقات میں اس کی تکمیل کی تلقین کرتے، ایک دفعہ وہ اپنے ساتھ ضیاء العلوم رکسول ضلع مشرقی چمپارن بھی لے گئے، ایک موقع سے ایک جلسہ میں بھی حاضری ہوئی تھی، صدارت حضرت ہی کی تھی، یہ جلسہ یاداس لیے رہ گیا کہ ایک رات میں شرکاء کے اصرار پر دوبارہ تقریر کرنی پڑی تھی، مولانا اس دور میں بقیۃ السلف تھے، ان کی تواضع، انکساری دیکھ کر یقین ہوتا تھا کہ شاخ ثمر دار ہمیشہ جھکی رہتی ہے، مفتی صاحب نے اپنے تعزیتی بیان میں حضرت کے لیے مغفرت اور پس ماندگان، متعلقین اور شاگردوں کے لیے صبر جمیل کی دعا فرمائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں