صبر وعزیمت کے انمٹ نقوش

تحریر:ام ہشام ،ممبئی


اس مرد آہن پر آزمائشوں کا سلسلہ ابھی تھماہی کہاں تھا کہ ایک نئ آزمائش ،آکر گویا پھر اسے پرکھنا چاہتی تھی ۔اس کے رب کا حکم تھا،کہ ابراھیم ؑ!!بیوی اور بیٹے کو فلاں مقام پر چھوڑ آؤ۔ مرد آہن نے اپنے رب کے اس فرمان کو سنا اور “سمعنا و اطعنا “کی تفسیر ہوگیا –


دراصل جن کے دل اللہ کی محبت سے سرشار ہوتے ہیں، جو اپنی ذات کو مکمل طور پر رب کے حوالے کرنے والے ہوتے ہیں اسطرح کہ وہ لیل ونھار اللہ کی رضا کے حصول کے لیے زاہدانہ مشقت برداشت کرتے ہیں ۔اس کی رضاجوئی کے وسیلہ اختیار کرتے ہیں ،پھر اس کی راہ میں مصیبتیں اور تکلیفیں اٹھانے میں صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔بالخصوص اس معاملہ پربھی جو ان کی طاقت سے حقیقتاً باہر ہوتا ہے ۔
دراصل یہی اولوالعزم اور اہل استقامت ہوتے ہیں ۔جو اپنے تمام معاملات کو پورے صبر اورب استقامت کے ساتھ اللہ کے سپرد کرنے والے ہوتے ہیں- اور پھر اللہ بھی انہیں بدلہ میں ایسے انعام و اکرام سے نوازتا ہے کہ انسانی عقل اس کا وہم و گمان بھی نہیں کرسکتی خواہش تو دور کی بات ہے –


اس روز آسمان اپنی عظمت کے باوجود بہت عاجز نظرآرہا تھا۔اور یہ زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود بڑی تنگ ہوچلی تھی ،وہ ننھی سی جان کو گود میں لئے اپنے شوہر کے ہمراہ سر جھکائے چل پڑی تھی ،گویا کہہ رہی ہو “میرے سرتاج میری زندگی کا ہر لمحہ، ہر پل آپ کی خوشنودی اور رضا جوئی پر قربان ہے -ہمیں یہ جاننے کی ضرورت نہیں !!!کہ آپ ہمیں کیسے اور کس جگہ لے جانے والے ہیں …آپ جہاں چاہیں گے میں آنکھیں بند کرکےوہاں چل پڑوں گی ” یوں بھی ایک باوفا عورت کی پوری زندگی اس کے شوہر کے اردگرد ہی گھومتی ہے –


ادھر مرد آہن بھی تیز قدموں سے ان دونوں کو منزل تک پہنچانے کو کوشاں تھا-اور بیوی کے دل میں اس بات کا اطمینان تھا کہ شاید گذشتہ ایام کی طرح وہ پھر اپنے شہر سے کسی دوسرے شہر ہجرت کررہے ہیں – حال یہ تھا کہ شوہر کے کندھے اس حکم کے بوجھ سے جھکے جارہے تھے جو الہامی تھا،آسمانی تھا اور کوئی کمزور اعصاب کا مالک ، عام انسان ہر گز اس کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا – ہر کسی کو ایسے عظیم الشان حوصلوں اور جذبات کی سوغات نہیں ملتی- صدیوں بعد زمین اپنے سینے سے ایسی خاک اگلتی ہے ۔


محبوب کی محبت ،محب سے اپنے ہونے کا یقین چاہ رہی تھی ،خود کے لئے کوئی قربانی چاہتی تھی -ادھر وہ مرد آہن بھی جلد سے جلد بیوی اور بچے کو اللہ کی بتائی ہوئی جگہ تک پہنچادینا چاہتےتھے –


چشم فلک بڑی حیرانی سے اس ننھے کارواں کو تک رہا تھا ۔ان کی قسمت پر رشک کررہا تھا کہ مبارک ہو !!! تمہارے عزم وحوصلہ کی بلندیاں ہمارے قدو قامت سے کہیں زیادہ بلند وبرتر ہیں ۔


تمہارے صبر واستقلال کی داستانیں ,آسمان میں فرشتے رب کے سامنے گنگناتے پھررہے ہیں ،ان نفوس قدسیہ پر سلامتی کے کلمات بھیج رہے ہیں جن میں سے ایک کو رب کریم نے اپنا خلیل چن لیا , دوسرا جسے ابھی ” ذبیح اللہ کا لقب پانا ہے کہ ,جس کی نسل سے نبی آخرالزماں اس دنیا کے وجود میں آئیں گے –


تیسرا بظاہر تو کمزور ہے لیکن اندر سے اتنی پائیدار شخصیت کی مالک کہ پہلے بھی بڑے سے بڑے حادثات کبھی اس کے ایمان و توکل کو متزلزل نہیں کرسکے –


زوجہ ابراھیم ؑ (ھاجرہ رضی اللہ عنھا ) ایک ایسی عظیم خاتون ,جو ایک نبی کی معیت میں ہیں تو ,دوسرا نبی(اسمعیل ؑ) اسکے آنچل میں لپٹا ہوا ہے جسے وہ سینہ سے لگائے ہوئی تھیں ,اور آگے چل کر اسی بچے کی نسل نبی آخر الزماں کو وجود میں لانے والی تھی –


سبحان اللہ .. ……قدم در قدم فضیلتیں اور برکتیں انکی منتظر تھیں , اس نیک عورت کے لیےوہ دن ہمیشہ کیلئے ماتھے کا جھومر بننے والا تھا،اس سفر میں اسے پیش آنے والی تمام تکالیف ,تھکاوٹ کے بدلے رہتی دنیا تک اللہ رب العزت کا اپنے لاکھوں دیوانوں (حجاج کرام)کو ایک عورت کے قدموں کے نشاں پر دوڑنے کو حج کا لازمی رکن بنا کر لوگوں کے لئے نقش قدم بنادینا -“یہ سب قدرت کے ان عظیم رازوں میں سے ایک تھا ،جو ابھی اس ننھے سے کارواں پر نہیں کھلا تھا” اور پھر اس کارواں پرا بھی تو اللہ کی ذات پاک کی وہ حکمتیں روشن ہونا تھیں ،جو اس نبوی گھرانے کو ان کی آئندہ زندگی کے مقاصد ،اسکی مشکلات کو اچھی طرح سمجھ لینے کا وقت دینا چاہتی تھی – بالآخر یہ کارواں چلتا ہوا اپنی منزل کو پہنچا- “اسی جگہ”!!!!!!!!،جہاں جانے کا اشارہ انکے رب نے انکو دیا تھا – جگہ بھی کیسی تھی جہاں نہ کوئی آدم نہ آدم زاد ،دور دور تک بس ریت کے توندے ،حد نگاہ تک ایک ریتیلا سمندر جسے دیکھ کر ہی تنہا انسان کے حوصلے پست ہوجائیں ،اور آگے بڑھنے کی بجائے وہ شکستہ پا ہوجائے – اس “رب حکیم و علیم” کے علاوہ کسے یہ خبر تھی کہ ایک دن وہ بھی آئے گا جب یہ بے آب وگیاہ زمین ساری دنیا کے لئے مرکز توحید ہوگی -یہ ویرانہ جسے دیکھ کر لوگوں کے دل ہیبت سے بھر جاتے ہیں ،یہی ہیبت زدہ زمین اسی نبوی گھرانے کی آمد سے تبرک و تقدس کیساتھ لوگوں کے سجدہ وجبینوں سے معمور ہوگی-


کارواں بالآخر اپنی منزل کو پہنچا – ابراھیم (علیہ السلام) نے بیوی اور بچے کو ایک درخت تلے چھوڑا اور اپنے قدم واپسی کو موڑ لئے – ھاجرہ بڑی بےقراری اور اضطراب کیساتھ انکی جانب لپکیں۔ پیچھے پیچھے چل پڑیں اور سوال کرتی رہیں کہ اس ویرانہ میں ہمیں کس کے بھروسہ چھوڑے جاتے ہو!!!!! شوہر نے سر کو جھکایا اور آگے چلنے لگے بڑے ہی اضطراب کےساتھ پوچھنے لگیں کہ کچھ کہیے تو اس زمین میں کس کے بھروسے چھوڑے جارہے ہو یہاں نہ ہی ہمارا کوئی انیس ہے نا جلیس – پھر خود ہی پوچھا کہ ،کیا یہ اللہ کا حکم ہے ………تو ابراھیم (علیہ السلام ) نے جواب دیا !! ہاں .. یہ سنتے ہی بیوی کے چہرے پر اطمینان پھیل گیا -طمانینت کے ساتھ شوہر سے کہا پھر آپ جائیے اگر یہ آپ کے اس رب کا حکم ہے تو پھر آپ بے فکر ہوکر جائیے ۔


دراصل اس نیک عورت کے دل میں “لن یضیعنا ” کی مشعل روشن ہوچکی تھی اوراس نیک بخت نے اپنے شوہر کو بھی یہی کلمات بطور تحفہ عنایت کرتے ہوئے واپس بھیج دیا – ھاجرہ (رضی اللہ عنہا )اس تھیلی سے کھجور اور پانی استعمال کرتی رہیں یہاں تک کہ وہ بھی ختم ہوگیا – بچہ شیر خوار تھا ماں کے سینے سے لگ کر اپنی بھوک مٹا رہا تھا ۔توشہ ختم ہونے سے ماں کے سینے میں موجود بچے کی غذا بھی کم ہوتے ہوتے ایک دم ختم ہوگئ- ماں نے یہاں وہاں پانی کی تلاش میں نظریں دوڑائیں لیکن کہیں کچھ نہ دکھتا تھا – پیاس سے حلق میں کانٹے اگ آئے تھے – جسم نڈھال ہوا جارہا تھااس پر یہ کہ بچہ بھی بھوک سے بلبلا رہا تھا – ایک ماں کےلئے بڑا ہی صبر آزما مرحلہ تھا ،ایک ماں سب کچھ برداشت کرلیتی ہے خود پر آئی ہوئی بڑی بڑی مصیبت اور تکلیفیں اسے اولاد کی تکلیف کے آگے ہلکے محسوس ہوتی ہیں – لیکن اولاد کی بھوک اسکے حوصلوں کو کمزور کردیتی ہے ,جسے مٹانے کے لئے وہ کسی بھی حد تک جاسکتی ہے ،لیکن یہاں تو معاملہ ہی برعکس تھا ،شکوہ شکایت کی بجائے ……جوں جوں بچہ کے رونے میں اضافہ ہورہا تھا ،ھاجرہ (رضی اللہ عنھا) کی دعا و مناجات کی صدائیں زور پکڑتی جارہی تھیں – ظرف کا پیمانہ یہ تھا کہ ایک لمحے کو بھی انھیں یہ خیال نہیں گزرا کہ میں یونہی بیٹھی رہوں اور جس رب نے اسکے شوہر کو اپنا خلیل مان لیا ہے وہ ہر صورت میری مدد کریگا ،تو میں کیوں پریشان ہوتی ہوں –


خود کو حالات کے دھارے پر نہ چھوڑتے ہوئے،وہ اپنی جگہ سے اٹھیں اور وادی کے نشیب میں دوڑتی ہوئیں صفا کی پہاڑی پر پانی تلاشنے لگیں – پھر کچھ دیر بعد تنہا بچہ کا خیال بے چین کردیتا تو پھر وہاں سے بھاگتی ہوئی بچے کی سلامتی دیکھنے نیچے اتر آتیں- بچہ کی شدت پیاس دوبارہ پانی کی تلاش پر ابھارتی وہ اس باردوسرے جانب کی مروہ نامی پہاڑی کا قصد کرتی ہیں اس پر چڑھتی جاتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ رب سے دعا و مناجات کرتی ہیں ،مدد کی امید لگاتی ہیں بچے کا خیال آتے ہی پھر بچے کی جانب دوڑتی ہوئی آتی ہیں ،ایک پھیرے پر دوسرا پھیرا سخت سے سخت ترین ہوتا چلا جارہا تھا ،کیونکہ جس پانی کے لئے یہ سعی مسلسل جاری تھی اسکا کہیں نام ونشان نہیں تھا- اس بھاگ دوڑ میں انھوں نے جب اپنے سات چکر مکمل کرلئے اسوقت وہ مروہ پر تھیں کہ تب کہیں سے ایک آواز سنائی دی – ..پہلے انھیں خیال آیا کہ شاید صحرا کے سراب کی طرح یہ آواز بھی کوئی دھوکہ ہی ہے پھر سے وہی صدا سنائی دی ،آواز پر کان لگا کر سناتو کہہ اٹھیں “اے اللہ کے بندے! اگر تو ہماری مدد کرسکتا ہے تو ضرور کر “


پھر انھوں نے حضرت جبرئیلؑ کو اسمعیلؑ کی جگہ پر کھڑا دیکھا – پہاڑی سے نیچے اتر کر بچے کے پاس آئیں – زمزم اپنے وجود میں آچکا تھا وہ خوشی سے نیہال ہوکر پانی کے گرد بندھ بنانے لگیں – اور اس نیک بخت بیوی کی آزمائش کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور رب کے انعام واکرام کا سلسلہ شروع ہوا – آگے کے حالات کو ہزاروں بار کاغذ پر منتقل کیا جاچکا ہے – مگر اہل اسلام کی تشنگی ہنوز برقرار ہے …..!!!!!!!
سچ ہے کہ جب تک انسان نے خود کو رب ذوالجلال کے حوالے کیا ہے قدرت نے اسے کبھی بے یارو مددگار نہیں چھوڑا – آزمائش بھی انہیں کی ہوتی ہے جو آزمائش کے خوگر ہوتےہیں،آزمائش کی بھٹی میں وہی محبوب رشتے پکائے جاتے ہیں جن کے بغیر انسان کا جینا محال ہوجائے – قدرت دیکھنا چاہتی ہے کہ میرے بندے میں تسلیم ورضا کی “خو کتنی اندر تک پیوست ہے –


عام حالات میں ایک شوہر گر بیوی کو ایسے لق ودق صحرا میں چھوڑ جاتا تو شاید بیوی اسے ہرگز نہ جانےدیتی یا مایوسی کی لپیٹ میں آکر اپنی جان دے دیتی – اس ناتواں سی عورت نے اپنے خالق ومالک پر جس درجہ توکل اور اعتماد کا ثبوت دیا وہ تاقیامت دنیا کی تمام خواتین کے لئے نقش قدم اور ایک زندہ مثال ہے – اتنے کٹھن حالات میں بھی ہوش وحواس قائم رکھتے ہوئے مشکل سے باہر نکلنے کے اسباب صرف اولو العزم لوگ ہی تلاش کرسکتے ہیں – وہ تو حضرت ھاجرہ کا رب کی ذات پر یقین کامل تھا “جو انھیں ایک دوڑ کے بعد دوسری دوڑ کے لئے توانائی اور ہمت فراہم کرتا رہا – ان واقعات میں ہمارے لئے “زندگی ” ہے “جان” ہے – “ایثار و قربانی اور رب ذوالجلا ل کی ذات پر مکمل بھروسہ یہی ہماری” دنیاوی زندگی ” کا اصل معیارہیں”-
تو آئیے اس معیار پر کھرا اترنے کی کوشش میں پہل کریں –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں