بہاردربھنگہ

شعبہ اردو، جے۔ کے کالج ،بیرول کے زیر اہتمام یک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد ۔ مقامی اور غیر مقامی ادیبوں کا اجتماع

” تعلیم ایسا زیور ہے جس سے خواتین اپنے مقاصد کو پالیتی ہیں ، اور تعلیم سے ہی اپنے حقوق کی لڑائی لڑ سکتی ہیں،، پروفیسر مشتاق احمد

دربھنگہ (پریس ریلیز) قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، حکومت ہند، نئی دہلی کے مالی تعاون شعبہ اردو، جے ۔کے کالج بیرول، دربھنگہ کے زیر اہتمام یک روزہ قومی سیمینار بعنوان ”ہم عصر اردو افسانے میں نسائی ڈسکورس“ کا انعقاد کیا گیا جس میں ریاست بہار کے علاوہ دیگر ریاستوں کے مقالہ نگاروں اور دانشوروں نے شرکت کی۔ سمینار چار نشستوں پر مشتمل تھا۔ افتتاحی نشست میں اردو کے نامور ادیب و صحافی پروفیسر مشتاق احمد، رجسٹرار، متھلا یونی ورسٹی، دربھنگہ نے کلیدی خطبہ پیش کیا۔ اس موقع پر انھوں نے کہا : "تعلیم ایسا زیور ہے۔ جس سے خواتین اپنے مقاصد کو پالیتی ہیں ، اور تعلیم سے ہی اپنے حقوق کی لڑائی لڑ سکتی ہیں۔،،

مہمان خصوصی پروفیسر محمد آفتاب َاشرف، صدر شعبہ اردو، للت نرائن متھلا یونی ورسٹی نے بتایا ہے کہ تانیثیت ایک تحریک ہے، جو عورتوں کو سماج میں ان کا مناسب حق دلانے پر مبنی ہے۔ مہمان اعزازی ڈاکٹر محمد زاہد الحق، ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ اردو، یونی ورسٹی آف حیدرآباد نے فرمایا کہ خواتین ہمارے سماج کے لیے‌ اساس کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کو ان کا جائز حق دینا قوم کو مضبوط کرنے‌کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیں

گھریلو علاج / Home Remedies : جسم پر جگہ جگہ خارش شروع ہو گئی ہے تو ان 5 گھریلو ٹوٹکوں پر کریں عمل ، آپ کو خارش کے مسئلے سے مل جائے گی نجات

اس موقع پر ان کے علاوہ دیگر مشاہیر ادب نے بھی اردو زبان و ادب کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پروگرام کی دوسری نشست میں آٹھ اور تیسری نشست میں سات مقالہ نگاروں نے اپنے مقالات پیش کیے ۔سیمینار کے کنوینر ڈاکٹر مسرور احمد حیدری، استاد شعبہ اردو، جے۔کے کالج، بیرول نے اس سمینار کی اہمیت کے حوالے سے گفتگو کی اور مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر ایس۔این پانڈے نے مہمانوں کا استقبال کیا انھوں نے کہا کہ اردو ایک میٹھی زبان ہے، اس کی مٹھاس کو ہم اکثر محسوس کرتے ہیں۔

افتتاحی نشست کے صدر اور ڈی ایس کالج کے شعبہ اردو کے سابق صدرعبداللطیف حیدری نے فرمایا کہ یہ ایک خوش آئند موقع ہے۔ دیہی علاقوں میں اس طرح کے پروگرام کا انعقاد اردو کے ساتھ ساتھ سماج کے لیے بڑا سود مند ثابت ہوگا۔ ڈاکٹر اظہار احمد، پورنیہ یونیورسٹی نے کہا ڈاکٹر مسرور احمد صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں جے کے کالج بیرول میں ایک ایسا پروگرام منعقد کیا، جس کی مثال اس کالج کے شعبہء اردو کی تاریخ میں نہیں ملتی. ڈاکٹر انور ایرج نے کہا کہ تاریخ شاہد ہے کہ اس مرد اساس سماج میں مردوں نے دیگر میدانوں کے ساتھ ساتھ ادب کے میدان میں کیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس کا تدارک کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

گھر بیٹھے آدھار کارڈ میں اپنا موبائل نمبر یا نام، پتہ تبدیل کریں، جانیں یہ آسان طریقہ

आरबीआई ने पेटीएम पेमेंट्स बैंक को नए खाते खोलने से रोककर झटका दिया।

پہلے تکنیکی اجلاس کی صدارت ڈاکٹر محمد زاہد الحق، ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ اردو، یونی ور سٹی حیدرآباد اورنظامت ڈاکٹر مطیع الرحمن نے کی جبکہ دوسرے تکنیکی اجلاس کی صدارت ڈاکٹر انور ایرج، صدر شعبہ اردو، ڈی۔ایس کالج، کٹیہار اور نظامت کے فرائض محمد خوشتر یونیورسٹی آف حیدرآباد نے انجام دیا ۔اس موقع پر ڈاکٹر مسرور احمد حیدری کی کتاب” مظہر الزمان خاں کا تخلیقی جہان“ کی رسم رونمائی کی گئی۔

اس پروگرم میں خصوصی طور پر ڈاکٹر تنزیل اطہر، ڈاکٹر نظام الدین احمد، ڈاکٹر محمد مطیع الرحمن، ڈاکٹر مجاہد حسین، ڈاکٹر ارشاد علی کولکتہ، ڈاکٹر محمد قاسم کیرالا، ڈاکٹر شریف احمد ایودھیا، ڈاکٹر مسرور صغریٰ، ڈاکٹر قسیم اختر، ڈاکٹر منہاج الدین، جناب محمد خوشتر، ڈاکٹر صغیرہ سلطانہ، ڈاکٹر وصی احمد شمشاد، مشتاق احمد ندوی اور ڈاکٹر اعجازِ احمد وغیرہ نے اپنے مقالات پیش کیے۔ جبکہ پروفیسر منصور خان، ماسٹر نسیم صاحب، مولانا مفتی رضوان قاسمی شاہد خان، ماسٹر عبداللہ، ابو حمزہ، راشد، امیر حمزہ، نیلوفر بانو، عفت پروین، زیبا پروین، شمع، صبا، تبسّم پروین، محمد انعام, عائشہ پروین، عابدہ پروین وغیرہ کے علاوہ سیکڑوں ں کی تعداد میں ادب نواز شائقین اور طلبا و طالبات موجود تھیں۔

قومی ترجمان کا ٹیلیگرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں کلک کریں!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button