بین ریاستی خبریںفکر و نظر / مضامین و مقالات

سوشل میڈیا کا بڑھتا نشہ والدین اور اساتذہ کی ذمہ داریاں : شیبا کوثر ( آرہ ،بہار )

دور ِجدید میں سوشل میڈیا اطلا ت کا سب سے تیز ترین ذریعہ ہے جس کی بدولت دنیا ایک گلو بل ویلج بن چکی ہے اب ہم جہاں بھی ہوں جو بھی معلومات درکار ہوں ایک پل میں ہمیں موصول ہو جاتی ہیں ۔سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی اثرات تیزی سے پھیل رہے ہیں ،جب یہ ایک حقیقت بن چکی ہے کہ اس کے بغیر زندگی گزارنا اب مشکل ہے تو ایسے میں لازم ہے کہ والدین اور اساتذہ کو پوری طرح اس بات کی آگاہی ہونی چاہئے کہ سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی اثرات کیا ہیں اور اس پر موجود معلومات اور مواد کی حقیقت اور سچائی کو کس طرح جانچا جا سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ جو بات اہم ترین ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی نوجوان نسل کی تربیت کرتے وقت ان کو غلط اور صحیح سچ اور جھوٹ،جائز اور نا جائز کے درمیان فرق کے ساتھ مثبت اور منفی رویوں کی پہچان بھی سیکھانی ہوگی ۔

ہندوستان میں گزشتہ کئی سالوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا کا غیر معمولی استعمال ہو رہا ہے اور نوجوان بڑھ چڑھ کر اس کا استعمال کرتے اور اس سے متاثر ہوتے بھی نظر آرہے ہیں ۔یہ بات قابل غور ہے کہ کوئی بھی نیم خوا ندہ معاشرہ با آسانی انتہا پسند رویوں کا شکار ہو کر تعمیر ی سر گرمیوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے ۔آج کل سوشل میڈیا کے ایسے گمنام یا اپنی اصل شنا خت چھپا ئے ہوئے صارف جن کا مقصد جھوٹ سچ کی آ میز ش یا طنز و مزح کی آڑ میں انتشار پھیلانا ہوتا ہے،بڑ ے متحرک ہیں ۔ہم سب اس سنگین صورتحال سے آگاہ تو ہیں لیکن سد باب کے لئے عملی طور پر کوئی منظم سوچ یا کوئی مربوط حکمت عملی نظر نہیں آ رہی۔اس حوالے سے شاید تجو یز یہی ہو سکتی ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت اور قابلِ قبول استعمال کے حوالے سے معاشرے میں آگاہی کی ضرورت ہے جس میں والدین اور اساتذہ کو سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی باریکیوں سے آگاہ ہونا ہوگا تاکہ وہ اپنی اولاد اور شاگرد وں کی تربیت کرتے وقت اس اہم مگر بڑی حد تک نظر انداز معاملے پر مناسب توجہ دے سکیں ۔اس حوالے سے والدین کی اولین اور اہم ترین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو کس عمر میں انٹرنیٹ اور اسمار ٹ فون تک رسا ئی دینے کا فیصلہ کرتے ہیں ۔پھر رسا ئی سے پہلے اور رسا ئی کے دور ان ان کی مناسب بنیاد ی تربیت اور نگرانی بھی نہایت ضروری ہے ۔دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارے نوجوان کی بڑی تعداد بغیر کسی اعتدال اور رہنما ئی کے اپنے قیمتی وقت کا ایک بیش قیمتی حصّہ سوشل میڈیا پر صرف کر رہے ہیں جس سے نہ صرف ان کی ذہنی نشو و نما اور اخلاق پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں بلکہ ان کی جسمانی صحت بالخصوص بینا ئی بھی متاثر ہو رہی ہے ۔اور سچا ئی یہی ہے کہ ہماری نوجوان نسل سوشل میڈیا سے خواہ وہ کچھ حاصل نہیں کر پا رہی ہے جو کچھ حاصل کیا جانا چاہئے ۔

انٹرنیٹ کی ہزاروں ایپلیکشینز ہیں جنہیں آپ اپنی ایجوکیشن ،دینی معلومات اور جنرل نالج کو بڑھا نے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں لیکن ہماری نوجوان نسل میں ایسی ایپلیکیشنز مقبول ہیں جو ان کے لئے شہرت کا باعث بنیں چاہے وہ شہرت اچھائی کے معانی میں ہو یا برائی کے۔سچائی یہی ہے کہ سماجی رابطے کے بے شمار ایپلیکیشنز معاشرے میں عدم برداشت افواہ سازی اور انتہا پسندی کو جنم دے رہی ہیں ۔جھوٹی من گھڑ ت کہانیوں کا ایک سمندر ان سا ئٹس پر موجود ہے ۔اور نوجوان نسل ان میں غوطہ زن ہیں ۔بہت سے نوجوان لڑکے لڑکیاں شہرت کے چکّر میں خطرناک مقامات پر سلفیاں بناتے ہوئے خود کو موت کے گھات اتار چکے ہیں ۔جن میں زیادہ تر تعداد کالجوں اور یونیورسٹیز کے طلبا ء کی ہے
ترقی یافتہ معاشروں میں چوں کہ تعلیم اور آگہی کا معیار بہتر ہے اس لئے عمومی طور پر وہاں کے والدین اور اساتذہ سوشل میڈیا کے استعمال اور نوجوان پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں زیادہ بہتر طور پر آگاہ ہیں ۔دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر دستیاب مواد کے لئے عمر کی درجہ بندی کا نظام موجود ہے ۔یعنی کسی بھی ٹی وی پرو گرام، فلم،کتاب یا انٹر نیٹ سوشل میڈیا ایپ کو دیکھنے یا استعمال کرنے کے لئے عمر کی کم از کم حد ضرور بیان کی جاتی ہے جس کو ایج ریٹنگ کہا جاتا ہے ایج ریٹنگ کا یہ نظام ایک قانونی اور اخلاقی پا بندی کا کام کرتا ہے۔ہندوستان میں تاحال یہ نظام رائج نافذ نہیں ہو سکا ۔جس کی وجہ سے کم عمر بچے اور نوجوان بھی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا بے در یغ اور بلا روک ٹوک استعمال کر رہے ہیں آج معاشرے میں بے چینی اور اضطرابی کی بہت سی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کا غلط اور نا جائز استعمال ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ اگر ترقی یافتہ اور مغربی معاشرہ میں کم عمری میں کچے ذہنوں کا تحفظ لازمی سمجھا جا رہا ہے تو پھر ضروری ہے کہ ہندوستان میں بھی فوری طور پر اس حوالے سے ضروری قانون سازی کی جانے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ ہم ترقی یافتہ معاشروں کے ہم قدم بن کر تیز رفتاری سے دنیا کے ہم ر کا ب ہو کر تعلیم و تحقیق کی منا زل طئے کریں اور اپنے ملک کو عظیم تر بنائیں ۔

کمسن بچوں کی طرف سے انٹرنیٹ کا استعمال ایک انتہائی نازک معا ملہ ہے۔اکثر گھروں میں بچے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور انہیں مختلف ویب سائٹ پر بلا روک رسائ حاصل ہوتی ہے چونکہ براؤ زنگ کے ذریعے آپ جو چاہتے ہیں سیکنڈ میں آپ کے سامنے آجاتا ہے لہذا اس ضمن میں والدین کو احتیاطی اقدامات اٹھانے چاہئیں ۔اس مقصد کیلئے وہ کمپیو ٹر سسٹم پر بچوں کے لئے الگ یو زر بنائیں ۔کنٹرول پینل میں موجود پیر نل کے ذریعے بھی آپ بچوں کو صرف مقرره وقت پر کمپیو ٹر استعمال کرنے کا عادی بنا سکتے ہیں پیر نل کنٹرول کے ذریعے آپ بچوں کو عمدہ پیمانے پر پر گیمز کھیلنے کی اجازت دے سکتے ہیں ۔غیر اخلاقی ویب سائٹس کو بھی فلٹر نگ کے ذریعے بلاک کیا جاسکتا ہے ۔یہ وہ اقدامات ہیں جن کی بدولت آپ اپنے گھر میں کمپیوٹر کے فائدے مند استمعال کو یقنی بنا سکتے ہیں ۔اس طرح سے بچے انٹرنیٹ کے نشے کی حد تک عادی نہ ہوں گے ۔ان کا وقت ضائع نہ ہوگا اور تعلیم و صحت بھی متاثر نہ ہونگے۔کھیل کود بھی بچوں کے لئے ضروری ہوتے ہیں مگر عصر حاضر میں انٹرنیٹ کی علت نے بچوں کو اس سے دور کر کے ان کی ذہنی اور جسمانی نشو ونما کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دئے ہیں جن کے تد راک کے لئے والدین اور اساتذہ کرام کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔
(ختم شد )
[email protected]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button