داعش سے مبینہ تعلق کی بنیاد پر گرفتار ضوان کی ضمانت عرضداشت ہائی کورٹ میں سماعت کے لیئے منظور



ممبئی/9/جولائی (ابو ایوب /قومی ترجمان بیورو) اترپردیش کے شہر کشی نگر سے ممنوع تنظیم داعش (آئی ایس آئی ایس) کے لئے کام کرنے اور مسلم نوجوانوں کو آئی ایس آئی ایس کی جانب راغب کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار رضوان احمدکی ضمانت پر رہائی کی درخواست کو آج ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے سماعت کے لیئے منظور کرتے ہوئے استغاثہ کو حکم دیا کہ وہ دو ہفتوں کے اندر جواب داخل کرے


ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس جمعدار نے ایڈوکیٹ شریف شیخ کی جانب سے کئی گئی بنیادی بحث کے بعد ضمانت عرضداشت کو سماعت کے لیئے منظور کرلیا۔


گذشتہ ماہ خصوصی این آئی اے عدالت نے ملزم رضوان احمد کی ضمانت عرضداشت مسترد کردی تھی، جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کی ہدایت پر نچلی عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔


ضمانت عرضداشت میں تحریر ہیکہ ستمبر 2018 میں ملزم کے خلاف چارج فریم کیا گیا لیکن ابھی تک ٹرائل کا اختتام نہیں ہوا ہے اور جس طرح مقدمہ چل رہا ہے اس کے جلد اختتام پذیر ہونے کے امکانات نہ کے برابر ہیں لہذا ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔ انہو ں نے مزید کہا کہ استغاثہ نے ملزم کے خلاف گواہی دینے کے لیئے 300 گواہوں کو نامزد کیا ہے جبکہ ابتک ساڑھے پانچ سالوں میں صرف 26 گواہوں کی گواہی عمل میں آئی ہے لہذاسپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق مقدمہ میں غیر ضروری تاخیر کی وجہ سے ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔


عرضداشت میں مزید تحریر ہیکہ مفرور ملزم ایاز محمد ملک شام چلا گیا لیکن استغاثہ عدالت میں ایک بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا کہ عرض گذار رضوان ایاز کو جانتا تھا یا وہ اس کے رابطہ میں تھانیز استغاثہ کے ذریعہ عدالت میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں ملزم کے ملاڈ کے نواجوان کو جہاد کی ترغیب دینے اور داعش کو جوائن کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔شریف شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف ایسا کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا ہیکہ ملزم ہندوستان میں داعش تنظیم کا نائب امام تھا بلکہ یہ ایک خیالی اور فرضی عہدہ ہے جس سے ملزم کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
واضح رہے کہ استغاثہ کا الزام ہیک ملزم ممبئی کے ملاڈ مالونی علاقے کے چند مسلم نوجوانو ں کو انٹرنیٹ کی مدد سے داعش میں شمولیت کے لئے اکسا رہا تھا نیز اسی کی ایماء پر 2016 میں لاپتہ ہونے والے ایک نوجوان کو ملک سے فرار ہونے میں مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ذہن سازی کرنے کا بھی الزام ہے۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں