اہم خبریںمضامین

حجاب ہمارا افتخار اور ہمارا آئینی حق ہے.
شاذیہ تزئین(مدھوبنی)


  مذہب اسلام نے عورتوں کو پردہ میں  مستور کر کے نہ صرف اسے تحفظ فراھم کیا ہے بلکہ اسے فحاشی و عریانیت اور قعرمذلت سے نکال کر عزت لا زوال عطا کیا ہے اور ایسا وقار بخشا ہے جو دنیا کے کسی ادیان نے عورت کو نہیں بخشا

جب زمانۂ جاہلیت میں مرد نے اپنی فضیلت اور برتری کے لئے عورت کو ایسی ذلت کے گڑھے میں ڈال رکھا تھا کہ وہ سامان استراحت تو تھی لیکن بحیثیتِ انسان اسکا کوئ وقار اور کوئ مقام نہیں تھا اس کے وجود کو جانوروں سے بھی بد تر گردانا جاتا تھا تو خدا کے مقدس کلام اور اسلام کی پاکیزہ تعلیم نے اس افکار باطل کو بالکل مسترد کر دیا اور ان دو شیزاؤں کے تن پر رداء عفت ڈال کر دوامی عزت سے مالا مال فرمایا ۔ لیکن آج چند شدت پسند اور ہوس پرست لوگ جن کا انسانیت سے بالکل بھی واسطہ نہں وہ مسلم خواتین کے اس تاج عزت کو تار تار کرنے اور مسلم بیٹیوں کے سروں سے حجاب کو اتار پھینکنے کے درپے ہیں …..

یہ بھی پڑھیں

گھر بیٹھے آدھار کارڈ میں اپنا موبائل نمبر یا نام، پتہ تبدیل کریں، جانیں یہ آسان طریقہ

لباس اور حجاب جوکہ تہذیب انسانیت کا ایک قیمتی سرمایہ ہے اسے انسانی تھذیب و تمدن سے نکال کر عریانیت کی طرف لے جانے کی ناپاک مہم اور منظم سازش میں پیہم لگے ہوئے ہیں ..اور اس آڑ میں کہ حجاب سے مسلم طالبات کی تعلیم و ترقی میں خلل پڑتا ہے کالیجز اور دیگر تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی لگانے کی کوشش کر رہے ہیں , مذہبِ اسلام اور اسلامی شعار کو صفحۂ ہستی سے مٹانے اور بالکل منہدم کر دینے کے لئے پے در پے اعتراضات اور بے بنیاد الزامات کے ذریعہ مذھب اسلام کو بدنام اور انسانیت کو شرمسار کر رہے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں

جانیں ای-شرم کارڈ کے لیے کون-کون دے سکتا ہے درخواست ؟ اور کیا ہیں ای شرم کارڈ کے فائدے

اس لیے کچھ غیرت مند مسلم طالبات اور مومن خواتين اپنے اوپر ہو رہے مظالم کے حکومت ہند اور ان لوگوں کو جو مسلم عورتوں کے ساتھ جھوٹی ہمدردی کا مظاھرہ کرتے ہیں کالج و اسکولوں اور دفاتر کے باہر سڑکوں پر نکل کر یہ پیغام دے رہی ہیں کہ حجاب ان کی تعلیمی مراحل میں رکاوٹ نہیں بلکہ تعلیم کی راہ میں حائل انسان نما درندوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے اور چیخ چیخ کر یہ صدا بلند کر رہی ہے کہ حجاب میں ہی ہمارا وقار اور ہماری آبرو مخفی ہے اور یہ ھمارا آئینی حق ہے …اور تمام غیور مسلمانوں سے یہ نالۂ و  فریاد کر رہی ہے کہ یہ حجابی مسٔلہ صرف ایک گروہ اور ایک کالج کا مسٔلہ نہیں ہے بلکہ یہ پورے مسلم سماج کا مسٔلہ ہے یہ آگ کی چھوٹی سی چنگاری گرچہ ھماری دہلیز تک نہیں پہونچی ھے تو اس میں کوئ بعید نہیں کہ کل یہی چنگا ری ہمیں جلاکر بالکل خاکستر کر دے ….

تعصب پرست اور چہار جانب نفرت پھیلانے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ملک ہندستان ایک جمہوری ملک ہے اس میں تمام مذاھب و ادیان کے ماننے والوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی فراہم کرتا ہے اسی لئے کسی کو بھی ہمارے نقاب یا حجاب پہننے پر پر کسی بہی قسم کا کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے حجاب ہمارا افتخار اور ہمارا آئینی حق ہے، نفرت کے پجاری اور خواھش پرست اپنے مذموم عزائم کی تکمیل میں ان شاءاللہ  کبهی بھی کامیاب نہیں ہونگے۔

ان خبروں کو بھی پڑھیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button