جہاں میں صبر کا پیکر ملے تو لے آﺅ٭کوئی حسین سا رہبر ملے تو لے آﺅ۔شنکر کیموری

المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام معروف شاعر شنکر کیموری کے اعزاز میں ایک پروگرام کا انعقاد

دربھنگہ۔ محمد رفیع ساگر / قومی ترجمان بیورو
لمنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام 18اگست 2021ءشام سات بجے آکاشوانی دربھنگہ کے پروگرام ایگز کیٹیواور معروف شاعر شنکر کیموری کے اعزاز میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت مشہور مترجم سید محمود احمد کریمی نے کی۔ نظامت کے فرائض ٹرسٹ کے سکریٹری ڈاکٹر منصور خوشتر نے انجام دیئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر احسان عالم، ڈاکٹر منصور خوشتر ، منظر الحق منظر صدیقی ، ڈاکٹر ریحان احمد قادری اور غفران وغیرہ موجود تھے۔ شنکر کیموری نے اس موقع پر بہت سے اشعار پیش کئے ۔ محرم کے موقع پر چند اشعار ملاحظہ کریں:
جہاں میں صبر کا پیکر ملے تو لے آﺅ
کوئی حسین سا رہبر ملے تو لے آﺅ
جو نوک نزع پر بھی رہ کے بھی روشنی بخشے
ملے جو ایسا کوئی اور سر تو لے آﺅ
ہر اک فرد شہادت کا مرتبہ پائے
جہاں میں ایسا کوئی گھر ملے تو لے آﺅ
سب ایک دل ہوں جہاں اک خیال، اک نظر
کہیں جو اب بہتر ملے تو لے آﺅ
غم حسین میں اشکوں سے جو عبارت ہو
قصیدہ ایسا جو شنکر ملے تو لے آﺅ
پروفیسر عبدالمنان طرزی نے بذریعہ موبائل کہا کہ شنکر کیموری نے زبان وادب کی صلاحیتوں کو نعت پاک کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے اور بڑی کامیاب کوشش کی ہے اور ان کا ایک مجموعہ ”عقیدت کے پھول“ پیش نظر ہے، آپ بھی اسے پڑھیں اور محظوظ ہونے کی کوشش کریں۔ ڈاکٹر احسان عالم نے اپنے اشعار سناتے ہوئے کہا:
بیٹھے بیٹھے اک حماقت ہوگئی
آپ سے ہم کو محبت ہوگئی
پوچھتے ہیں وہ مرے گھر کا پتہ
پوری اب میری عبادت ہوگئی
منظر الحق منظر صدیقی نے اپنا اشعار اس انداز میں پیش کیا:
کام ہر آدمی کے آئیں آپ
اپنی دنیا و دیں بنائیں آپ
زندگی مختصر سی ہے منظر
زندگی سے نہ دل لگائیں آپ
ڈاکٹرریحان احمد قادری نے اپنا اشعار پیش کیا:
محبت کی نظر اہل وفا میں شان پیدا کر
بندی اور پستی میں ذرا پہچان پیدا کر
سید محمود احمد کریمی نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ یہ امر میرے لئے باعث مسرت ہے کہ جناب منصور خوشتر کے دولت کدہ پر منعقد منقبت کی محفل میں شریک ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ شنکر کیموری نے امام عالی مقام کے حضور میں بہترین منقبت پیش کیا ۔ جس سے تمام سامعین محظوظ ہوئے اوران کا شکریہ ادا کیا ۔ اس محفل میں شنکر کیموری ، ڈاکٹر احسان عالم، منظر صدیقی، ریحان قادری اور منصور خوشتر نے شرکت فرمایا۔ ڈاکٹر منصور خوشتر نے اس موقع پر اپنی گفتگو پیش کرتے ہوئے کہاکہ شنکر کیموری کے اظہار و بیان کی روانی ایک صاف و شفاف اور ابلتے ہوئے چشمے کی طرح پورے کلام سے ظاہر ہوتی ہے۔ ان کے نعتیہ اشعار قارئین کو کافی متاثر کرتے ہیں اور قوت کشش کا باعث بنتے ہیں۔ منصور خوشتر کے اظہار تشکر کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں