مضامین و مقالات

تعلیمی نصاب کا بھگوا کرن

تعلیمی نصاب کا بھگوا کرن
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
مرکزی حکومت کی جانب سے تعلیمی نصاب کو بھگوا رنگ میں رنگنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے، یہ ایک خطرناک منصوبہ ہے، جس کو بروئے کار لانے کے لیے پارلیامنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کا سہارا لیا گیا ہے، اس کمیٹی نے جو تجاویز پیش کی ہیں، اس کا حاصل یہ ہے کہ رگ وید ،یجر وید، اتھر وید، شام وید اور گیتا کی تعلیم نصاب کا حصہ بنے گی ، تاریخ کی کتابوں میں تبدیلی لا کر ہندتوا سے متعلق واقعات اور شخصیات کو مرکزی حیثیت دی جائے گی، مسلمانوں کو چھوڑ کرسکھ، مرہٹہ ، گوجر، جاٹ اور قبائلیوں سمیت، مہابھارت اور امامن کی نصاب میںشمولیت بھی اس منصوبہ بندی کا حصہ ہے، مسلمانوں کی مذہبی کتابوں اور تاریخ کو نظر انداز کرنا اس منصوبہ کا اصل ہدف اور نشانہ ہے، پارلیمانی کمیٹی کی ان سفارشات کی انڈین ہسٹری کانگریس نے شدید مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ تاریخ کی کتابوں کا جائزہ لینا اگر ضروری ہی ہے تو ملک بھر سے ایسے اسکالرز کو جمع کرنا چاہیے جو مختلف ادوار کا غیر جانبدارانہ معروضی مطالعہ کرکے حاصل مطالعہ پیش کر سکیں۔
اسٹینڈنگ کمیٹی کی ان سفارشات کی مخالفت ہرسطح پر ہو رہی ہے، ماہرین کی رائے ہے کہ یہ ملک مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا ہے، اور یہی گلہائے رنگا رنگ زینت چمن کا سبب ہیں، اسی لیے نصاب میں تمام مذاہب کی اخلاقی، اصلاحی اور ملک وسماج میں اتحاد وہم آہنگی پیدا کرنے والے مواد کو نصاب کا حصہ ہونا چاہیے اور ان میں کوئی تفریق نہیں کی جانی چاہیے، صرف ہندوؤں کی مذہبی کتابوں کی شمولیت سے نفرت کے اس ماحول میں مزید اضافہ ہوگا، جو اس ملک کی شناخت بنتی جا رہی ہے، ہندوستانی کو نسل برائے تاریخی ریسرچ(ICHR)۲۰۱۴ء سے آر اس اس اور فرقہ پرستوں کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بن گئی ہے، اور تاریخ کو نئے سرے سے مرتب کرنے کے بعد جعلی اور جھوٹی تاریخ کو رواج دینا چاہتی ہے، اس کی خواہش ہے کہ مسلم مجاہدین آزادی کو نظر انداز کیا جا ئے، جنگ آزادی میں ٹیپو سلطان کے کردار کو حذف کر دیا جائے اور گاندھی جی کی جگہ ویر ساورکر اور گوڈسے کو اہمیت دی جائے انہیں ہیرو بنا کر پیش کیا جاسکے، ظاہر ہے یہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب، دیرینہ روایات واقدار اور مل جل کر رہنے کے جذبہ کے خلاف ہے، ایسی سوچ ملک کے لیے انتہائی مضر ہے اس لیے ضرورت ایک ایسے نصاب کی تیاری کی ہے، جو ملک کی مشترکہ تہذیب وثقافت کی آئینہ دار ہو، یہی اس ملک میں محبت کے ماحول کو واپس لائے گا اور نئی نسل کی ذہنی آبیاری اس طرح کرے گا، کہ وہ ملک کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ساتھ مستقبل میں آگے بڑھا سکیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button