بین ریاستی خبریں

احمد آباد گجرات میں آل انڈیا علماء بورڈ کے زیر اہتمام منعقدہ نیشنل ہارمونی کانفرنس کامیابی سے ہم کنار

احمد آباد گجرات میں آل انڈیا علماء بورڈ کے زیر اہتمام منعقدہ نیشنل ہارمونی کانفرنس کامیابی سے ہم کنار

(13دسمبر 2021ء حج ہاؤس)
گزشتہ چار ماہ سے آل انڈیا علماء بورڈ "زمینی قیادت کے ارتقاء اور قومی یک جہتی” کے عنوان پر ملک کے مختلف شہروں دہلی، پٹنہ، ممبئ، حیدر آ باد، میں بڑی کامیابی کے ساتھ کنوینشن منعقد کرتی آرہی ہے، اسی سلسلے کا ایک اہم کنوینشن 13 دسمبر 2021ء کو احمد آباد گجرات حج ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں بڑی تعداد میں شہر کے علماء ومشائخ و دانشوران شریک ہوئے ،اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قومی ناظم عمومی علامہ بنی حسنی نے فرمایا کہ ملک کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں امن و شانتی کے پیغام کو عام اور بھائ چارہ کو فروغ دیا جائے، قومی نائب صدر مولانا نوشاد احمد صدیقی(ممبئی) نے اپنے پرسوز لہجے میں مسلمانوں کو ان کی بے عملی کے نقصانات سے آگاہ فرماتے ہوئے کہا کہ اتحاد کے بغیر سماج کی ترقی کا تصور ناممکن ہے،اسی طرح ناظم تنظیم مولانا محمد شمیم اختر ندوی(ممبئی) نے فرمایا کہ ملک کی دو سب سے بڑی اکثریت و اقلیت کے درمیان ہم آہنگی کا پیدا کیا جانا ضروری ہے، اس ملک کی تہذیب گنگا جمنی تہذیب رہی ہے اسی میں ملک کی بقا،سالمیت اور ترقی کا راز مضمر ہے جو لوگ اس تہذیب کو مٹانے کی کوشش کررہے ہیں ہم ان کو کنڈم کرتے ہیں، نیشنل سکریٹری جناب الحاج سید شمشاد قادری(حیدرآباد) نے فرمایا کہ ملک کے دستور نے جو حقوق و مراعات اپنے باشندے کو دئیے ہیں اسے بلاتفریق قوم دیا جانا چاہیے اس سے ملک میں خوشحالی کا راستہ ہموار ہوگا، بورڈ کے قومی ترجمان مولانا ارشد ندوی صاحب(دہلی) نے فرمایا کہ ہم اپنے ملک کے وفادار ہیں اس کا ثبوت دینے کی ضرورت نہیں ہماری تاریخ ملک کے چپے چپے پر نمایاں ہے، شرعیہ ونگ کے صدر مولانا مفتی صادق خان (بہار)نے فرمایا کہ خدمت خلق کا درجہ بھی عبادت جیسا ہے ہم سب کو چاہیے کہ ہم اولاد آدم کی خدمت کیلئے آگے آئیں جیساکہ کرونا کے زمانہ میں آل انڈیا علماء بورڈ نے خدمت خلق کی ایک مثال قائم کی ہے، مقامی ایم ایل اے جناب عمران کھیڑے والا نے احمد آباد میں آل انڈیا علماء بورڈ کے پروگرام پر خوشی اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اس طرح کا پروگرام ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں علماء بورڈ کے پلیٹ فارم سے کیا جانا ایک خوش آئند قدم ہے ، یہ ملک کی سالمیت کیلئے یہ ایک قابلِ قدر قدم ہوگا ان شاءاللہ، خواتین ونگ کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک کی مشہور صحافیہ و آل انڈیا علماء بورڈ کی ترجمان ذکیہ خان(دہلی) نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آل انڈیا علماء بورڈ نے خواتین کو بھی نمائندگی کا پورا پورا حق دیا ہے، عورتیں سماج میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں اگر ان کی صحیح تعلیم وترتیب کا نظم کیا جائے، یہاں امن و شانتی کی بات کی جارہی ہے جوکہ یقینا ملک ترقی و خوشحالی کیلئے بہت ضروری ہے۔
اسی طرح دیگر مقررین نے بھی متعینہ موضوعات پر اپنی گفتگو سے سامعین کو روشناس کرایا الحمدللہ۔
پروگرام کے اختتام سے پہلے مختلف شخصیات کے درمیان ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ایوارڈ اور توصیفی اسناد تقسیم کئے گئے اور باتفاق رائے مندرجہ ذیل قرارداد پاس ہوئیں

1/تبلیغی جماعت درحقیقت تحریک صلاہ ہے، جو مسلک و مشرب سے بالاتر ہوکر کلمہ گو کو اللہ کے گھر کی طرف یعنی نمازکی دعوت دیتی ہے،اس میں متعدد فقہی مکتبہ فکر و نظریاتی جماعت کے لوگ شامل ہیں،ایسی جماعت کے بارے میں سعودی مملکت کا فرمان کہ یہ ایک بدعتی اور دھشت گردی میں ملوث جماعت ہے قابل مذمت ہے،ال انڈیا علماء بورڈ سعودی سربراہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنا فیصلہ فورا واپس لے۔
2/مادر وطن بھارت کے اندر خدا نے آج وشو گرو بننے کی بے پناہ صلاحیت رکھی ہے،جسے بروئے کار لانے کیلئے ملک میں امن و شانتی کا ہونا انتہائی ضروری ہے ،اس کے بغیر دیش میں خوشحالی کا تصور ناممکن ہے ، ساری دنیا کو امن کا گہوارہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں پہلے خود اس کا علمبردار ہونا پڑیگا

3/وقف کی جائیداد اللہ کی ملکیت ہے،اس کا تحفظ ،اور اسکی ترقی کیلئے ہمیں ہمیشہ کوشاں رہنا چاہیے،اور اسی طرح حکومت وقت سے مطالبہ ہے کہ وقف کی جائیداد کی بازیابی اور اسکے صحیح استعمال کو یقینی بنائے

4/سماج کی ترقی کا راز تعلیم میں مضمر ہے جس کیلئے آل انڈیا علماء بورڈ روز اول سے تحریک چلارہی ہے اور آئندہ کیلئے بھی پر عزم ہے کہ یہ گھر گھر تک اس پیغام کو پوری قوت ساتھ پہونچائیگی۔

5/جہیز ایک ناسور ہے جس کی لعنت سے دیش کو بچانا بہت ضروری ہے، ہر باشعور فرد کی زمہ داری ہے کہ وہ لین دین والی شادی سے نہ صرف گریز کریں بلکہ اس طرح کی شادی شرکت بھی نہ کریں۔
شاہی امام و قومی صدر آل انڈیا علماء بورڈ(دہلی) کے صدارتی خطاب سے پہلے چیف قاضی مفتی طاہر حسین مظاہری صاحب(غازی آ باد) نے فرمایا کہ اگر آپ حضرات تین چیزیں عبادت خداوندی،اطاعت رسول اور خدمت خلق کو اپنا مشن بنالیں تو ہمیں دنیوی یا اخروی ترقی سے کوئ نہیں روک سکتا، شاہی امام نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ کہ الحمدللہ بہت ساری کارامد گفتگو یہاں کی گئیں ہیں کاش کہ ہم لوگ اس پر عمل کیلئے کھڑے ہوجاتے،مزید فرمایا کہ ہمارے معاشرے کی ایک بہت بڑی لعنت جہیز و تلک کا رواج بھی ہے جوکہ ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کررہا ہے،ہمیں خود بھی لین دین والی شادیوں سے بچنا چاہیے اور اس طرح کی شادیوں میں شرکت سے بھی گریز کرنا چاہیے، دعاء کے ساتھ شام تین بجے شروع حج ہاؤس احمد آباد گجرات میں ہونے والا یہ پروگرام نماز عشاء کو اپنے اختتام پہونچا۔اللہ تعالیٰ۔ اسے شرف قبولیت عطا فرمائے آمین
اس کنوینش میں الحاج مختار غوری ،لائیو انڈیا مینیجنگ ڈائریکٹر ممتاز زویری، علماء بورڈ کے ذمہ داران بالخصوص وقف بورڈ گجرات کے صدر شیخ حفیظ اللہ ،سید اقبال میاں ،رنگریز محمد یونس،سید محی الدین،پٹھان عرفان،کھوڑا مصطفی اسماعیل،سیدھی فدا حسین،شیخ نثار احمد،محبت علی،سیدھی بادشاہ یونس،توحید بھائ،عمران بھائی اور ڈاکٹر یونس کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button