فکر و نظر / مضامین و مقالات

آگ ہے, اولاد ابراہیم ہے, نمرود ہے کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

مولانا الیاس نعمانی ندوی

15 دسمبر کو چترکوٹ میں منعقد ہونے والے ہندو ایکتا مہا کنبھ میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے حاضرین سے حلف لیا کہ وہ "ہندو مذہب چھوڑ کر جانے والوں کی گھر واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے”.
بالخصوص مسلمانوں اور ان کی اگلی نسلوں کو ہندو بنانے کا یہ وہ عزم ہے جس کا اظہار اب مسلسل ہورہا ہے, کہا جاتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے پوروج ہندو تھے اس لیے ان کو بھی ہندو ہوجانا چاہیے, یہ ہمیں درپیش عظیم ترین چیلنج ہے, ملکی نصاب تعلیم دیومالائی مشرکانہ تعلیم و تہذیب سے بھردیا گیا ہے, ذرائع ابلاغ صبح وشام شرک کی تبلیغ کررہے ہیں, حکومت مشرکانہ رسوم کو فروغ دے رہی ہے, ایسے حالات میں ہماری نئی نسل پروان چڑھ رہی ہے, اور شاذ ونادر وہ والدین ہیں جنھیں اپنی اولاد اور اپنی اگلی نسل کے دین وایمان کی فکر ہے.
اس صورت حال میں علما, داعیوں اور دینی فکر رکھنے والے ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر کام سے زیادہ اہمیت نئی نسل کے دلوں میں عقیدۂ توحید بیٹھادینے اور ان کی نگاہوں میں شرک کی شناعت واضح کردینے کو دے, یہ اس وقت کا سب سے بڑا کام ہے, جس کو کرنے کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں, لیکن اس سے منھ موڑنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے. اپنے گھر, خاندان اور گرد وپیش کا کوئی بچہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جس کے دل میں ہم اسلام کی محبت اور شرک کی شناعت نہ پیدا کردیں. یقین جانیے کہ دن کے چند منٹ بھی اگر ہم اس کام کے لیے وقف کردیں تو یہ کچھ مشکل کام نہیں ہے, بس ضرورت خطرہ کو سمجھنے اور اس سے نبرد آزما ہونے کے عزم کی ہے.
اگر شرک کے علمبردار ہمیں یا ہماری اگلی نسلوں کو مشرک بنانے کا حلف اٹھارہے ہیں تو ہمیں بھی طے کرلینا چاہیے کہ ہم اس ملک میں شمع توحید کو مزید روشن کریں گے, اپنی اگلی نسلوں کے دین وایمان کی حفاظت کو ہر کام پر ترجیح دیں گے, اور توحید کے علمبردار بن کے جییں گے.
يُرِيدُونَ لِيُطْفِـُٔواْ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفْوَٰهِهِمْ وَٱللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْكَٰفِرُونَ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button