سمستی پور

آدھار پور:مہینوں گذر جانے کے بعد بھی ہجومی تشدد کے ملزمین کی گرفتاری نہیں ہونا مضحکہ خیز ہے،اختر الایمان

آدھار پور:مہینوں گذر جانے کے بعد بھی ہجومی تشدد کے ملزمین کی گرفتاری نہیں ہونا مضحکہ خیز ہے،اختر الایمان



آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے پانچوں رکن اسمبلی پینچے آدھار پور،مقتولین سے ملاقات کر ہر ممکن مدد کی دلائ یقین دہانی،انجینئر افسر حیدری نے کیا پانچوں رکن اسمبلی کو جم کر استقبال




سمستی پور (محمد مصطفیٰ)آدھار پور تشدد پوری طرح پولیس کی ناکامیوں کو پیش کرتا ہے،پولیس کی موجودگی میں گھروں میں گھس کر خونی کھیل کھیلا گیا،ماں اور بیٹیوں کے ساتھ نازیبا حرکتیں کی گئیں،لیکن پولیس تماشائی بنی ہوئی دیکھتی رہی جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس نے ہی ہجوم کو ورغلا کر یہ سب کروایا ہے یہ باتیں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے امور رکن اسمبلی اختر الایمان نے بہار کے اپنے پانچوں رکن اسمبلیوں کے ساتھ آدھار پور گاؤں پہنچ کر مقتولہ معلمہ صنوبر خاتون کے لواحقین سے ملاقات کر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں،انہوں نے کہا کہ مہینوں گذر جانے کے بعد بھی ہجومی تشدد کے ملزمین کی گرفتاری نہیں ہونا مضحکہ خیز ہے،انہوں سمستی پور انتظامیہ کی لاپرواہی بتاتے ہوئے کہا کہ مہینوں گذر جانے کے بعد بھی انتظامیہ نے امن و امان بحال ہونے کے لئے امن کمیٹی کی نشست منعقد نہیں کی یہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ یہ نہیں چاہتی ہے کہ یہاں امن و امان بحال ہو،انہوں نے کہا کہ پولیس انتظامیہ نے آپسی تنازع کو فرقہ ورانہ رنگ دینے میں اہم رول ادا کیا،اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہجومی تشدد کے ملزمین کے سروں پر پولیس انتظامیہ کا ہاتھ ہے،تبھی تو پھر دوبارہ ہجومی درندوں نے الطلحہ فیشن نامی دوکان پر چڑھ کر دوکان کے مالک کو مار پیٹ کر بری طرح سے زخمی کر دیا،انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین بہار سرکار سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ بہار سرکار فوری طور پر ضلع مجسٹریٹ ششانک شوبھنکر کو اور ایس پی مانوجیت سنگھ ڈھلو کو سمستی پور سے برخاست کریں،اگر ڈی ایم اور ایس پی چاہتے تو اس طرح کا واقعہ رونما نہیں ہو پاتا،پورنیہ ضلع کے بائسی اسمبلی حلقہ کے رکن سید رکن الدین نے کہا کہ حکومت مذہبی اقلیتوں اور دیگر غیرمحفوظ طبقوں پر بلوائی حملے جو اکثر بی جے پی کے حامیوں نے کیے، رکوانے کے لیے عدالتؚ عظمیٰ کی ہدایات کے مؤثر اطلاق میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت مئی 2015 سے اب تک، انتہاپسند ہندو گروہ گوشت کے حصول کے لیے گائے کی تجارت یا اسے ذبح کرنے کی افواہوں پر کان دھرتے ہوئے سیکڑوں لوگوں کو زخمی کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، مسلمانوں کو مارا پیٹا گیا اور ہندوآنہ نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔ پولیس جرائم کی باقاعدہ تحقیقات کرنے میں ناکام رہی، تحقیقات روک دیں، قواعدوضوابط نظرانداز کیے، اور گواہوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے اُن کے خلاف فوجداری مقدمے درج کیے،کشن گنج ضلع کے کوچا دھامن اسمبلی کے رکن محمد اظہار اسفی نے کہا کہ سمستی پور کے آدھار پور میں امن و امان کو توڑنے اور تشدد بھڑکانے والے تمام لوگوں کے نام پر ایف آئی آر درج کی جانی چاہئے اور ضلع کے ڈی ایم اور ایس پی کو مستثنیٰ قرار دینے والے مقامی پولیس تھانہ انچارج کو برخاست کیا جائے۔ خواتین پر ہونے والے تشدد کو روکیں ان کا احتساب کرتے ہوئے کارروائی کی جانی چاہئے،جوگی ہاٹ کے رکن اسمبلی شہنواز عالم نے کہا کہ بہار میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے،یہ نکمی سرکار نے بہار کو ہجومی تشدد کا مرکز بنا دیا ہے،جب جسے چاہے آسانی سے ہجوم بنا کر موت کی نیند سلا دیں اور انتظامیہ تماشائی بن کر دیکھتی رہے،بہادر گنج کے رکن اسمبلی محمد انظار نعیمی نے کہا کہ بہار میں جب سے نتیش کمار بی جے پی کے گود میں بیٹھے تب سے بہار میں نظم و نسق نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ گھڑی ہے اور ہم لوگ آدھار پور واقعہ کی آواز اسمبلی میں اٹھائیں گے اور مظلوم کو انصاف دلا کر ہی خاموشی سے بیٹھیں گے،مجلس کے پانچوں رکن اسمبلی نے کہا کہ اس کیس کے تمام ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔ مقتول صنوبر خاتون اور محمد انور کے اہل خانہ کو سرکاری ملازمت دی جانی چاہئے۔لوٹی ہوئی نقد رقم، زیورات، مکان، کار اور کسٹمر سروس سینٹر سمیت تمام اشیاء کے لئے مناسب معاوضہ دیا جائے۔ کنبہ کی حفاظت کی ضمانت ملنی چاہیے۔ موقع پر ہی خاموش تماشائی بننے والی پولیس کے خلاف کارروائی کی جائے، تاکہ مقتولہ کے لواحقین کو انصاف ملے،واضح ہو کہ سمستی پور ضلع کے آدھار پور گاؤں میں 21 جون 2021 کو شرون یادو کے قتل کو لیکر ہنگامہ کرتے ہوئے ہجوم میں شامل سینکڑوں شرپسندوں نے پولیس فورس کی موجودگی میں نائب مکھیا حسنین کے گھر کا گھیراؤ کیا اور خواتین کے کپڑے پھاڑے۔ ٹیچر صنوبر خاتون کو پیٹتے ہوئے گھر کے سامنے گھسیٹا، اپنی روداد بیان کرتے مرحومہ صنوبر کی بیٹی نے کہا کہ ہنگامہ کے بعد میری دو بہنوں کو گھسیٹا گیا اور ان کو بھی مارتے ہوئے باہر لے گئے۔ میری والدہ اور کزن کو شرون یادو کے گھر کے قریب زدوکوب کیا گیا۔ میری دو بہنوں کو بھی کہیں اور لے جایا گیا اور مردہ حالت میں پانی کے گڑھے میں پھینک دیا گیا، بعد میں پڑوسیوں نے اس کی جان بچائی۔ اس کے بعد ہجوم نے مجھے اور میرے چچا کے گھر اور کسٹمر سروس سینٹر میں نقدی، زیورات، قیمتی سامان وغیرہ لوٹ لیا۔ اس کے بعد مکان، کار، کسٹمر سروس سینٹر کو نذر آتش کردیا گیا،موقع پر انجینئر افسر حیدری محمد شاکر،محمد سلطان،محمد وارث علی،ڈاکٹر فضل عالم،محمد مرتضیٰ،محمد عرفان،محمد شکیل،محمد جرار،محمد اشرف،کے علاؤہ سیکڑوں مجلس کے کارکنان نے پانچوں رکن اسمبلی کو جم کر استقبال کیا،

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button