ادبیاتتازہ ترینحاجی پور، ویشالی

غزل

✍️فیض رسول فیض،چکجادو ، ویشالی

قفس میں ہوں میری تنہائیاں ہیں
چمن میں ہر طرف شہنائیاں ہیں
سناتا تجھ کو میں افسانہ دل
مگر ظالم تیری رسوائیاں ہی
نئ نسلوں کو نفرت راس آئی
یقینا ملک کی بربادیاں ہیں
وطن سے کیوں نہ ہو مجھکو محبت
میرے اجداد کی قربانیاں ہیں
ہمارے دور کے منصف بھی یاروں
بڑی مشکل میں ہیں بے چینیاں ہیں
تیری آنکھوں میں بھی پھیلا ہے کاجل
ہمارے دل میں بھی ویرانیاں ہیں
ہم ان کو آج تک نہ بھول پائے
دلوں کی تو یہی نادانیاں ہیں
ہمیں اکثر ستاتے ہیں وہ لمحے
تصور میں وہی پرچھائیاں ہیں
تیری یادوں میں بھی برسا ہے ساون
تجھے پانے میں بھی دشواریاں ہیں
جسے چاہا اسے اوروں نے چاہا
محبت میں بڑی ناکامیاں ہیں

فروغ اردو سمینار و مشاعرہ ، کانفرنس ہال کلکٹریٹ ، ویشالی میں پڑھی گئ غزل

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button