اہم خبریںفکر و نظر / مضامین و مقالات

ہائے! پردیش کی زندگی اور صبح و شام!! ✍️ جاوید اختر بھارتی

پردیش کی زندگی بھلائی نہیں جاسکتی صبح سویرے اٹھنا، ہاتھ منہ دھلنا ، بھاگتے ہوئے ڈیوٹی پر جانا، کفیل، فورمین، انجینئر کی باتوں کو سننا اور پورا دن کام کرنا کوئی بجلی کا تار دوڑا رہا ہے، کوئی دیوار تعمیر کر رہا ہے، کوئی پتھر توڑرہا ہے، کوئی صاف صفائی میں لگاہے، کوئی زمین کی کھدائی میں لگاہے، کوئی ٹاور کرین پر سوار ہے ، کوئی کنکریٹ کے لئے اسٹیل کا جال بنارہا ہے بیلٹ لگا لگا کر اونچائی پر لٹکا ہوا ہے، کوئی مزرعہ میں اونٹ بکری کی رکھوالی کررہا ہے اور کوئی کفیل کی روز روز ڈانٹ پھٹکار سن رہا ہے،، اور وطن میں حال یہ ہے کہ بات بات میں طعنہ دیا جاتا ہے کہ ارے سعودی کی کمائی ہے بڑی بات آرہی ہے فرمائشیں ایسی کہ فلاں رشتہ دار کمبل مانگ رہے ہیں، فلاں شخص موبائل مانگ رہے ہیں یوں لگتا ہے کہ جیسے باہر رہنے والا کسی دولت کے درخت پر چڑھ کر صبح سے شام تک شاخوں کو ہلاتا ہے تو ریال و دینار اور درہم کی بارش ہورہی ہے،، ارے باہر رہنے والے پر کیا گزرتی ہے یہ تو وہی جانتا ہے صبح سے شام تک تھک کر چور ہوجاتا ہے اور پھر شام کو کھانا بھی بنانا ہے کھانا کھاکر فارغ ہوا کہ رات کا نو بج گیا اب سونا ہے اور صبح اٹھ کر پھر ڈیوٹی جانا ہے

ظہر کی آذان سے کچھ دیر پہلے ایک گھنٹے کے لیے چھٹی ہوتی ہے تاکہ دن کا کھانا وغیرہ کھا لیا جائے
پھر کچھ لوگ کھانا کھاتے ہیں اور کچھ آرام کو ترجیح دیتے ہیں اور ہاں کھانا کوئی ہوٹل سے نہیں آتا بلکہ جو شام کو کھانا بناتے اور کھاتے ہیں اسی میں سے بچا کر صبح ساتھ لاتے ہیں اکثر وہی کھانا پڑتا ہے
دو سال کم و بیش 700 دن لوگ محنت کرتے ہیں عموماً
ماہانہ کمائی تقریبا 1000 ریال سے لے کر 2500 ریال کے درمیان ہوتی ہے جو ہر ماہ گھر بھیج کر کچھ بچ جاتے ہیں-
پھر دوسال بعد ایک یا دو ماہ کی چھٹی ملتی ہے یہی لوگ اپنے وطنوں کو لوٹتے ہیں
دو سال کی جمع پونجی جو نیند آرام سکون قربان کر کے کمائی جاتی ہے اور کچھ ادھار جو واپسی پر ادا کرنا ہوتا ہے وہ خرچ کرتے ہیں اچھے کپڑے پہنتے ہیں ہاتھ میں اچھا موبائل پکڑ کر اچھی گاڑی میں سفر کرتے ہیں
انکو دیکھ کر ان کے ارد گرد کے نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ درختوں سے ریال، دینار و درہم اتارنے میں کامیاب ہوچکے ہیں اور ہم محروم رہ گئے ہیں پھر وہ بھی اپنی زمین، اپنے جانور، اپنے باپ دادا کے کام کو چھوڑ کر کسی ایجنٹ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے-

راقم الحروف نے بھی 2011 میں سعودی عرب کا سفر کیا سعودی عرب کے شہر ریاض میں رہا مرکز المعالی میں کام کیا رہائش القسیم روڈ پر واقع بنبان کیمپ میں ملی جس کیمپ میں اٹھارہ ہزار مزدور رہا کرتے تھے

کچھ بزرگوں سے ملاقات ہوئی تو راقم الحروف نے ان سے پوچھا کہ آپ کب سے ہیں؟ وہ بتایا 20 سال، کسی نے بتایا 30 سال ایک صاحب تو ایسے ملے جن کی عمر بہت زیادہ تھی اور کمپنی کی طرف سے ان کے لئے اتنی چھوٹ تھی کہ صبح 7 بجے سے شام 5 بجے تک ڈیوٹی کے دوران آپ کو کسی بھی ٹائم سائٹ پر پہنچ جانا ہے ان کا انتقال بھی وہیں ہوا

یعنی بہت ایسے لوگ ملے جنہوں نے اپنی زندگی کا آدھا یا تہائی حصہ قربان کردیا،، وہ نہ تو اپنے بچوں کا بچپن دیکھ پاتے ہیں اور نہ اپنی بیوی کی جوانی!
کسی کی خواہش ہوتی ہے بس گھر بن جائے
کوئی کہتا ہے بس بچیوں کی شادی ہوجائے
کوئی کہتا ہے کہ بس بچوں کی تعلیم مکمل ہوکر اچھی سروس مل جائے-
اسلئے میرے بھائیوں اگر اللہ آپ کو دو وقت کی روٹی اپنے وطن میں عزت سے دے رہا ہے تو یقین کریں اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں اس کو غنیمت جانیے، اور اپنے اہل و عیال و عزیز واقارب کے ساتھ زندگی گزارئیے انکی خوشی وغم میں شریک ہوں
ہاں اگر کسی مجبوری میں پردیس آنا پڑے
تو لمبی سانس لے کر یہ مت کہیں
جب تک دانا پانی لکھا ہے یہاں ہی ہیں
بلکہ جس ایک ھدف کے لیے آئے ہیں وہ پورا ہوتے ہی واپسی کی تیاری کریں

یہ نہ ہوجائے کہ دنیاوی خواہشات پوری کرتے کرتے جب واپسی کا وقت آئے تب تک حقیقی واپسی کا وقت بھی آجائے

2011 سے لے کر 2016 کے درمیان ایک ایسے آدمی سے ملاقات ہوئی کہ جن کے پاس 7 لڑکیاں تھیں اور پانچ لڑکی کی شادی کرچکے تھے اور دو لڑکی کی شادی باقی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ پانچوں لڑکی کی شادی میں میں شریک نہیں ہوسکا اور ابھی دو لڑکیوں کی شادی کرنا ہے رشتہ طے ہو چکا ہے لین دین بھی طے ہوچکا ہے جہیز کا سامان دینے کے بعد دونوں داماد کو ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ روپے نقد دینا ہے جب ان دونوں بچیوں کی شادی ہو جائے گی تو پھر دو سال تک قرض ادا کرنا ہے اس کے بعد گھر جانا ہے پھر پردیش نہیں آنا ہے اس ضعیف شخص کی باتوں کو سن کر آنکھوں سے آنسو نکل آئے کیونکہ وہ غریب شخص ایک جملہ یہ بھی کہا کہ ہندوستان بھر کے مدارس میں ہمارے صوبے کے پڑھنے والے طلباء ملیں گے چاہے کسی بھی مکتب فکر کا مدرسہ ہو ہر سال سینکڑوں علماء سند و فراغت حاصل کرتے ہیں لیکن پھر بھی سب مل کر جہیز کو ختم کرنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھاتے انہوں نے برجستہ کہا کہ آج میں اپنے ہونے والے دامادوں کو نقدی رقم دینے سے انکار کروں تو میری دونوں بیٹیوں کا رشتہ ٹوٹ جائے گا یہ حال ہے جہیز کا کہ کمر ٹوٹ جاتی ہے اور قرض ادا نہیں ہوپاتا کہ موت آجاتی ہے-

دل پر ہاتھ رکھ کر کوئی سوچے کہ اس غریب پردیسی کی بات ضمیر کو جھنجھوڑ نے والی ہے کہ نہیں ، خون کے آنسو رلانے والی ہے کہ نہیں اور ہر سال سروں پر دستار سجانے والوں کے لئے سبق آموز ہے کہ نہیں مگر افسوس صد افسوس آج تو سب ماحول کے سانچے میں ڈھلنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں جو اصلاح معاشرہ کے نام پر تقریریں کرتے ہیں حال ہی میں انہیں بھی خود ڈیڑھ سو افراد کے ہمراہ اپنی بارات لے جاتے ہوئے دیکھا کیا اور شام کو دلہن آئی تو پٹاخہ پھوڑواتے ہوئے اور آتش بازی کرتے کراتے ہوئے دیکھا گیا بس اللہ ہی خیر کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ہی خیر کرے-

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button