فکر و نظر / مضامین و مقالات

گردش ایام

امہات القدس : دفتر ہستی میں ہےزریں ورق تیری حیات (دوسری قسط) ✍🏻:عین الحق امینی قاسمی

سرائیلی درندوں کی فوجیں بچوں اور عورتوں کو چن چن کر اپنی قیدی وینو ں میں بھر بھر کر اٹھا لے جاتے ہیں ،جہاں انہیں بے دانہ وپانی ،تنگ وتاریک کوٹھریوں میں ،چوپایوں سے بد تر حالت میں زندہ لاش بن کر سانس لینے پر مجبور کیا جاتا ہے ،خاتون قیدیوں کے ساتھ جو تشدد اور انسانیت سوز برتاؤ روارکھاجاتا ہے وہ نہایت ہی دردناک ہے ،کبھی ان قیدی خاتون کو جسمانی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے ،کبھی بے لباس کر ان کی جامہ تلاشی ہوتی ہے ،کبھی انہیں آزادی کی لالچ دے کر ننگا کیا جاتا ہے ،غرض ! سزا کی وہ کون سی قسم ہے جو ان پر آزماکر انہیں تختہ مشق نہیں بنایا جاتا ۔ ان بے قصور فلسطینی خواتین کے حمل گرائے جاتے ہیں ،ان کے نوزائدہ کو ان کے سامنے بندوق کی نوک پر رکھ کر دہشت پیدا کرنے کی ناپاک کوششیں کی جاتیں ، سینکڑوں کی تعداد میں خواتین ناکوں پر بچوں کو جنم دینے پر مجبور ہوئیں ،جنہیں بے دوا اور علاج رکھ کر ان کے بچوں کو ممتا کی آنکھوں کے سامنے ہتھیلیوں پر دم توڑنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔
مگر ساری اذیتوں کے باوجود امہات القدس ،یہ قربانی اس لئے دیتی ہیں ،کہ کل اس کا رب ،مسجد اقصی کے تحفظ اور اس کی بازیابی کے حوالے سے اس سے سوال نہ کرے اور اگر سوال ہو تو وہ مسکراکر اپنے ہرا ہرا زخم دیکھا سکے اور بتانے کی جرئت کرسکے کہ ربا! میری جو سکت تھی اور جو میری ذمہ داری تھی میں دم آخر تک اس کو نبھا تی رہی ،میرے شوہروں کو شہید کردیا گیا ،میرے سامنے میرے بچوں کے لہو سے یہودی درندوں نے ہولی کھیلی ،مگر ربا میں نے شوہروں اور معصوم بچوں کی لاشوں کے سامنے تیرے گھر کی حفاظت میں پل بھر بھی کوتاہی نہیں کی ۔
ان فلسطینی خواتین کا ایک بڑا کارنامہ یہ بھی ہے کہ وہ بچوں کی پرورش اس جذبے سے کرتی چلی آرہی ہیں کہ اس کی گود میں پلنے والا ہر بچہ جذبہ سلطان صلاح الدین ایوبی کا نمونہ بن کر زندگی کے دن گذار نے کا حوصلہ رکھتا ہے ،اس کے جیتے جاگتے نمونے ہمیں ان ویڈیوز کی شکل میں دیکھنے کو مل جاتے ہیں ،جس میں یہ بچے مسجد اقصی کے پاکیزہ اور مبارک صحن میں ناپاک فوجیوں کو اپنے قبلہ اول اور فلسطین کی زمین پرسے کھدیرنے کے جذبے سے پتھر پھینکتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ،یہ حوصلہ مند بچے کبھی ان پر جوتے برساتے ہیں تو کبھی اپنی زندگی سے بے پرواہ ان ملعونوں کی بندوق پر تھوکتے ہیں ،انہیں طعنہ دیتے سنائی دیتے ہیں تو کبھی انہیں بزدل ، غاصب کہہ کر کتوں کی موت مرنے کی بددعا کرتے ہیں، بے شعوری کے باوجود ان بچوں میں یہ جذبہ صادق قابل دید وتقلید ہوتا ہے کہ وہ اپنے والدین کے پیچھے پیچھے پاؤں چلتے ہوئے ،قبلہ اول کی سیڑھیوں تک پہنچ جاتے ہیں اور لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ ہی سیڑھیاں چڑھ کر اپنے رب کی کبریائی کا نہ صرف نعرہ بلند کرتے ہیں ،بل کہ اللہ غایتنا اور القرآن دستورنا کہہ کر اپنے سے بڑوں کو استقامت کے ساتھ ان ملعونوں کے مقابلے پر اکساتے بھی ہیں ۔
رمضان کے مقدس دنوں میں10/مئی 2021 سے شروع ہونے والی جھڑپوں کے دوران وہاں کی خواتین اور دوشیزاؤں کا حال یہ تھا کہ وہ باری باری جیسے تیسےافطار اپنے گھر تیار کر تی رہیں ،مگر روزہ افطار کرنے وہ قبلہ اول حاضر ہوتی ہوتی تھیں ،یہاں وہ تکبیر مسلسل کا ورد کرتی ہوئی بے خوف وخطرتلواروں کے سائے میں روزہ افطار کرتیں ،وہ گھروں کو تب جاتیں ،جب ان کے مرد نماز وتراویح سے فارغ ہو کر مسجد میں قیام نہ کرلیتے ،فلسطینی خواتین کی جرئت کو سلام کہ وہ بدقماش فوجیوں سے خائف ہوئے بغیر لذت ذکراللہ میں مشغول رہ کر ان دہشت زدہ ملعون فوجیوں کی زندگی دوبھر کئے رہتی ہیں ،اپنی شرمندگی چھپانے کی غرض سے جب ملعون ان کی گرفتاری عمل میں لاتا ہے تو مسکراکر یک لخت اس کے عزائم کو چخنا چور کردیتی ہیں ۔
اس طرح سے فلسطینی مائیں ،اپنے بچوں کی ،انقلابی ذہن کے ساتھ نہ صرف تربیت کرتے ہوئے ،تن تنہا وہ قریبا سو برس سے سرزمین فلسطین اور مسجد اقصی کی بازیابی کے لئے صیہونیوں سے پنجہ آزمائی کررہی ہیں ، بل کہ جام شہادت نوش کرنے والی ان خواتین میں قریب البلوغ وہ معصوم بچیاں بھی شامل ہیں ،جنہوں نے صیہونیوں سے مقابلے کے لئے کبھی گھروں میں آلات حرب تیار کرتے ہوئے تو کبھی ظالم یہودیوں کو جہنم رسید کرنے کے جذبے سے پلاننگ کرتے ہوئے ان ملعونوں کے ٹھکانوں کو تہہ وبالا کر نے کے دوران ، اپنے رب کے حضور جاپہنچیں ۔ گیارہ روز کے مسلسل حملوں م کے بعد گرچہ عارضی طور پر جنگ بندی ہوگئی ہے، مگر اس مزاحمت کے نتیجے ڈھائی سوسے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں ،جن میں انتالیس خواتین بھی شامل ہیں ۔یہ امہات القدس اور مقدس مائیں ،بہین ،ہماری خواتین کے رول ماڈل ہیں ،جو روز وشب اپنے لئے نہیں جیتیں ،بل کہ سرزمین انبیاء کی بقا اور دین وشعائر کے تحفظ کے لئے جیتی ہیں ،دین کو بلند کرنے اور حضرت خولہ کی سنت کو زندہ کرنے کے جذبے سے قربانیاں دے رہی ہیں اور جو ہر اذیت وتکالیف کو رب حقیقی کی خوشنودی کے لئے خوش آمدید کہتی ہیں۔
میرے ایک نوجوان خوب رو وخوب سیرت ،ذکی وفہیم ،سلیم الطبع ،دین پسنددوست انجینئر عروج مرزا صاحب( اللہ انہیں سلامت رکھے) اپنی کئی ایک شیئر کی ہوئی پوسٹ میں فلسطین کی باحوصلہ خاتون کے بارے میں بتاتے ہیں کہ صیہونی اُن جانباز خواتین کے حوصلوں کو کیا شکت دے سکتے ہیں ،جو صیہونی فوجیوں کے حملے میں گھر سے بے گھر ہونے پر اپنے شوہر سے کہتی ہیں کہ میرا خواب تھا کہ کھلے آسمان کے نیچے میرا کیچن ہو سو آج میرا خواب میرے رب نے پورا کردیا ۔ایک دوسری خاتون کے خوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ ایک فلسطینی خاتون اپنے چار بچوں کے شہید ہونے کے باوجود کہتی ہیں کہ اگر اور بیٹے ہوتے تو میں انہیں بھی مسجد اقصیٰ کے لئے قربان کردیتی ۔
کیا ہماری عورتیں بھی اُن فلسطینی خواتین سے سبق لیں گی کہ جو تمام بچوں کی شہادت اور گھرکے ملبوں پر بیٹھ کر بھی رب کا شکر اداکرتی ہیں ،کیا ہماری عورتیں دینی دعوت ،اور اس کے تقاضوں کے لئے اپنی خواہشات کی قربانی کے لئے تیار ہیں ،کیا ہماری مائیں شرعی خطوط پر بچوں کی تربیت کے لئے آمادہ ہیں ، کیا ہماری بہنیں صالح سماج اور معاشرے کی تشکیل کا جذبہ رکھتی ہیں ، کیا خواتین اسلام ،اُن فلسطینی بہنوں کے تئیں اپنے دل میں ہمدردی رکھ کر دین کے لئے ہر تکلیف واذیت کو سہنے کا مزاج رکھتی ہیں ، کیا ہمارے گھر کی عورتیں قبلہ اول مسجد اقصی ٰ کی بازیابی کے لئے اپنی اولاد کو مجاہدوں کی راہ پر لانےکے لئے عیش وعشرت کو الوداع کہنے کی اپنے اندر قوت پاتی ہیں ،یا ہر وہ عمل جس سے ہمارا رب ہم سے راضی ہوجائے اور پیارے رسول ﷺ کی سنتیں زندہ ہوں اس مبارک عمل کے لئے آج سے تیار ہیں ؟

*نائب صدر جمعیۃ علماء ہند ،بیگوسرائے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button