کوسی کمشنری کا اہم پیغام ارباب حل و عقد کے نام

حماد احمد یزدانی بلاک سکریٹری تنظیم امارت تروینی گنج
سوپول (محمد ابوالمحاسن(ماسٹرحماد احمد یزدانی بلاک سکریٹری تنظیم امارت شرعیہ تروینی گنج نے امارت شرعیہ کےارباب حل وعقد کے نام ایک اخباری بیان جاری کرکے کہا کہ امارت شرعیہ ملک و ملت کی حفاظت کے لیے اتحاد واتفاق کے ساتھ ساتھ اپنے تن من اور دھن سے قربانی کرتےہوئےامیرشریعت کا انتخاب حق وسچائی کو سامنے رکھتے ہوئے عمل میں لائیں کیوں کہ الحاج حضرت مولانا سید شاہ محمد ولی صاحب رحمانی رحمۃ اللہ علیہ سجادہ نشین خانقاہ رحمانی مونگیر،امیر شریعت بہار،اڑیسہ و جھارکھنڈ و جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکے انتقال کو ہفتہ عشرہ بھی نہیں گزرا کہ کچھ بے چین لوگ جن کو عہدہ و کرسی کی فکر زیادہ ستانے لگی اور کچھ طبقے کے لوگوں کو اب تک توڑ جوڑ کر کے ذہن کو خراب کیا جا رہا ہےلیکن اب عوام بالخصوص ابھی کے وقت میں بہت عقلمند نظر آرہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے حضرت امیر شریعت کو بہت ساری خوبیوں کے ساتھ ساتھ دور اندیشی سے بھی نوازا تھاانہوں نے جاتے جاتے نائب امیر کی ذمہ داری ایک فعال ذی شعور عالم باعمل واستاذدارالعلوم دیوبند وقف حضرت مولانا محمد شمشاد صاحب رحمانی کا انتخاب کرکے امارت کی مرکزیت اور قوم و ملت کے اتحاد باقی رکھنے کا بہترین موقع عنایت فرمایا،اللہ تعالیٰ حضرت امیر شریعت کی قبر مبارک کو نور سے بھر دے آمین بانی امارت شرعیہ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کے وقت سے اب تک جتنے امیر شریعت منتخب ہوئے تھے ان میں سے زیادہ تر امیر خانقاہی نظام کو چلانے والے کو منتخب کیا گیا اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ امارت شرعیہ ایک شرعی پلیٹ فارم ہے نہ کہ دنیاوی پارٹی یا ذات پات کا پلیٹ فارم اور اس جگہ من کی بات نہیں ہوتی بلکہ اللہ اور اللہ کے رسول کے حکم کے مطابق احکام شریعت اور امارت شرعیہ کے دستور کے موافق کام کیا جاتا ہے اور میں پختہ یقین کے ساتھ یہ لکھ رہا ہوں کہ اس ملک کے حالات حاضرہ کو دیکھتے ہوئے جن کے آباء و اجداد کی قربانی قبل آزادی سے اب تک رہی ہے اس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔وہ ذات حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری وحضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی ہے جنہوں نے ملک و ملت کے لئے اپنے آبائی وطن کانپور کی سر زمین کو الوداع کہا اور اس ملک میں شریعت کی بقاء و تحفظ کے لئے دارالعلوم ندوۃ العلماء ،آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈخانقاہ رحمانی مونگیر ،رحمانی فاؤنڈیشن مونگیر ،جامعہ رحمانی مونگیر ،رحمانی تھرٹی ،سجاد میموریل ہاسپٹل و ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ،امارت پبلک اسکول وغیرہ جیسے اداروں کا قیام عظیم ترین مقاصد کے حصول کے لئے عمل میں لایامدارس اسلامیہ اور مکاتب دینیہ کا جال بچھانے کے لئے انتھک کوششیں کیں اور عملی جامہ پہنایابہار ہی نہیں بلکہ ملک و بیرون ملک میں قادیانیت و عیسائیت کی یلغار کا خاتمہ کیا تھا اور ہمیشہ کے لئے ان عظیم فتنوں سے ملت اسلامیہ کو تحفظ بخشااس طرح ہمیشہ کے لیے قادیانیت و عیسائیت کا صفایا ہوا اور اب خانقاہ رحمانی کے موجودہ سجادہ نشیں حضرت مولانا و ڈاکٹر احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم ہیں،آپ اپنے داعیان دین اور مبلغین اسلام آباؤاجداد کی معمول بہا سنت پر عمل پیرا ہوکر ملک و ملت کےلئےہندوستان تشریف لائے ، دینی و عصری تعلیم کی تبلیغ و اشاعت اور بیرونی ملک امریکہ میں ملازمت کے ساتھ ساتھ کئی دینی ادارہ و مساجد آباد کروائے ہیں ۔ امریکی حکومت کی جانب سے چھ لاکھ روپئے انڈین ماہانہ مشاہرہ ملتا تھا ،اس کو بھی الوداع کہ کر دین و شریعت کے تحفظ کے لیے قربانی دی ؛ اس لئے امارت شرعیہ کی حفاظت اور صحیح سمت میں ترقی کے لئے بحیثیت امیر شریعت آج کل عوام وخواص بلکہ مسلمانوں کے سواد اعظم کی زبان پر کچھ علماء کرام کا نام تحریری طور پر سوشل میڈیا کے ذریعہ آرہا ہے اور ان سبھی ناموں میں حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل صاحب رحمانی مد ظلہ کا بھی ہےان کا نام آتے ہی سبھی علماء امیدوار نے اتفاق کیا ہےحالات حاضرہ ،نسل نو ،آنے والے دنوں ، تقاضوں اور دور جدید کے جدید چیلنجوں کا سامنے کرنے والے ایسے جوان باصلاحیت جید عالم دین سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں ، عوام و خواص بلکہ سواد اعظم کا ماننا ہے کہ ہمیں اس وقت ان سے بہت کچھ امیدیں ہیں ،ہمیں امید ہی نہیں پورا یقین ہے اور اللہ کی ذات پر بھروسہ ہے وہ امت کو جدید چیلنجز کا سامنے کرتے ہوئے ملک و ملت کو بہت کچھ عطا کریں گے ۔کوسی علاقے کی رائے عامہ یہی ہے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں