کسی بھی قوم اور ملک کی ترقی اس قوم کی قومی زبان پر منحصر ہوتی ہے،اسرار دانش




کاروان ملت سوسائٹی کے زیر اہتمام بیلاڑی قاضی ٹولہ میں محفل شعر و سخن کا انعقاد


سمستی پور (محمد محمد مصطفیٰ)زبان اظہار رائے کا سب سے حسین اور بہترین ذریعہ ہے کسی بھی ملک کی قومی زبان نہ صرف اس کی پہچان ہوتی ہے بلکہ اتحاد و ترقی کی ضامن بھی ہوتی ہے یہ باتیں پروفیسر معین نے اجیار پور بلاک کے بیلاڑی قاضی ٹولہ میں کاروان ملت سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقد محفل شعر و سخن سے اپنی صدارتی خطاب میں کہیں انہوں نے کہا کہ زبان اس ملک کی معاشرت اور تہذیب و تمدن کی اساس بھی ہوتی ہے،آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے ضلع صدر اسرار دانش نے کہا کہ کسی بھی قوم اور ملک کی ترقی اس قوم کی قومی زبان پر منحصر ہوتی ہے،انہوں نے موجودہ وقت میں شعری محفلوں کا تواتر کے ساتھ آراستہ کیا جانا بہت ضروری ہے ۔نئی نسل جو اردو سے دور ہوتی چلی جا رہی ہے شعری محفلوں کے آراستہ کرنے سے اردو شعر و ادب میں ان کی دلچسپی بڑھے گی،مہمان ذی وقار احمد اشفاق نے کہا کہ آج امریکہ جرمنی جاپان اور فرانس اسی لئے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے کہ انہوں نے اپنی اپنی قومی زبان کو ذریعہ تعلیم اور سرکاری زبان کے طور پر فروغ دیا،انہوں نے کہا کہ ایک اور مثال عظیم ملک چین کی ہے جنہوں نے اپنی چینی زبان پر بھروسہ کر کے دنیا کو دکھا دیا کہ انگریزی زبان ترقی کی ضامن نہیں ہے ترقی تو اپنی زبان میں رہ کر بھی کی جاسکتی ہے،اس موقع پر منعقد مشاعرہ کے منتخب اشعار مندرجہ ذیل ہیں

چاند مصروف ہے خلاؤں میں
روشنی ذائقہ بدل رہی ہے ،
احمد اشفاق
مجھے تم کچھ نہ سمجھو خیر یہ مرضی تمہاری ہے
مگر ہم تم کو اپنی زیست کا حاصل سمجھتے ہیں
مقیم دانش،
میرے جنوں کا نتیجہ نکلنے والا ہے،
خبر ملی ہے کہ پتھر پگھل نے والا ہے،
سمٹ رہا ہے قبیلہ جو ایک مرکز پر
یقین جانئے منظر بدلنے والا ہے
اسرار دانش،

رنگ کھلتا ہے کہاں شام سے پہلے اس کا
شام بھی دیر سے آتی ہے غضب ہے سائیں
ڈاکٹر بسمل عارفی،
غریبوں کو ستانے میں مزہ آتا ہے خوب ان کو
پہن کر سوٹ لاکھوں کی کفن کی بات کرتے ہیں
ایوب انصار،
دل کا ہوں ناتواں تم رکھو یہ خیال
مجھ سے ملنے کو ہر روز آیا کرو
قمر سمستی پوری،
ایسے چہروں کا کچھ نہیں ہوتا
جو بھی زیر حجاب ہوتا ہے
مزمل سمستی پوری،
اس موقع پر اور دیگر شعرائے کرام نے اپنے کلام پیش کر سامعین کو داد و تحسین دینے پر مجبور کر دیا،پروگرام کی صدارتی پروفیسر معین نے کی جبکہ نظامت کے فرائض انجام اسرار دانش نے دیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں