ڈاکٹر احمد علی جوہر اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی، نئی دہلی میں اسسٹنٹ پروفیسر منتخب

ڈاکٹر احمد علی جوہر ایک جانے مانے اردو کے اسکالر ہیں۔ وہ اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی، نئی دہلی میں اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر منتخب ہوئے ہیں۔ اس سے قبل وہ 14/مارچ 2019ء سے اب تک للت نارائن متھلا یونیورسٹی کے سی، ایم، بی، کالج، گھوگھرڈیہہ، مدھوبنی اور جے،این، کالج، نہرا، دربھنگہ میں گیسٹ اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کا تعلق ارریہ ضلع کے ایکونہ ٹولہ، ڈومریا گاؤں سے ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے گاؤں کے پرائمری اسکول سے ہوا۔ اسکول کی ابتدائی تعلیم کے بعد ان کے والدین نے ان کا داخلہ مدرسہ رحمانیہ، پی ٹی ڈومریا میں کرایا۔ اس کے بعد انہیں مدرسہ دارالعلوم رحمانی، منور نگر زیرومائل میں داخل کرایا گیا۔ 1995 میں وہ لکھنؤ گئے جہاں انہوں نے مدرسہ عالیہ عرفانیہ میں داخلہ لیا۔ بعدازاں ایک سال کے لئے انہوں نے بھدوہی کا بھی سفر کیا۔ بھدوہی میں انہوں نے مدرسہ جامعہ اسلامیہ بھدوہی میں داخلہ لیا، پھر وہاں سے وہ دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ پہنچے۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء سے انہوں نے 2003ء میں عالمیت کی سند لی۔ اس کے بعد 2005 میں انہوں نے ممتاز پی، جی، کالج میں بی، اے میں داخلہ لیا۔ 2008ء میں گریجویشن مکمل کرنے کے بعد اسی سال ایم، اے میں ان کا داخلہ ملک کے معروف ادارے جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ہوا۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے انہوں نے 2010ء میں ایم-اے کی سند لی، 2013ء میں ایم،فل کی سند حاصل کی اور 2018ء میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے انہیں پی،ایچ،ڈی کی ڈگری ایوارڈ ہوئی۔ 2010ء میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے انہیں نیٹ اور جے آر ایف کی کی سند عطا کی۔ ڈاکٹر احمد علی جوہر بچپن سے ایک ہونہار طالب علم رہے ہیں۔ ہمیشہ کلاس میں اول آتے تھے۔ ان کی ذہانت کی وجہ سے اساتذہ بھی انہیں بے حد چاہتے تھے۔ ان کا حافظہ بھی بہت قوی رہا ہے۔ وہ کسی بھی چیز کو بہت جلد زبانی یاد کرلیا کرتے تھے۔ وہ دو کتابوں “طارق چھتاری: فکر و فن” اور نکات و جہات” کے مصنف ہیں۔ یہ دونوں کتابیں ریختہ پہ اور آن لائن پہ موجود ہیں۔ ان کی کتاب “طارق چھتاری: فکر و فن” پہ بہار اردو اکیڈمی نے اپنے گراں قدر ایوارڈ “وہاب اشرفی ایوارڈ سے نوازا ہے۔ ڈاکٹر احمد علی جوہر کے مقالات و مضامین ہندوپاک کے معتبر رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔

ڈاکٹر احمد علی جوہر علمی و ادبی اعتبار سے ہمیشہ سے فعال و متحرک رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سنجیدہ مزاج کے مالک ہیں۔ پڑھنا لکھنا ان کا اہم مشغلہ ہے۔ انہوں نے بچپن سے محنت و مشقت پہ ایمان رکھا۔ بالآخر ان کی محنت رنگ لائئ اور اب وہ اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر آف اردو منتخب ہوئے ہیں۔ ان کی اس عظیم کامیابی پر ان کے والدین، اساتذہ، مخلص رفقاء اور ارریہ شہر کی معزز ہستیوں نے بے انتہا خوشی کا اظہار کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں