پوروجوں کے ہندو ہونے کا حوالہ دعوت ارتداد ہے

مولانا احمدالیاس نعمانی ندوی

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے بہت سے لوگوں کو احساس ہی نہیں ہے کہ وہ اس ملک میں کفر واسلام کی واضح کشمکش کے دور میں جی رہے ہیں, کفر کے نقیب ان کا اسلامی تشخص چھیننا چاہتے ہیں اور ان کی اگلی نسل کو مشرک بنانا چاہتے ہیں, یہ جو ہمارے آبا واجداد (پوروجوں) کے ہندو ہونے کا حوالہ بات بات پر دیا جارہا ہے یہ اظہار اخوت اور دعوت اتحاد نہیں دعوت ارتداد ہے, آر ایس ایس کے فکری لٹریچر میں ہندوستانی مسلمانوں سے یہ مطالبہ بار بار کیا گیا ہے کہ وہ اپنا دین ومذہب چھوڑ کر پوروجوں کے دین ومذہب کو قبول کریں, آج بھی مسلسل سنگھی مفکرین ونظریہ سازوں کی جانب سے روزانہ اسی بنیاد پر مسلمانوں کو دعوت ارتداد دی جارہی ہے, اور افسوس کہ بعض ایسے حضرات جن سے اس درجہ کی سادہ لوحی کی امید نہیں کی جاسکتی وہ اسے آر ایس ایس کی فکر میں تبدیلی اور اس کے راہ راست پر آنے کی دلیل سمجھ رہے ہیں.
آبا واجداد کے دین کی طرف لوٹنے کی یہ وہی دعوت ہے جو زمانہ قدیم سے اہل اسلام کو دی جاتی رہی ہے, یہ وہی منطق ہے جس کی بنیاد پر ہر عہد کے کفار اپنے دین ومذہب کو صحیح باور کراتے رہے ہیں, سورہ زخرف میں ارشاد ہوا ہے: “وَكَذَٰلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ” (اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے جب بھی کسی بستی میں کوئی خبردار کرنے والا (پیغمبر) بھیجا تو وہاں کے دولت مند لوگوں نے یہی کہا کہ، ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا ہے، اور ہم انہیں کے نقش قدم کے پیچھے چل رہے ہیں).
اس ماحول میں قرآن ہم کو یہ بھی حکم دیتا ہے کہ ہم اس سلسلہ میں اپنا یہ موقف واضح کردیں کہ کافر آبا واجداد (پوروج) دین کے مسئلہ میں ناواقف اور غلطی پر تھے اس لیے ان کے طریقہ کی پیروی کسی طور صحیح نہیں ہوسکتی. “أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ ” (بھلا اگر ان کے باپ دادے ایسے ہوں کہ نہ ان کے پاس کوئی علم ہو، اور نہ کوئی ہدایت تو کیا پھر بھی (یہ انہی کے پیچھے چلتے رہیں گے؟)
یہ ہے اس مسئلہ میں ہمارا وہ صحیح موقف جس کی راہنمائی قرآن مجید کرتا ہے, اس کے علاوہ ہم کسی اور موقف کو اختیار نہیں کرسکتے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں