اہم خبریںفکر و نظر / مضامین و مقالات

پروفیسر ابنِ کنول کی تقریظ نگاری ✍️ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی

پروفیسر ابنِ کنول کی تقریظ نگاری


✍️ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی
ایم آئی ٹی ٹی کالج، پٹنہ
رابطہ نمبر:9199726661
اردو ادب کی اصناف کو ماہرین لسانیات نے دو زمروں میں تقسم کیا ہے، جن میں سے ایک ” اصنافِ نظم ” اور دوسرا ” اصناف نثر ” ہے۔ اول الذکر زمرہ میں حمد، نعت، منقبت، غزل، قصیدہ، مرثیہ، مثنوی، شہر آشوب، رباعی، قطعہ، واسوخت، ریختی، پابند نظم، معریٰ نظم اور آزاد نظم وغیرہ شمار کی جاتی ہیں جبکہ ثانی الذکر میں داستان، ناول، ڈراما، افسانہ، تحقیق، تنقید، سیرت، تذکرہ، سوانح، خود نوشت، خاکہ، مضمون، مقالہ، انشائیہ، سفر نامہ، رپورتاژ، طنز و مزاح، مکتوب، تمہید، مقدمہ،پیش لفظ، سرنامہ، دیباچہ اور تقریظ وغیرہ شامل ہیں۔
تقریظ نگاری ادب کی اہم ومقبول صنف ہے۔ اس کی روایت قدیم ہے۔ زمانہ قدیم میں تقریظ کتاب کے اخیر میں شامل کی جاتی تھی۔ بعد کے ادوار میں اسے آغازِ کتاب میں شامل کئے جانے کی روایت نے فروغ پایا۔ تقریظ لکھوانے کا بنیادی مقصد کتاب اور مصنف کے بارے میں کسی معروف علمی وادبی شخصیات کے تأثرات، نظریات اور خیالات سے قارئین کو واقف کرانا ہوتا ہے۔ تقریظ نگار عام طور پر کتاب اور صاحبِ کتاب پر اپنے تأثرات کا اس طرح اظہار کرتے ہیں جس سے دونوں کا تعارف واشگاف ہوتا ہے اور قارئین کے لیے ان کی افہام وتفہیم بالکل آسان ہوجاتی ہے۔ تقریظ نگاری کی روایت کا باضابطہ آغاز کس نے اور کب کیا، اس سلسلے میں ماہرین لسانیات کی کوئی حتمی رائے یا قول نہیں ملتا، البتہ یہ بات مبنی برحقیقت ہے کہ تقریظ نگاری کی روایت بہت قبل سے رائج ہے۔ میر امن نے فورڈ ولیم کالج کلکتہ میں جب کتاب ” باغ وبہار ” لکھی تھی تو اس پر انہوں نے جان گلکرسٹ سے تقریظ لکھوائی تھی۔ سر سید احمد خاں نے اپنی کتاب ” آثار الصنادید ” کے لیے محمد مومن خان مومن، مولوی امام بخش صہبائی، مرزا اسد اللہ خان غالب اور محمد صدر الدین خاں سے تحریر کروائی تھیں۔ اردو میں بابائے اردو مولوی عبد الحق نے بہت ساری تقریظات قلمبند کی تھیں۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے بھی کئی کتابوں کے لیے لکھی تھیں۔ اردو میں یہ دونوں بلند پایہ کے تقریظ نگار تھے۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر فرمان فتحپوری،فیض احمد فیض، حکیم محمد سعید، احسان دانش، جمیل الدین عالی، احمد ندیم قاسمی، تابش دہلوی، ڈاکٹر انور سدید، پروفیسر سحر انصاری، ڈاکٹر سلیم اختر، ڈاکٹر طاہر تونسوی، ڈاکٹر وزیر آغا، رئیس امرہوی، کشور ناہید، ادا جعفری، عطاء الحق قاسمی، فہمیدہ ریاض اور پروفیسر ابنِ کنول وغیرہم کا شمار بھی اردو کے اہم و ممتاز تقریظ نگاروں میں ہوتا ہے۔
تجربات اور مشاہدات شاہد عدل ہیں کہ باکمال، باصلاحیت، فعال، متحرک و سرگرم شخصیات ہمیشہ خود کو مصروف رکھتی ہیں، اوقات کا صحیح استعمال کرتی ہیں، تضعیع اوقات سے بچتی ہیں۔ استاد مکرم پروفیسر ابنِ کنول بھی نہایت فعال و باکمال ہیں۔ اتفاق سے ” کمال ” ان ان کے اصل نام کا حصہ بھی ہے۔ عیاں ہو کہ ان کا اصل نام ناصر محمود کمال ہے۔ مجھے دہلی یونیورسٹی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کرتے وقت 2008 سے 2015 کے دوران ان کی صالح صحبت اور پاکیزہ معیت حاصل رہی ہے اور الحمد للہ و بمنہ ان سے مستفید و مستفیض ہونے کا سنہرا سلسلہ تا ہنوز جاری و ساری ہے۔ میں نے بہت قریب سے ان کو مصروف عمل دیکھا ہے۔ ان کی بے پناہ مصروفیات اور مشغولیات کا ثمرہ ہے کہ اب تک درجنوں علمی وادبی مقالات اور مضامین ملک و بیرون ملک کے رسائل وجرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ مزید برآں یہ کہ وہ تحقیق، تنقید، افسانہ، ناول اور خاکہ نگاری سمیت دیگر کئی اصناف ادب اردو میں تقریبا تین درجن بیش قیمتی کتابیں تحریر کرچکے ہیں جو اردو زبان و ادب کی کتب میں اثاثہ، سرمایہ اور ذخیرہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔عالمی وباء کورونا اور لاک ڈاؤن کے سبب 2020 اور 2021 میں ہم سبھی اپنے اپنے مکانوں میں محصور تھے۔ قید وبند اور اسیری کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ پروفیسر ابنِ کنول نے اس اسیری کی زندگی میں بھی کمال کیا اور باکمال ہونے کا ثبوت پیش کیا۔ اس دوران انہوں نے 25 علمی و ادبی شخصیات کے خاکے قلمبند کئے اور انہیں ” کچھ شگفتگی، کچھ سنجیدگی ” کے نام سے 2020 میں شائع کرکے اردو خاکہ نگاری کی روایت کو وقار،اعتبار اور استحکام بخشا اور خود بھی ایک عظیم خاکہ نگار ہونے کا اعزاز و افتخار حاصل کیا۔ اسی دوران انہوں نے ” انشائیے ” بھی تحریر کئے۔ علاوہ ازیں ایک کتاب ” تبریک ” کے نام سے ترتیب دی اور بڑے اہتمام سے اسے 2021 میں شائع کیا ہے ۔ اس کتاب کی اشاعت و طباعت کے منظر، پس منظر اور پیش منظر کے حوالے سے وہ رقمطراز ہیں :
” جب آدمی کا قیام مستقل گھر میں رہے تو عموماً ایسے کام ذہن میں آتے ہیں جنہیں کرنے کا کبھی ارادہ نہیں ہوتا۔ ایک برس سے زیادہ کی مدت گزر گئی، آزادی نصیب نہیں ہوئی۔ دنیا کا ہر آدمی گھر چہار دیواری کے اندر رہنے کے لیے مجبور ہے۔ ان حالات میں انسان اپنے ماضی کو کریدتا ہے، حال پر روتا ہے اور مستقبل سے خوفزدہ ہوتا ہے۔ ہم بھی اسی میں مصروف تھے، لیکن حال پر رونے اور مستقبل کے اندیشوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے زندگی کو خوشحال بنانے کی کوشش کی۔ کبھی داستانوں سے لطف اٹھایا، کبھی خاکے اڑائے اور کبھی انشائیوں سے دل بہلایا۔ ایک برس یوں ہی گزر گیا۔ بے عملی انسان کو وقت کی طوالت کی تکلیف کا احساس دلاتی ہے۔ باعمل کو طویل مدت بھی مختصر معلوم ہوتی ہے۔ اسی دوران خیال آیا کہ ان منتشر تحریروں کو بھی یکجا کیا جائے جو وقتاً فوقتاً کسی کے لیے لکھی ہیں۔ کام مشکل تھا لیکن وقت کی قلت نہیں تھی، اس لیے ہمت نہیں ہاری۔۔۔۔کبھی ان تحریروں کو محفوظ نہیں رکھا،اس لیے تلاش میں دقت پیش آئی،لیکن جو مل سکیں انہیں یکجا کر دیا۔اگر یہ نظر بندی نہیں ہوتی تو شاید اس طرف خیال بھی نہیں جاتا۔مجھے نہیں معلوم کہ اس طرح کی تحریروں کو کتابی شکل دینا مناسب ہے یا نہیں لیکن کہہ چکا ہوں کہ جب آدمی کا قیام مستقل گھر میں رہے تو عموماً ایسے کام ذہن میں آتے ہیں جنہیں کرنے کا کبھی ارادہ نہیں ہوتا “۔ (تبریک، ص:10-9)
استاد محترم، سلطان قلم پروفیسر ابنِ کنول کی شخصیت چونکہ اردو دنیا میں بہت قدآور ہے۔ معاصر محققین، ناقدین اور قلمکاروں و فنکاروں میں نمایاں و ممتاز مقام و مرتبہ رکھتے ہیں، چنانچہ دوسرے مصنفین اور مؤلفین اپنی اپنی تالیفات و تصنیفات کے لیے ان سے ان کے تأثرات ، تبریکات اور تقریظات تحریر کرواتے رہتے ہیں۔ اب تک وہ مختلف مواقع سے متعدد کتابوں کے لیے اپنے تأثرات، تبریکات اور تقریظات قلمبند کرچکے ہیں ( جنہیں انہوں نے کتاب کا جامہ پہنایا ہے اور تبریک کے نام سے شائع کیا ہے جیساکہ سطور بالا میں ذکر کیا گیا)۔ حالانکہ ان تقریظات کو تحریر کرتے وقت ان کے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ وہ ان منتشر تحریروں کو بعد میں کتابی قالب میں ڈھالیں گے۔ اس کا اعتراف فاضل تقریظ نگار نے بقلم خویش بایں سطور کیا ہے :
” جب ہم نے اپنا پہلا افسانوی مجموعہ ” تیسری دنیا کے لوگ ” شائع کرایا تھا تو استاد محترم پروفیسر قمر رئیس سے درخواست کی کہ اس پر کچھ لکھ دیجیے۔ درخواست قبول ہوئی اور ان کے الفاظ آج تک محفوظ ہیں۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ لوگوں نے ہمیں لائق سمجھا کہ ہم ان کی کتاب پر کچھ لکھ دیں۔ کبھی خود کو اس لائق نہیں سمجھا لیکن کسی کی دل آزاری نہیں کی، فرمائش کو نامنظور نہیں کیا، بلکہ اپنے لیے باعثِ عزت سمجھا۔ ” ( تبریک، ص:10-9)
میری معلومات کے مطابق اردو میں کسی بھی تقریظ نگار نے اپنی تقریظات کو یکجا کر کے باضابطہ طور پر کتاب کی شکل میں شائع نہیں کیا ہے۔ اغلب گمان ہے کہ استاد محترم پروفیسر ابنِ کنول پہلے تقریظ نگار ہیں جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے اور تقریظ نگاری کے فن یا صنف کو اس طرح فروغ دینے کی اولین و مسعود سعی کی ہے جو لاریب بہت اہم، بلکہ گراں قدر وتاریخ ساز ہے۔ کہاجاتا ہے ڈپٹی نذیر احمد اپنے بیٹے اور بیٹیوں کی تعلیم وتربیت و اصلاح کی غرض سے روزانہ چند صفحات پر نصیحت آمیز باتیں قلمبند کرتے اور انہیں اپنے بچوں کو پڑھنے کے لیے دیتے، بچے بھی انہیں نہایت ذوق و شوق سے پڑھتے اور ان سے نہ صرف استفادہ کرتے، بلکہ ان پر عمل پیرا بھی ہوتے تھے۔ نیز تمام صفحات کو اپنے پاس محفوظ بھی رکھ لیا کرتے تھے۔ بعد میں ڈپٹی نذیر احمد نے انہیں صفحات کو کتابی جامہ پہنا دیا۔ بیٹا کے لیے لکھی نصائح کو ” چند پند” اور بیٹیوں کے لیے لکھی کہانیوں کو ” مرأة العروس ” اور ” منتخب الحکایات ” کے ناموں سے شائع کیا جو کتب اردو میں بہت ہی اہم شمار کی جاتی ہیں۔ کسے معلوم تھا کہ ورق ورق پر بکھری تحریروں کو بعد میں کتابی قالب میں ڈھالا جائے گا۔ یہ بھی کہاں کسی کو معلوم تھا کہ یہ منتشر تحریریں جب یکجا ہوں گی اور کتابی قالب میں ڈھلیں گی تو ان سے اردو ادب میں ناول نگاری کی باضابطہ داغ بیل پڑے گی اور ” مرأة العروس ” کو اولین اردو ناول نیز ڈپٹی نذیر احمد کو اولین ناول نگار ہونے کا اعزاز و افتخار حاصل ہوگا۔ بعینہ پروفیسر ابنِ کنول کو بھی اس بات کا بالکل علم نہیں تھا کہ ان کی منتشر تقریظات ایک نہ ایک دن یکجا ہوں گی اور اردو تقریظ نگاری کے فن یا صنف میں اس کتاب کو نقش اول ہونے کا اختصاص و امتیاز حاصل ہوگا۔
فاضل تقریظ نگار پروفیسر ابنِ کنول نے اس کتاب یعنی ” تبریک ” میں اپنی 75 گراں قدر تقریظات کو شامل کیا ہے۔ مصنفوں اور کتابوں کے اسماء مندرجہ ذیل ہیں، ملاحظہ فرمائیں :
پروفیسر قاضی حبیب احمد اور ڈاکٹر امان اللہ: “اردو زبان پر علاقائی اثرات”، ڈاکٹر آمنہ اور ڈاکٹر محمد شفیع : ” ہمارے آپ کے مظفر شہ میری “، فیاض رفعت : ” بیتی رتوں کا منظر نامہ”، اے خیام : ” کپل وستو کا شہزادہ “، پروین شیر : ” کرچیاں “، پروفیسر فاروق بخشی : ” معانی و مطالب”، ڈاکٹر جلال انجم : ” اردو غزل انیسویں صدی کے تناظر میں “، ڈاکٹر فرید پربتی : ” ہجوم آئینہ”، اسد رضا : ” ادبی اسپتال “، ڈاکٹر صابر گودڑ : ” درد کا سفر “، عبد القاسم علی محمد : ” غزلیات ناداں”، پروفیسر ضیاء الرحمٰن صدیقی : “جنم دن “، پروفیسر محمد کاظم : ” اردو میں ڈرامہ نگاری “، سید قمر الحسن : ” جن سے الفت تھی بہت “، ڈاکٹر جی آر کنول : ” غزل آشنا “، عبد الرحیم نشتر : ” بچوں کا سنسار “، سہیل انجم : ” نقش برسنگ ” ، ڈاکٹر رابعہ سرفراز : ” زندگی ریل کا ایک سفر تو نہیں “، زاہد علی خاں : ” رقص دل”، زاہد علی خاں : ” سرمایہ ادب “، ڈاکٹر سلیم محی الدین : ” اورنگ آباد کا روشن چراغ “، ڈاکٹر محمد اکمل : ” میزان تحقیق “، ڈاکٹر محمد اکمل : ” آزادی سے قبل اردو تحقیق “، محمد سلیم دہلوی : ” مضامین ہمہ رنگ “، ثمر کلیم : ” کچھ نہ کچھ تو ہے” ، محمد رؤف : ” غزل کے بدلتے رجحانات “، ڈاکٹر دانش غنی : ” شعر کے پردے میں “، ڈاکٹر شمیم احمد : ” افکار و تأثرات “، ڈاکٹر شمیم احمد : ” ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کے ڈرامے “، ڈاکٹر نواز دیوبندی : ” ذرہ نوازی”، ڈاکٹر خواجہ اکرام : ” تعارف وتنقید “، ڈاکٹر عمر رضا : ” علی سردار جعفری”، ڈاکٹر نشان زیدی : ” دہلی کی خواتین فنکشن نگار “، محمد اسماعیل : ” بازگشت ” مامون ایمن: ” مجموعہ رباعیات”، ڈاکٹر سمیہ تمکین: ” جدید اردو شاعری کے فکری جہات”، نجم الاسلام نجم: ” وجدان “، ابرار فائق: ” فردوس “، ڈاکٹر نہال افروز: ” ہندی کہانی کے ابتدائی نقوش اور چند اہم کہانیاں “، ڈاکٹر فریاد آزر: ” درد ہوتا ہے اگر درد نہیں ہوتا ہے(ہندی) ، شمس تبریزی: “کلام شمس تبریزی”، ڈاکٹر محمد مصطفی: ” پروفیسر خلیق احمد نظامی کی علمی وادبی خدمات “، ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی: ” جد وجہد آزادی میں وہابی ادب کا کردار “، ریاضت علی شائق: ” دہلی میں اردو مرثیے کا ارتقاء “، ڈاکٹر افضل مصباحی: ” اکیسویں صدی کے سیاسی وسماجی مسائل “، ڈاکٹر محمد ارشد: ” محمد عتیق صدیقی: جہات و خدمات “، ڈاکٹر عزیر احمد: ” اقبال تنقید “، ڈاکٹر محمد شمس الدین: ” محمود الہی: حیات و خدمات “، ڈاکٹر شعیب رضا خاں وارثی: ” باغ وبہار کا اسلوبیاتی مطالعہ “، ڈاکٹر رفیع اللہ مسعود تیمی:” ظفر علی خاں:حیات، شاعری اور صحافت”، سلیم صدیقی: ” قلندر بولتا ہے “، ڈاکٹر رحیم اللہ شاد: ” خواب و خیال “، ڈاکٹر عبد السمیع ندوی: ” شذرات طب و ادب “، ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی: ” 1980کے بعد اردو میں خود نوشت سوانح نگاری “، محمد یوسف رضا: ” ندا فاضلی:حیات و جہات “، ڈاکٹر یامین انصاری: ” عراق جو میں نے دیکھا “، ڈاکٹر صبا عنبریں: ” اردو تنقید حالی سے عصر حاضر تک “، ڈاکٹر گلشن ناز: ” اٹھارہویں صدی کی شاعری کا منظر نامہ “، ڈاکٹر عالیہ: ” انشراح “، ڈاکٹر پشپندر کمار نم: ” پریم چند کے تیرہ افسانے “، عارف اقبال : ” امیر شریعت سادس:نقوش و تأثرات “، ڈعلیشاہ خانم: ” مثنویات احمد علی شوق قدوائی “، ڈاکٹر عادل احسن: ” صالحہ عابد حسین کے سفر نامہ کا ادبی وتحقیقی جائزہ “، ڈاکٹر نور الصباح: ” اردو افسانوں میں مسائل نسواں کی عکاسی “، نثار احمد اور حبیب احمد:” بیکل اتساہی: یہ حرف و لفظ یہ حسن کلام آپ کے نام “، ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی: ” تعاقب “، تاج محمد خان: ” فیروز دہلوی “، ہمارفیق: ” سات رنگ:ایک تجزیات مطالعہ “، محمد ارشاد: ” سول سروسز “، فرید پربتی: ” ابر تر(شعری مجموعہ)، سرمد، مترجم:محمد مشتاق شارقؔ: “الہامات سرمد (رباعیات) ، ڈاکٹر رئیس احمد: ” اردو تذکرہ نگاری 1835 کے بعد “، ڈاکٹر مشتاق احمد وانی: ” آج میں کل تو” اور فرحین صدیقی: “پس پردہ”۔ یہ سبھی کتابیں مختلف اصناف سے تعلق رکھتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بقیہ آئندہ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button