نتیش حکومت کے کاموں کو قرآن و حدیث سے جوڑنا بھدا مذاق: نظرعالم/شکیل سلفی

مدھوبنی / محمد سالم آزاد

عید ملن تقریب میں جے ڈی یو کے چیف وہپ اور سابق وزیر نیرج کمار کے ذریعہ شراب بندی کے معاملے کو قرآن و حدیث کی نظر سے دیکھے جانے کے بیان اور ایک اردو اخبار میں اس طرح کی شہ سرخی بنائے جانے پر بہت سے لوگوں نے بڑی حیرانی کا اظہار کیا ہے۔ آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدر نظرعالم نے پریس بیان جاری کر کہا کہ بلاشبہ نتیش کمار نے شراب بندی کا قانون نافذ کیا ہے لیکن اس سے کون واقف نہیں ہے کہ بہار میں شراب کی ہوم ڈیلوری ہوتی ہے۔ تقریبا ہر روز ہر ضلع میں پولیس بڑی مقدار میں شراب ضبط کرتی ہے۔

اس کا مطلب صاف ہے کہ بہار میں شراب بندی کے باوجود شراب کی خرید وفروخت بے لگام ہے۔ نظر عالم نے اس بات پر زیادہ حیرت کا اظہار کیا ہے کہ اردو اخبارات میں بھی اس طرح کی سرخی لگائی جاتی ہے کہ نتیش کمار کے کام کو قرآن و حدیث کے نظرئیے سے دیکھئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اسلام میں صرف شراب بندی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مسلم قوم عمومی طور پر شرابی تو نہیں ہے کہ شراب بندی کو قرآن و حدیث کی روشنی میں دیکھا جائے۔ نظرعالم اور سماجی کارکن شکیل احمد سلفی نے بھی کہا کہ سرکاریں سماجی فلاح کے لئے ہوتی ہیں۔

انہیں ایسا اقدام کرنا چاہئے جس میں سب کی بھلائی ہو۔شراب بندی مسلمانوں پر کوئی احسان نہیں ہے۔ یہ وہی نتیش کمار ہیں جنہوں نے تمام مسلم مخالف قوانین پر بی جے پی کی حمایت کرکے مسلمانوں کی زندگی تنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اس لئے نہ نیرج کمار مسلمانوں پر احسان جتائیں اور نہ ہی اردو اخبارات اس طرح لوگوں کو گمراہ کریں۔ افسوس کہ اردو اخبارات جنہیں اردو والوں کے مسائل اٹھانے تھے اور ان کی نمائندگی کرنی تھی وہ ذاتی مفاد کے لئے عوام میں حکومت کی نمائندگی کررہے ہیں اور حکومت کو اردو والوں کا بہی خواہ اور خود کو اردو کے سالار کے طور پر پیش کررہے ہیں جو مضحکہ خیز ہے۔ حالانکہ سب کو پتہ ہے کہ ریاست میں اردو کی حقیقی صورتحال کیا ہے۔ نظرعالم نے کہا ہے کہ نیرج کمار نے قرآن و حدیث سے نتیش کمار کو جوڑ کر مسلمانوں کا مذاق اڑایا ہے اور اس کے لئے ان کو مسلمانوں سے معافی مانگنی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں