اہم خبریںحاجی پور، ویشالیفکر و نظر / مضامین و مقالات

میں بھی حاضر تھا وہاں ضبط سخن کر نہ سکا

محمد امام الدین ندوی

مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی

فروغ اردو سیمینار حاجی پور ویشالی کا انعقاد ایک چھوٹے سے ہال میں ہوا۔پورے ضلعے سےاردو اساتذہ کی حاضری ہوئی۔ان اساتذہ کے ساتھ فروغ اردو سیمینار کے نااہل اور ناکارے ارکان نے ناروا سلوک کیا۔اساتذہ گھنٹوں کھڑے رہے پر ان کے بیٹھنے کا انتظام تک نہ کیا گیا۔کچھ اساتذہ واپس لوٹ گئے۔ان اساتذہ کے جذبے و خلوص کو سلام جو اپنے خرچ سے سیمینار میں شرکت کرنے کی غرض سے تشریف لے گئے پر انہیں مایوسی ہاتھ لگی اور ان کے جذبہ کو ٹھیس پہنچایا گیا۔تھک کر اساتذہ زمین پر ہی بیٹھ گئے۔لیکن اردو کے ان سوداگروں کو کوئی فرق نہیں پڑا ۔ان ضمیر فروشوں کی غیرت مردہ ہوگئ ۔انہیں تو کرسی بھی ملی اور روپے سے بھرا لفافہ بھی ملا ۔ان کی زبان مفلوج ہوگئی۔بعد میں چند کرسیاں منگائی گئیں جو ناکافی تھی۔

پچھلے سال بھی اساتذہ کی بے عزتی ہوئی ۔اس وقت ان بےغیرتوں ،ضمیر فروشوں،چند سکوں میں اردو کی عزت نیلام کرنے والوں نے یقین دلایاتھاکہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا ۔پر ضمیر فروشوں نے وہی حرکت کی۔

بے غیرتی کی حد تو اس وقت ہوئی جب ناظم جلسہ (اناؤنسر) نے ادب کا پاٹھ پڑھایا۔لوگوں کی پریشانی اسے نہیں سوجھی۔اسے تو کرسی،مائک،لفافہ، سب ملا۔بھلا وہ ادب کا پاٹھ دوسروں کو کیوں نہ پڑھاتا ۔افسوس اس وقت ہوا جب جلسہ کے ذی وقار صدر کے کہنے کے باوجود بیٹھنے کا انتظام نہ کیا گیا۔ان کی بات کوبھی نظر انداز کردیا گیا۔

اس سے اردو کا فروغ کتنا ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا پر مقالانگار کی جیب ضرور بھر گئی۔اردو کا جنازہ اسی قسم کے ضمیر فروش پڑھیں گے اور پڑھائیں گے۔ان کا شیوہ ہی یہی ہے۔بس چند نام ،چند اشخاص،جن میں اکثر کو پتہ نہیں کہ مقالا کا مادہ کیا ہے،طرز القا،کیسا ہونا چاہئے،کہاں رکنا ہے،اتار چڑھاؤ کیا چیز ہے،تلفظ کی ادائیگی کیسی ہونی چاہئے،انہیں رونق اسٹیج رکھ کر چند سکہ تھماکر رخصت کرنا ہی فروغ اردو سمجھا جاتا ہے۔اس لئے اردو کا فروغ دور دور تک نظر نہیں آتا البتہ اردو پر پستی کے بادل چھاتے ضرور نظر آتے ہیں۔

سیمینار میں کچھ مقالے بے ربط تھے جن کا عنوان سے کوئی انسجام نہیں تھا پھر بھی تالیاں بجیں۔بس من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو ہی کا دور دورہ رہا۔

بعض حلقے سے اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لئے کرونا کا ڈھونگ رچا گیا کہ کرونا کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔یہ عذر لنگ ہے۔کیونکہ نہ سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال رکھا گیا اور نہ ماسک کا۔اردو کے بعض تاجروں نے بعد میں نصیحت کرتے نظر آئے کہ لوگوں نے حقیقت کو نہیں سمجھا ۔جب دو اور دو چار ہو تو اس میں کون سا معمہ ہے جو نہ سمجھ میں آئے۔ان نام نہاد ناصح سے عرض ہے کہ آپ تو اپنے ضمیر کو چند ٹکڑوں میں بیچ چکے ہیں اور اردو کے ناموس کو پامال کیا ہے اس لئے بد نامی کے داغ کو دھونے کے لئے آپ کے پاس کچھ بچا ہی نہیں ۔ہاں لفافہ بچا ہے اسے استعمال کیجئے ۔اس لفافے نے حق بولنے سے آپ کی زبان کو مفلوج کردیا ہے۔غیرت ،شرم وحیا کو رخصت کردیا ہے،دیدہ کے پانی کو خشک کردیا ہے۔

فروغ اردو سیمینار اگر ویشالی ضلع کا تھا تو پھر ضلع سے باہر کے لوگوں کو کیوں شامل کیا گیا؟ کیا یہاں کے لوگ کنہرا میں چلے گئے تھے؟

اردو ہر گھر اور ہر فرد تک کیسے پہونچے ،اس سے نئی نسلوں کو قریب کیسے کیا جائے،نئی نسلوں میں اردو سے محبت کیسے پیدا ہو،نئی نسل اردو سے بیزاری کی بجائے اردو کی طرف کیسےمائل ہو،اردو لکھنے اور پڑھنے کا ملکہ ان کے اندر کیسے پیدا ہو؟ جب تک اس پر زمینی سطح پر کام نہ کیا جائے گا اردو کے فروغ کا خواب دیکھنا مانند سراب،اورریت پر محل تعمیر کرنے کے مرادف ہے۔دیہی علاقوں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا فروغ اردو کا جھنڈا ڈھونے والے،اردو کی بدحالی پر مگر مچھ کا آنسو بہانے والے اس سمت نظرم کرم فرمانے کی زحمت کریں گے؟کیا فروغ اردو سیمینار میں چند سکوں کے بدلے اردو کا سودہ کرنے والے رونق اسٹیج ضمیر فروش مقالہ خواں اس سمت قدم بڑھائیں گے؟ ہم آپ کی آواز پر پچاس،ساٹھ،کلو میٹر کا سفر ماضی میں بھی طئےکیا ہے۔حال میں بھی طے کیاہے اور آئندہ بھی لبیک کہیں گے ۔آپ تھوڑا اپنے ضمیر کو بیدار کیجئے ۔اردو کی بقا کی فکر دل سے کیجئے۔اردو کی سودے بازی چھوڑ دیجئے۔ہم اردو اساتذہ ہمیشہ آپ کے ساتھ قدم سے قدم ملاکرچلنےکو تیار ہیں۔اس طرح پاکیزہ ردائے اردو کو خدارا آئندہ کبھی داغدار مت کیجئے۔ممکن ہے یہاں آپ کی کرسی بچ جائے۔آپ کا لفافہ ہمیشہ آپ کو تھمایا جاتا رہے۔کیمرہ مین آپ کو سدا کیمرے میں قید کرتا رہے۔

آپ اس کی زینت بنتے رہیں۔اخبار و رسائل میں آپ چھپتے رہیں۔اخبار کے پنوں پر آپ مشہور ہو جائیں۔واٹس ایپ،اور فیس بک،پر آپ گردش کرتے رہیں۔لیکن بےزبان اردو کی آہ،نئی نسلوں کی اردو بیزاری،اور اردو اساتذہ کے ساتھ بدسلوکی آپ کے لئے قابل جان نہ بن جائے۔

اس سیمینار میں تصویر کشی خوب ہوئی از اول تا آخر اس کا اہم رول رہا۔کیمرہ مین اپنے فرائض ایمانداری سے نبھاتا رہا۔گویا یہی مقصود اصلی ہو۔ایسا ہونا بھی ضروری تھا ۔کیونکہ آنے والی پیڑھی کو تو بس یہی ملنا ہے۔
اس سیمینار میں خواتین، اسلامی تہذیب و ثقافت کو بالائے طاق رکھ کر مجلس میں مردوں کے ساتھ بے پردہ نظر آئیں۔کم از کم پردہ کا خیال رکھا جاتا تو اچھا ہوتا ۔اس مجلس میں ہر طرح کے لوگ تھے ۔علماء کی بھی اچھی تعداد تھی۔اناؤنسر کو اس پر بھی ادب کا پاٹھ پڑھانا چاہئے تھا۔ادب تو ہر چیز میں ضروری ہے۔اس موسم سرما میں دور دراز سے اساتذہ کرام حاضر ہوئے ان کے جذبے کو مت سراہئے؟ پر انہیں ذلیل مت کیجئے۔آپ کا یہ غلط رویہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اللہ ہمیں دل سے اردو زبان کی آبیاری کی توفیق دے آمین۔
اردو ہم شرمندہ ہیں قائدوں کا ضمیر مردہ ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button