اردو ادبافسانہ / غزل / نظم / نعتیہ کلاماہم خبریںبہارحاجی پور، ویشالی

مہوا ( ویشالی )میں تقریب اجرا و محفل مشاعرہ کا انعقاد : ایک رپورٹ

گزشتہ چند برسوں میں سر زمین بہار کے جن نوجوان شعراء نے اپنی تخلیقات کے ذریعہ اردو شعر و ادب کے باذوق قارئین کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے ان میں ایک نام مظہر وسطوی کا بھی ہے۔ مظہر اپنی سنجیدہ شاعری کے لئے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری صرف عشق و عاشقی تک محدود نہیں بلکہ ان کے یہاں اخلاص ، للہیت ، ہمدردی ، انسانیت ، اخلاقیات ، زندگی کے نشیب و فراز کے ساتھ غم و جدائ جیسے عناصر بھی بدرجہ اتم موجود ہیں جن کا اعتراف اردو شعر و ادب کے کئ ناقدین اور پارکھوں نے کیا ہے۔ ” پۓ تفہیم ” مظہر وسطوی کا پہلا شعری مجموعہ ہے جس کی رسم اجرا گزشتہ 12 اکتوبر کو آکسفورڈ پبلک اسکول مہوا( ویشالی) کے وسیع ہال میں انجام پذیر ہوئی ۔ ت

قریب کی صدارت اردو کے نامور شاعر ، ادیب اور صحافی ڈاکٹر عطا عابدی پٹنہ نے فرمائی اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے جناب امتیاز احمد کریمی رکن بہار پبلک سروس کمیشن پٹنہ کی شرکت ہوئی ۔ مہمان اعزازی کی حیثیت سے مولانا ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی ، ڈاکٹراسلم جاوداں ، ڈاکٹر کامران غنی صبا، ڈاکٹر بدر محمدی ، محمد ظہیر الدین نوری ، نزرالاسلام نظمی اور پروفیسر حافظ توقیر سیفی شریک تقریب ہوئے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر عارف حسن وسطوی نے انجام دیے ۔ تقریب کا آغاز حافظ دلشاد احمد کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ انوار الحسن وسطوی نے اپنے استقبالیہ کلمات کے ذریعہ مہمانان گرامی اور سامعین حضرات کا استقبال کیا ۔ رسم اجرا کی ادائیگی کے بعد راقم السطور ( قمر اعظم صدیقی ) نے ” پۓ تفہیم ” پر تبصرہ پڑھا جسے کافی پسند کیا گیا ۔ تبصرہ لکھنے کی یہ میری پہلی کوشش تھی جو کامیاب رہی ۔

رسمِ اجراء کا ویڈیو دیکھنے کے لئے کلک کریں 👆

سامعین نے اپنے کلمات تحسین سے مجھے نوازا جس کے لیے میں تمام لوگوں کا مشکور ہوں ۔ تبصرہ کی خواندگی کے بعد تاثراتی کلمات کا سلسلہ شروع ہوا ۔ سب سے پہلے پروفیسر حافظ توقیر سیفی کو مائک کے رو برو کیا گیا ۔ موصوف نے اپنے تاثرات میں کہا کہ ” پۓ تفہیم ” ایک جواں سال شاعر کا مجموعہ کلام ہے ۔ یہ شاعر اس خاندان کا فرد ہے جو عرصہ سے اردو زبان کی خدمت میں مصروف عمل ہے ۔ ڈاکٹر کامران غنی صبا نے کہا کہ مظہر وسطوی کی شاعری متوازن شاعری کی بہترین مثال ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مظہر کے یہاں نہ تو خود ساختہ ادبی پیچیدگیاں ہیں اور نہ عوامی مقبولیت حاصل کرنے کی تمنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سطحیت ہے۔ شاعر کا یہ پہلا مجموعہ کلام ہے پھر بھی قابل توجہ اور قابل مطالعہ ہے ۔ اردو شعر و ادب کے پختہ‌ مشق قلم کار نذرالاسلام نظمی نے کہا کہ مظہر وسطوی محض 34 کے سن میں اپنا پہلا شعری مجموعہ ” پۓ تفہیم ” لے کر بازار ادب میں آئے ہیں ۔ ان کی شعر گوئی کی عمر ابھی کم ہے اور اس کم عمری میں اتنا کچھ کہہ لینا اگر زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہے ۔

معروف ادیب و شاعر ڈاکٹر بدر محمدی نے اپنے تاثرات میں کہا کہ مظہر وسطوی کو شعر و شاعری کا اچھا شغف ہے ۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تصنیف ” پئے تفہیم ” کو منظر عام پر لا کر اپنے شاعر ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مظہر کی شاعری فرحت و انبساط کی شاعری ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ ” پۓ تفہیم ” کے تعلق سے موصوف نے کہا کہ اس تصنیف میں مقبولیت کے عناصر موجود ہیں ۔ جناب ظہیر الدین نوری نائب صدر کاروان ادب حاجی پور نے کہا کہ مظہر وسطوی جس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں یہ خاندان عرصہ سے اردو کے فروغ میں اپنی حصہ داری بحسن و خوبی انجام دے رہا ہے ۔ مظہر وسطوی کے دادا جناب داؤد حسن مرحوم نے اپنے گھر اور اپنے خاندان میں جو چراغ جلایا تھا اس کی روشنی سے خطہ ویشالی فیض یاب ہو رہا ہے ۔

سی ٹیٹ اردو سوالنامہ 2014

اردو کونسل ویشالی کے جنرل سیکریٹری سید مصباح الدین احمد اور اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن ویشالی کے صدر محمد عظیم الدین انصاری نے بھی اس موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور مظہر وسطوی کو شعری مجموعہ کی اشاعت پر مبارکباد دی ۔ ڈاکٹراسلم جاوداں ناظم اعلی اردو کونسل ہند نے اپنی تاثرات میں مظہر وسطوی کو ان کی تخلیقی کاوش پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ویشالی کی اردو تحریک سے پورا بہار واقف ہے ۔ ویشالی ضلع اردو کا گہوارہ رہا ہے ۔ ویشالی نے بہار کی اردو تحریک کو مضبوط اور متحرک بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے جس سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹر جاوداں نے اردو کے تعلق سے عمومی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی قوم کو زندہ رکھنا ہے تو اسے اپنی زبان و تہذیب کو زندہ رکھنا ہوگا اور اپنے کردار و عمل سے یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ ہم اپنی زبان سے محبت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو اردو اس طرح پڑھائیں جیسے کہ ہم قرآن شریف پڑھاتے ہیں ۔ تقریب کو خطاب کرتے ہوئے معروف اسلامی اسکالر پروفیسر مولانا شکیل احمد قاسمی ( پٹنہ) نے کہا کہ ویشالی میں اردو کے لیے جتنے کام ہوئے ہیں وہ پورے بہار کے لیے ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سرزمین ویشالی میں انوار حسن وسطوی کی حیثیت اردو کے میر کارواں کی ہے ۔ انہوں نے فروغ اردو کے لیے انتھک محنت کی ہے ۔ ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی نے اس موقع پر ویشالی کے اردو تحریک کے قافلہ سالار ڈاکٹر ممتاز احمد خاں ( مرحوم ) کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے ان کی مغفرت کی دعا کی ۔ تقریب کے مہمان خصوصی جناب امتیاز احمد کریمی رکن بہار پبلک سروس کمیشن نے اپنے خطاب میں کہا کہ مظہر وسطوی اس خاندان کے لعل و گہر ہیں جس خاندان کے افراد نے اردو کے فروغ کے لئے قابل قدر کام کیے ہیں ۔ جناب کریمی نے کہا کہ مظہر وسطوی سائنس اور انجینئرنگ کے طالب علم ہونے کے باوجود اردو کو گلے لگایا اور اردو کے شاعر ہوئے یہ اپنے آپ میں ایک بڑی بات ہے اور دوسرے نوجوانوں کے لیے مشعل راہ بھی ہے ۔ جناب کریمی نے حصول علم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہی ترقی کی شاہ کلید ہے چنانچہ اسے حاصل کرنے میں کوئی کور کسر نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ انہوں نے اردو ٹیچروں سے مخاطب ہوکر کہا کہ وہ اردو کے درس و تدریس کو یقینی بنائیں اور اسے اپنا فرض سمجھیں ۔

تصویری جھلک

انہوں نے افسوس کے لہجے میں کہا کہ کچھ اساتذہ اردو پوسٹ پر بحال تو ضرور ہیں مگر بی آر سی اور سی آر سی میں الجھ کر رہ گئے ہیں جس کے سبب وہ اپنے فرض منصبی سے دور ہو گئے ہیں۔ یقیناً یہ صورتحال اردو کے فروغ کے لیے نیک شگون نہیں ہے ۔ جناب کریمی نے اپنی زبان پر دسترس حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ ہم خواہ تعلیم جو بھی حاصل کریں لیکن اپنی زبان سے مضبوط رشتہ قائم رکھیں اور اپنی شناخت کو باقی رکھیں جناب کریمی کی یہ بصیرت افروز تقریر سامعین بے حد انہماک سے سماعت فرما رہے تھے ۔ ڈاکٹر عطا عابدی نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ مظہر وسطوی کی شاعری ان کے دل کی آواز ہے ۔ مظہر وسطوی کے یہاں ذات و کائنات کے بنیادی حوالے ترجیحی نوعیت رکھتے ہیں ۔ انسانی ہمدردی ، انسانیت نوازی ، غیرت مندی ، دل و دوراں کے حوالے ، تلخ حقائق کی صورت گری ، اصلاحی شعار و شعور کی رونمائی ، روایات کی حسین قدریں ، جمالیاتی فکر کی پیش کش اور عصر آشنا افکار ” پۓ تفہیم ” کی شاعری کا خاصہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کے دوسرے لوازمات کی طرح شاعری بھی اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے اس لیے اسے سنبھال کر رکھنا چاہیے ۔


رسم اجرا کی یادگار تقریب کا اختتام محفلِ مشاعرہ کے انعقاد پر ہوا جس میں ڈاکٹر عطا عابدی کے علاوہ جن مقامی شعراء نے اپنے کلام سے سامعین کو نوازا ان میں مظہر وسطوی ، اظہر احمدی ، اعجاز عادل ، ناز عزیز ، عبداللہ امامی ، بشر رحیمی ، حنیف اختر ، نزرالاسلام نظمی اور جناب بدر محمدی کے نام شامل ہیں ۔ مشاعرہ کی نظامت بھی ڈاکٹر عارف حسن وسطوی نے ہی فرمائی ۔ مظہر وسطوی کے اظہار تشکر پر تقریب رسم اجرا و محفل مشاعرہ کی یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی ۔ مظہر وسطوی کے والد گرامی انظار الحسن وسطوی کی دعوت پر علاقہ کے کئ سر کردہ علمی و ادبی شخصیتوں نے اس ادبی محفل میں شرکت کی ۔ شرکاء حضرات اس تقریب کو سر زمین مہوا ( ویشالی ) کی تاریخ کا ایک یادگار واقعہ قرار دیا ۔ واضح ہو کہ گزشتہ نصف صدی کی تاریخ میں سرزمین مہوا پر کسی شعری مجموعہ کے اجر کا یہ پہلا واقعہ ہے ۔

تقریب رسم اجرا و محفل مشاعرہ کی اس تقریب میں جن سرکردہ شخصیتوں کی شرکت ہوئی ان میں مولانا پروفیسر آفتاب عالم قاسمی ، ضیاء الحسن ، نسیم الدین احمد صدیقی ایڈوکیٹ ، مولانا نظر الہدیٰ قاسمی ، مولانا قمر عالم ندوی ، مولانا صدر عالم ندوی ، مولانا محمد مرشد عالم ، حافظ محمد مرتضے ، انصار الحق مرزا پوری ، سید محمد مظہر( حاجی پور), طفیل احمد ، ماسٹر احسان عالم ، شمیم اختر نعمانی ، شاہنواز الرحمن ( مظفر پور )، ڈاکٹر کلیم اشرف ویشالوی ، شاہنواز عطا ، حاجی مظہر حسن ، اور شکیل احمد( کولکاتہ) کے نام بطور خاص قابل ذکر ہیں ۔ تقریب اجرا اور محفل مشاعرہ کی اس محفل کو کامیابی سے ہم کنار کرنے میں مظہر وسطوی کے برادر کلاں مناظر حسن آزاد کے علاوہ مجاہد حسن ، اظہار الحسن ، نیر اعظم ، اکبر اعظم صدیقی ، مبشر احمد ، عابد شوکت ، اشرف علی ، محمد معراج ، محمد شہاب الدین نے سرگرم کردار ادا کیا ۔یقیناً اس تاریخی ادبی تقریب کی یاد عرصہ تک لوگوں کے حافظہ میں محفوظ رہے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button