موہن بھاگوت  بدلتا ہوا رنگ

محمد سیف الاسلام قاسمی سوپول (محمد ابوالمحاسن)21 مارچ 2009 کو آر ایس ایس کے چھٹے سر سنگھ چالک موہن راؤ بھاگوت کو نامزد کیا گیا ۔ تقرری کے بعد وی ایچ پی کی گولڈن جوبلی تقریبات کے دوران اپنی پہلی تقریر میں ہی اپنے عزائم کو ظاہر کردیا۔ انہوں نے کہا۔

بھارت ہندو راشٹر ہے ۔ اور یہاں رہنے والے تمام لوگ ہندو ہیں۔ کوئ اس کا انکار نہیں کرسکتا۔4 جولائ کو غازی آباد میں مسلم راشٹریہ منچ سے دیئے گئے بیان میں انہوں نے کوئ نئ بات نہیں کی۔ صرف ان نظریات کو پیش کیا جس کو وہ مانتے ہیں۔ اور اس الزام کا دفاع کیا جسے وہ ہندوتوا کے اوپر سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ 2014 میں بی جے پی کے بر سر اقتدار آنے کے بعد بھارت میں مسلمانوں کی ماب لنچنگ میں سو فیصد اضافہ ہوا۔اوران تمام واقعات کے پیچھے ہمیشہ ہم نے ہندوتوا دہشت گردوں کو دیکھا۔  آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا بیان انہیں تمام الزامات کو دھلنے کی کوشش میں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کہا “جو لوگ ماب لنچنگ میں ملوث ہیں وہ ہندوتوا مخالف ہیں۔ایسے افراد کو سزا ملنا چاہیے ۔ اس کے لئے قانون اپنا کام کریگا۔لیکن آر ایس ایس کے افکار و نظریات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بیان بے معنی نظر آتا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا 17 اگست 2014 کو بی جے پی کے انتخابی مہم میں بھاگوت نے کہا تھا۔ہندو میں اتنی طاقت ہے کہ وہ دیگر مذاہب اور فرقوں کو ہضم کرسکتا ہے۔

آپ کو شاید یاد ہو انہوں نے دادری میں اخلاق کے لنچنگ کو ایک معمولی سا حادثہ قرار دیا تھا۔ 23 جولائ 2019 کو ملک کے 49 بڑی ہستیوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا تھا۔ جس میں انہوں نے مسلمانوں ۔دلتوں اور دیگر اقلیتوں کے ماب لنچنگ سے آگاہ کرایا تھا۔

جس کے بعد راجیہ سبھا میں دنیا کے سب سے بڑے سیکولر ملک کے وزیر اعظم نے اس وقت جھارکھنڈ میں ہوئے ہندو دہشت گردی کے شکار تبریز انصاری کے موت پر صرف ہمدردی اور اس کے اہل خانہ سے صرف تعزیت کا اظہار کیاتھا۔ اسی کے برعکس کینیڈا کے اونٹاریو میں ایک ٹرک ڈرائیور نے مسلم خاندان کے چار افراد کو ٹرک سے شہید کردیا تھا۔ اس حادثہ کے بعد وزیر اعظم نے جو بیان دیا تھا۔ وہ حیرت انگیز ضرور تھا۔ انہوں نے کہاتھااگر کوئ شخص یہ کہتا ہے کہ کناڈا میں اسلاموفوبیا نہیں ہےتو وہ غلط کہتاہےاسلاموفوبیا موجود ہے مسلمانوں سے نفرت موجود ہےآپ اگر اس مقتول خاندان کے افراد سے پوچھیں گے تو وہ کہیں گے یہاں اسلاموفوبیا ہے۔اس واقعہ نے کینیڈا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

جس کے بعد مظلوم افراد خانہ کے ساتھ وہاں کے اکثر و بیشتر شہری نے ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔ اوراسلاموفوبیا کے اس آگ کو بھڑکانے والے تمام ذہنوں کو شرمندہ کردیا تھا۔ لیکن ملک عزیز میں ماب لنچنگ کرنے والوں کی حوصلہ افزائ کی جاتی ہے ۔وہ اس لئے کہ ہمارے یہاں نا وہ حکومت ہے جو ماب لنچنگ کے خلاف کھل کر باتیں کرسکیں۔ نا وہ شہری ہیں جو ماب لنچنگ اور قتل و غارت گری کے خلاف سڑکوں پراحتجاج درج کرسکیں۔تجزیہ کار اس بیان کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا آر ایس ایس ماب لنچنگ کے خلاف سخت قانون کی حمایت کریگا۔کیا ماب لنچنگ اور اسلاموفوبیا کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیگا۔ نہیں ہر گز نہیں تجزیہ کار بھاگوت کے اس بیان کو ہندو مسلم نظریہ سے بھی دیکھتے ہیں۔حالانکہ  آر اس ایس ایک ایسی تنظیم ہے جس نےمعاشرے کو پراگندہ اور برادر وطن کے دلوں میں مسلمانوں کے لئے نفرت  اور  اقلیت کے اندر خوف کا ماحول بنانے کی کوشش کی ہےآپ دیکھئے ایک ماب لنچنگ سے صرف ایک شخص کا قتل نہیں ہوتا ہے بلکہ پورے خاندان کا جنازہ نکل جاتا ہے جس سے نا صرف مظلوم خاندان کے افراد ذہنی انتشار کے شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ معاشی  تعلیمی اور سماجی اعتبار سے بھی پیچھے دھکیل دئیے جاتے ہیں ۔

آپ کو یاد ہوگا گزشتہ کچھ ہفتہ قبل ارریہ میں 27 سالہ اسماعیل کو چوری کے الزام میں مار دیاگیا۔ اس حادثہ کے کچھ ہی دنوں بعد تک معاملہ سرگرم رہا  لیکن کیا 27 سالہ اسماعیل کے معصوم بچوں کے بلکنے کی درد کو کوئ محسوس کرسکتا ہے؟ اس کی بیوی کے آنسوؤں کو کوئ پڑھ سکتا ہے؟ اس کے بوڑھے باپ کے بوجھ کوکوئ ہلکا کرسکتا ہے؟موہن بھاگوت نے ایک جملے میں اپنے الزامات کو دھل لیا اور تسلی کے اس رنگ برنگے جملے کا ہم نے استقبال کیا ۔ اگر وہ ماب لنچنگ کے خلاف ہیں تو پھر حکومت سے سخت لہجے میں قانون کی مانگ کریں ۔ اور مظلوم خاندان کے افراد کو ایک کروڑ کے ساتھ روزگار کی بات کریں ۔ تاکہ سماجی معاشی اور سیاسی انصاف مل سکے ۔ اور ملک میں امن و امان قائم رہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں