اہم خبریںفکر و نظر / مضامین و مقالات

مولانا محمد علی جوؔہر کی شخصیت تعلیمی و تحریکی تھی! ✍️محمد قاسم ٹانڈؔوی

مولانا محمد علی جوؔہر کی شخصیت تعلیمی و تحریکی تھی!

✍️محمد قاسم ٹانڈؔوی

وطن عزیز ہندوستان کی آزادی میں جن عظیم افراد نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور ملک کو آزادی دلانے کےلئے دوران جنگ جن عظیم شخصیات نے اپنے تن من دھن کی بازی لگائی تھی؛ ان میں سے ایک اہم اور نمایاں شخصیت مولانا محمد علی جوہؔر رامپوری کی ہے، جو آگے چل کر نہ صرف ملک کے ایک عظیم رہنما ثابت ہوئے بلکہ جنگ آزادی میں انہوں نے اپنا کردار ساز رول بھی نبھایا تھا۔ مولانا کا تخلص “جوہر” اور آبائی وطن “ریاست رامپور” تھا، جہاں مولانا نے 10/دسمبر1878ء کو آنکھیں کھولی تھیں۔ زمانۂ شیر خوارگی ہی میں والد صاحب (مولانا عبدالعلیؒ) کے سایہ عطوفت سے محروم ہو گئے تھے، جس کے بعد آپ کی تربیت اور پرورش کی مکمل دیکھ بھال آپ کی نیک طینت و فطرت والدہ ماجدہ “بی اماں” کے کاندھوں پر آگئی تھی۔ آپ کی والدہ ایک روشن خیال اور مذہبی امور کی پابند عورت تھیں، جنہوں نے اپنی اس ذمہ داری کو احسن طریقہ پر نبھایا، اس کا جیتا جاگتا ثبوت یہ ہے کہ مولانا نے جب اپنے احساس و شعور کی آنکھیں کھولی تو انہیں اپنے ارد گرد اسلامی تعلیمات، مذہبی امور سے گہرا ربط اور دینی مزاج کی حامل ماں کا آنچل و سایہ اور ایک بہترین شفیق و مربی کی حیثیت سے ماں کو پایا، جن کی تربیت و اخلاق کی بدولت آپ کا مزاج و ذہن بھی دینی تعلیم کی طرف متوجہ ہوا۔
آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم کے مراحل رامپور اور بریلی میں پورے کئے، مگر اعلی تعلیم کےلئے آپ نے علی گڑھ کا رخ کیا، جہاں آپ نے بی اے کے امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کی اور اسی اعلی و امتیازی کامیابی کی بنیاد پر آپ آلہ آباد یونیورسٹی میں اول پوزیشن لانے والے ہوئے۔ اس کے بعد آپ مزید اعلی تعلیم کے حصول کے واسطے آکسفورڈ یونیورسٹی بھی گئے، جہاں سے آپ نے آئی سی ایس کی تکمیل کی۔ اس کے بعد آپ اپنے وطن رامپور واپس ہوئے اور رامپور و بڑودہ میں ملازمت اختیار کی مگر جلد ہی ملازمت سے دل برداشتہ ہو کر ہندوستان کے تجارتی و ثقافتی مرکز شہر کلکتہ کا سفر کیا اور یہیں بود و باش اختیار کرنے کے بعد آپ نے یہیں سے انگریزی اخبار ‘کامریڈ’ جاری کیا۔ آپ کی ادارت میں جاری ہونے والے اس انگریزی اخبار نے ملک و بیرون ملک کچھ ہی عرصے میں دھوم اور ایک تہلکہ مچا کر رکھ دیا، کیوں کہ اخبار کا اداریہ بصیرت افروز، مضامین معنی خیز ،انقلابی دعوت و فکر سے لبریز مقالات اور دلچسپ و حیرت انگیز معلومات کی بنا پر یہ اخبار عام و خاص سبھی طبقوں میں ذوق و شوق سے پڑھا جانے لگا تھا۔
انگریزی زبان کے ساتھ ساتھ مولانا کو اردو زبان پر بھی مکمل عبور اور دسترس حاصل تھی، اسی وجہ سے مولانا نے اپنی ادارت میں ایک اردو اخبار روزنامہ ‘ہمدرد’ بھی جاری کیا تھا، جس کی کاپیاں اور اس وقت کے حساب سے لگائی جانے والی شہ سرخیاں آج بھی مولانا جوہؔر کی جرآت و بےباکی، اظہار خیال کی آزادی و بےخوفی اور وطن سے محبت کی عکاسی کی نہ صرف بھرپور مناظر پیش کرتی ہیں، بلکہ صحافت کے ان اصول و ضوابط پر بھی روشنی ڈالتی ہیں؛ جہاں سے ایک کامیاب صحافت کا آغاز و افتتاح ہوتا ہے۔
چونکہ مولانا کی جدوجہد اور رات و دن کی مشغولیت کا اصل مقصد ملک کی آزادی اور خود مختاری تھا، جہاں وہ ہر ہندوستانی کو آزاد فضا میں سانس لےکر جینا، اپنے کاروبار اور مشن کو ترتیب دینا اور قومی و مذہبی امور کی پابندی و ادائیگی کو ان کا آئینی و پیدائشی حق سمجھتے تھے، جس کےلئے مولانا ہمیشہ متحرک و سرگرم رہتے تھے، اور انگریزوں کے چنگل میں پھنسا یہ ملک کیسے آزاد ہو؟ اور کیسے یہاں کے عوام کو ان کے ظلم و استبداد سے چھٹکارا حاصل ہو؟ اسی کےلئے متفکر و مغموم رہتے، جس کےلئے اس وقت کے بڑے بڑے لیڈران اور قوم و ملت کی سربراہی و راہنمائی کرنے والوں کے ساتھ اہم اجلاس میں شریک ہوکر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرتے اور اپنے آہنی ارادوں سے مطلع فرماتے۔ چنانچہ1919/میں تحریک خلافت کی بنیاد آپ ہی نے رکھی، اور گاندھی جی کی جاری کردہ تحریک ترک موالات میں آپ شانہ بشانہ گاندھی جی کے ساتھ رہے، اور ایسی ہی تحریکوں کا حصہ بنے رہنے اور ان کے جرم و پاداش میں مولانا کی زندگی کا ایک بڑا حصہ قید و بند میں گزر بسر ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک عدم تعاون کے جرم و سزا میں کئی سال مولانا جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی رہے۔ اسی طرح مولانا محمد علی جوہرؔ کا سب سے عظیم و یاد گار شاہکار اور اہم کارنامہ “جامعہ ملیہ دہلی” کا کار تاسیس ہے، جو کہ صرف آپ ہی کی سربستہ کوششوں کا نتیجہ تھا۔ اور یہ ایسا شاہکار و بےمثال کارنامہ ہے، جس کے بارے میں مولانا عبدالماجد (دریابادیؒ) لکھتے ہیں کہ:
“محمد علی (جوہؔر) زندگی بھر کچھ نہ کرتے اور صرف جامعہ ہی کی بنیاد ڈال جاتے تو یہ ہی ایک کارنامہ سرمایہ عمل ہونے کےلئے کافی تھا”۔
دراصل مولانا دریابادیؒ کا ایسا کہنا اور لکھنا یہ ایک باریک نکتہ کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور وہ باریک نکتہ یہ ہے کہ مولانا جوہرؔ نے جامعہ ملیہ کے تعلیمی نظریہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ: ‘جامعہ کا پہلا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو حق دوست و خدا پرست مسلمان بنایا جائے اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ ان کو وطن دوست اور حریت پسند ہندوستانی بنایا جائے’۔
چونکہ مولانا فطری طور پر مذہبی ذہن اور تحریکی مزاج کے حامل تھے، اور مولانا یہی چاہتے تھے کہ ہندوستانی مسلمان خواہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے اور علاقے میں رہائش پذیر ہو، مگر اپنے مذہب کا سچا پیروکار اور وطن کا حقیقی سپاہی و خیرخواہ ہو اور وہ جہاں بھی رہے اپنی ان دونوں خصوصیات کا حامل و ممتاز بن کر رہے۔ خود مولانا جوؔہر آخر دم تک اپنے انہیں دونوں نظریات پر قائم و سرگرداں رہے، جس کےلئے آپ نے نومبر/1930ء میں گول میز کانفرنس میں شرکت کی غرض سے انگلستان کا سفر کیا اور اس کانفرنس میں آپ نے اپنے وطن عزیز ہندوستان سے بےانتہا عقیدت و محبت کا ثبوت دیتے ہوئے اس ملک کی آزادی اور خود مختاری کا مطالبہ کرتے ہوئے یوں خطاب کیا تھا کہ:
“اگر تم لوگ (انگریز) میرے ملک کو آزاد نہ کرو گے تو میں یہاں سے واپس نہیں جاؤں گا اور میری قبر بھی تم کو یہیں بنا کر دینا ہوگی”۔ چنانچہ ان تحریکوں سے مولانا کی دلی وابستگی ہونا اور دوسرے جامعہ ملیہ کے قیام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا؛ دراصل مولانا جوؔہر کے تئیں یہ بتانے کےلئے کافی ہیں کہ: مولانا کی شخصیت تعلیمی اور تحریکی تھی، اور ان کا یہ خواب تھا کہ ہر مسلمان بلکہ ہر ہندوستانی ان دونوں خصوصیات سے خود کو آراستہ پیراستہ کرے۔
اس کے کچھ عرصہ بعد (4/جنوری/1931ء کو) آپ نے لندن میں انتقال فرمایا۔ بغرض تدفین آپ کی نعش سرزمین انبیاء ‘بیت المقدس’ (فلسطین) لے جائی گئی، جہاں آپ کا روضہ و مقبرہ آج بھی مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔ (رحمۃاللہ علیہ رحمۃً واسعہ)
([email protected])

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button