مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کے امیر شریعت منتخب ہونے پر علماء نیپال نے پیش کیا مبارکبادی

نیپال۔ساتویں امیر شریعت مولانا سید ولی رحمانی کے راہی ملک عدم ہونے کے بعد سے ایک طویل مدت تک کے لیے” امیر شریعت” کا با وقار عہدہ خالی رہا۔جو گزشتہ روز اس باوقار عہدے کو مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کے ذریعے پر کیا گیا۔کرونا وائرس اور نامساعد حالات کی بنا امیر شریعت کے انتخاب میں اتنی تاخیر ہوئی ۔
مگر جب حالات بہتر ہوئے ،تو امارت شرعیہ کے ارباب اختیار نےامیر شریعت کے انتخاب کے لیے 9/اکتوبر کو “المعہد العالی” کے احاطے میں اجلاس کا ایک اہم فیصلہ لیا۔جو گزشتہ کل 9/اکتوبر بروز سنیچر نائب امیر شریعت مولانا شمشاد رحمانی کی صدارت میں بڑے ہی آب و تاب کے ساتھ ہوا۔


جس میں بہار،اڈیشہ اور جھارکھنڈ کے ارباب حل و عقد نے شرکت کی،اور پھر 347/ ووٹوں کے ذریعہ سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی وسرپرست جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر مولانا احمد ولی فیصل رحمانی امیر شریعت ثامن منتخب کئے گئے


اس موقع سے کبار علماء کی یہ کوشش رہی کہ اس انتخابی اجلاس میں آٹھویں امیر شریعت کا انتخاب ووٹنگ کے بجائے اتفاق رائے سے ہو؛مگر افسوس کہ ماحول ایسا بن گیا یا بنا دیاگیا تھا کہ ارباب حل و عقد نے اتفاق رائے کے بجائے ووٹنگ کے ذریعے” امیر شریعت” کے انتخاب کو پسند کیا اوران کی چاہت و ارمان کے مطابق امیر شریعت کا انتخاب ووٹنگ کے ذریعے ہی ہوا۔
واضح رہے کہ جب ووٹنگ کے ذریعہ امیر شریعت کے انتخاب کی بات آئی ،تو ہندوستان کی نابغہ روزگار شخصیت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنا نام واپس لے لیا،کیوں کہ مولانا نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اگر اتفاق رائے کے ذریعے مجھ ناچیز کو لوگ امیر شریعت منتخب کرتے ہیں،تو پھر میں اس ذمہ داری کو اکابر کی امانت سمجھ کر قبول کرلوں گا اور اسے بحسن خوبی انجام دینے کی کوشش کروں گا،اور اگر ووٹنگ کے ذریعہ انتخاب ہوا،تو پھر میں اس عہدے کو قبول نہیں کروں گا،اس لیے مولانا اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے اپنا نام واپس لے لیا۔


حقیقت تو یہ ہے کہ اگر امانت داری کے ساتھ بات کہی جائے ،تو میرے نزدیک اس عہدے کے لیے سب سے زیادہ مناسب شخصیت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ہی تھے؛کیوں پورے بہار،اڈیشہ اور جھارکھنڈ میں ان سے بڑا عالم اور شریعت کو کماحقہ سمجھنے والا کوئی شخص نہیں ہےاور شریعت کو زیادہ جاننے والا ہی امیر شریعت بننے کا حقدار ہوتاہے؛مگر ارباب حل و عقد نے جانب دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کو امارت شرعیہ کا امیر شریعت ثامن منتخب کیا۔


مگر اب جب ارباب حل و عقد کے ذریعے مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نئے امیرِ شریعت منتخب ہوگئے،تو اب ہم مسلمانوں پر یہ فریضہ عائد ہوتاہے،کہ ہم انہیں امیر شریعت تسلیم کریں ، ان کی حوصلہ افزائی فرمائیں اور ان کے لیے ممد و معاون ثابت ہوں۔
اس انتخاب پر ناچیز انوار الحق قاسمی امیر شریعت ثامن مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کو دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہے اور دعا کرتاہے کہ باری تعالیٰ اس نوجوان قیادت کو قبول فرمائے اور امارت شرعیہ کو رحمانی صاحب کے ذریعے بیش بہا ترقیات سے نوازے آمین۔


اس موقعہ سے نیپال کے دیگر علماء کرام نے بھی مثلا مفتی ظہور قاسمی، مولانامحمد نوشاد ندوی،مولانا عزیز الرحمان قاسمی،مولانا کبیر قاسمی،مولانا صابر باندوی،قاری ضمیر عرفانی نے مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کے نئے امیر شریعت منتخب ہونے پر مبارکباد پیش اور نیک خواہشات کا اظہار بھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں