اہم خبریں

ململ کا روداد سفر

محمدامام الدین ندوی
مدرسہ حفظ القرآن منجیا ویشالی

تنظیم ابنائے ندوہ دربھنگہ کمشنری بہار کے اجلاس میں بہ غرض شرکت ویشالی ضلع سے ایک قافلہ حضرت مولانا معین الرشید ندوی کی قیادت میں مورخہ ۲۸/جمادی الاول ۱۴۴۳ھ مطابق ۲/جنوری ۲۰۲۲ء فجر کی نماز بعد ململ مدھوبنی کے لئے روانہ ہوا۔قافلے میں مولانا نظام الدین ندوی،مولانا جنید ندوی قاسمی، مولانا قمرعالم ندوی، مولانا صدرعالم ندوی، اور راقم سطور شامل تھا۔بہ اتفاق رائے مولانا معین الرشید ندوی قافلہ کے امیر بنائے گئے۔بعدنماز فجر قافلہ روانہ ہوا۔دوران سفر مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیال ہوتے رہے۔مثبت و منفی آرا آتی رہیں۔گاڑی فراٹے بھرتی ہوئی اپنی منزل رواں دواں تھی۔راستے میں ایک جگہ چائے کے لئے گاڑی رکی۔سب نے چائے پی اور پھر گاڑی سوئے منزل چل دی۔
ہمارا قافلہ تقریبا دس بجے منزل مقصود پر جا پہونچا۔مدرسہ چشمۂ فیض ململ کے فعال ومتحرک مہتمم حضرت مولانا فاتح اقبال ندوی قاسمی ہم سب کے استقبال میں جامعہ فاطمہ زہرا کے وسیع احاطہ میں پہلے سے موجود تھے۔واضح رہے کہ بھائی فاتح اقبال ندوی ہمارے ہم درس بھی ہیں۔
قاری غزالی امام ندوی، اور مدرسہ کے دیگر اساتذہ وطلبہ آنے والے مہمانوں کے استقبال میں پیش پیش رہے۔
جلسہ گاہ،اور مہمانوں کے قیام گاہ کا شرف جامعہ فاطمہ زہرہ کو حاصل ہوا۔یہ لڑکیوں کا مدرسہ ہے ۔اس میں صرف بچیوں کے پڑھنے کا نظم ہے ۔رہائش گاہ دوسری جگہ ہے۔اس کی بنیاد قاضی مجاہدالاسلام نوراللہ مرقدہ کے ہاتھوں رکھی گئی تھی۔جامعہ میں نورانی قاعدہ سے لیکر بخاری شریف تک کی تعلیم ہوتی ہے۔اس کی بھی باگ ڈور مولانا فاتح اقبال ندوی کے ہاتھ میں ہے۔
یہ ادارہ بافیض ہے۔بچیاں اس سے مستفید ہورہی ہیں ۔جناب مولانا وصی قاسمی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے خون جگر سے اس کی آبیاری کی ہے۔ بہت ہی شاندار اور دیدہ زیب ہے۔پڑھنے پڑھانے کا اچھا نظم ہے۔
ہم لوگ گاڑی سے اترے اور سامنے ایک سمودائک بھون ہے اس میں لے جائے گئے۔وہاں مہمانوں کے ٹھہرنے کا نظم تھا۔اس میں پہلے سے ندوی احباب جمع تھے۔سبہوں سے سلام ،مصافحہ،ہوا۔اسی میں ایک اور کمرہ ہے جس میں تنظیم ابنائے ندوہ بہار کے کنوینر جناب مولانا طارق شفیق ندوی مدظلہ پہلے سے موجود تھے ۔ان سے بھی سلام،مصافحہ،ہوا ۔چند لمحوں میں ناشتہ کے لئے آواز دی گئی۔اور سب لوگ جامعہ فاطمہ زہرہ کے احاطہ میں داخل ہوئے۔ ٹیبل کرسی کا انتظام تھا۔جن کو جہاں جگہ ملی بیٹھ گئے۔صاف ستھرا دسترخوان اس پرسلیقہ سے پلیٹ سجی تھی۔بغل میں پانی سے بھرا گلاس تھا۔ناشتہ معقول تھا ۔گرماگرم کچوری ،اور عمدہ سبزی تھی،اس کے حسن کو قومی مٹھائی( جلیبی) دوبالا کرگئ۔ ناشتہ بہت شاندار،دمدار،ذائقہ دار،اور لذیذ تھا۔اس سے الفت و اپنائیت کی بو ٹپک رہی تھی۔ ایک عجیب کیفیت محسوس ہورہی تھی۔جلسہ شروع ہونے میں ابھی وقت باقی تھا اس لئے ناشتہ کے بعد ہم لوگوں نے مدرسہ چشمۂ فیض ململ کا رخ کیا ۔یہ مدرسہ محلہ کے قلب میں واقع ہے۔دار العلوم ندوۃ العلماء کی اہم شاخوں میں ایک ہے ۔درجہ حفظ ،اعدادیہ،عالیہ ثانیہ شریعہ،تک تعلیم ہوتی ہے۔اسے بھی مولانا وصی قاسمی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے معاونوں نے پروان چڑھایا ۔ یہ ادارہ بھی شاندار ہے۔اس کے مہتمم مولانا فاتح اقبال ندوی ہیں۔اساتذہ وطلبہ سے بات ہوئی ۔عربی اور اردو میں جداریہ پرچے آویزاں تھے ۔طبیعت بہت خوش ہوئی۔تھوڑی دیر بعد ہم جلسہ گاہ واپس آگئے۔
جلسہ کی کاروائی شروع ہوا چاہتی تھی۔اسٹیج پے چند کرسیاں سجی تھیں۔ڈاکٹر نورالسلام ندوی رونق اسٹیج ہوئے۔مائک سنبھالا۔اور مندوبین سے جلسہ گاہ میں آنے کی درخواست کی۔ان کی آواز پے لبیک کہتے ہوئے شرکاء پنڈال میں حاضر ہوئے ۔کرسیاں سلیقہ سے لگائی گئ تھیں۔لوگوں نے اپنی جگہ لینا مناسب سمجھا اور بیٹھ گئے۔چند مخصوص افراد اسٹیج والی کرسی پر جلوہ افروز ہوئے۔ جلسے کی صدارت جناب مولانا طارق شفیق ندوی نے کی۔نظامت کے فرائض بہ حسن و خوبی د/نورالسلام ندوی نے انجام دئے۔
جلسہ کا باضابطہ آغاز قاری غزالی امام ندوی استاد مدرسہ چشمۂ فیض ململ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔غزالی امام ندوی اچھے قاری ہیں۔مادر علمی مدرسہ عالیہ عرفانیہ لکھنؤ میں اپنے وقت کے ہونہار طالب علم رہے ۔قرآن شاندار پڑھتے تھے ۔نماز فجر میں ہم لوگوں کی تمنا ہوتی کہ امامت غزالی یا یوسف کشمیری کی ہو۔آج غزالی کی تلاوت نے ماضی کی یادوں کو دہرادیا۔ہم ۱۹۹۲ کی دنیا میں کھوگئے۔چونکہ ایک طویل مدت تک ہم ساتھ رہے ۔غزالی کی تلاوت اور ہوتی تو لطف آتا پر وقت کی تنگی دامن گیر تھی ۔تلاوت ختم ہوئی۔دل باغ باغ ہوگیا۔تلاوت کلام پاک کے بعد نعت خوانی نہیں ہوئی۔ہمارے بزرگوں کا طریقہ رہا ہے کہ تلاوت قرآن کے بعد منظوم شکل میں نبی کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف بیان کی جاتی رہی ہے۔پر یہاں ایسا نہیں ہوا ۔نعت کے چند اشعار پڑھے جاتے تو اچھا ہوتا۔ یہ ہمارے لئے باعث قلق بن گیا۔نعت خوانی کی بجائے ترانۂ ندوہ فاتح غازی اور زبیر کے ذریعہ پیش کیا گیا۔آواز اور انداز نہایت عمدہ ۔
ایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔ ترانۂ ندوہ نے دل ودماغ کو معطر کردیا۔
اس کے بعد مولانافاتح اقبال ندوی قاسمی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔خطبہ استقبالیہ بہت شاندار اور جامع تھا۔پڑھنے کا انداز بھی نرالا اور اچھوتا تھا۔ خطبہ میں مدرسہ،جامعہ،کی کارکردگی،تحریک ندوہ سے وابستگی، مہمانوں کا استقبال اچھے انداز میں پیش کیا گیا تھا۔اللہ تعالی ان دونوں چمن کو آباد و شاداب رکھے۔چشمۂ فیض،وجامعہ فاطمۃ الزھرا، اپنے چشمۂ حیواں سے نئی نسلوں میں دین و ایمان،ویقین،توکل،خشیت وللھیت،اسلامی تشخص، پیدا کرتا رہے۔اور سدا اسلامی،وایمانی،قلعہ بنا رہے۔
خطبۂ استقبالیہ پیش کرنے کے بعد سالانہ رپورٹ پیش کرنے کی دعوت مولانا نجیب الرحمن ندوی کو دی گئی۔مولانا نے سال گزشتہ کی رپورٹ اور آئندہ کے عزائم مکمل طور پر پیش کئے ۔تحریک ندوہ اور تنظیم ابنائے ندوہ میں انسجام،تحریک سے وابستگی ،اس کے مفید ومثبت نتائج، اور دیگر اہم امور کی جانب توجہ مبذول کرائی۔اس کے بعد فاتح غازی نے نرالے انداز،وسریلی آواز میں کلام اقبال پیش کیا اور لوگوں کے دل جیت لئے۔ڈ/نورالسلام ندوی تحریک ندوہ پر بار بار زور ڈالتے رہے۔
اب زندوں پر چادر پوشی کی باری آئی۔ہمارےدیارمیں مردے چادرپوشی عام ہے جو ایک مخصوص طبقہ کے یہاں رائج ہے۔چادر پوشی میں نے از راہ تفریح کہ دیاہے۔اصل شال پوشی تھی۔النور شوسل کیئر فاؤنڈیشن لکھنؤ کی جانب سے مولانا نجیب الرحمن ندوی ململی نے خواص کے لئے شال کا انتظام کیا تھا۔کچھ ہستیوں کو شال پوشی کرکے عزت افزائی کی گئی ۔مدرسہ چشمۂ فیض ململ کے اساتذہ کی بھی بہ ذریعہ شال عزت افزائی کی گئ ۔ہمارے قافلہ میں شامل ہمارے رفیق صدرعالم ندوی کو بھی صدرجلسہ نے شال دیا یہ کہتے ہوئے کہ ان کے منہ کو بند کرنے کے لئے انہیں شال دی جارہی ہے ۔یہ ان کا، محبت بھرا جملہ تھا۔ویسے سب جانتے ہیں کہ صدرعالم ندوی کب،کیا،بول دیں گے ان کو خود پتہ نہیں۔یہ صرف بولتے ہیں۔تمام شرکاء اجلاس کو عمدہ قسم کا فائل بھی دیاگیا۔
اس کے بعد تأثراتی بیان،اور تقریر وغیرہ کا دور چلا ۔مونااسعدندوی استاد مدرسہ چشمۂ فیض ململ نے مختصر مگر جامع تقریر کی جو معلومات افزا تھی ۔مولانا معین الرشید ندوی،اور کئ دوسرے شرکاء اجلاس نے لب کشائی کی (میں معذرت خواہ ہوں کہ ان کے نام یاد نہیں رہے ذہن سے نکل گئے)سبھوں نے قیمتی آرا پیش کئے۔اور کچھ کرنے کا حوصلہ دیا۔
اب ناظم جلسہ نے نہایت ادب واحترام سے ،صدر جلسہ جناب طارق شفیق ندوی کنوینر تنظیم ابنائے ندوہ بہار کو مدعو کیا۔واضح رہے کہ جناب مولانا طارق شفیق ندوی کو، جبرا تنظیم ابنائے ندوہ کا کنوینر، دوبارہ بہ اتفاق رائے، شرکاء جلسہ،نے منتخب کیا۔
مولانا طارق شفیق ندوی دل درد مند، فکرارجمند،کے حامل ہیں ۔مختلف امراض سے جھوجھنے کے باوجود ان کے پائے ثبات،میں ذرہ بھی لغزش نہیں۔ان کا حوصلہ جواں ہے۔وہ اولوالعزم ہیں۔خرد،وکلاں،تواناں،وناتواں،سب کو ساتھ لیکر چلنا ان کا خاص امتیاز ہے۔جدید،وقدیم،اہل تعلق سے یکساں ملتے ہیں ۔جہرے پر مسکراہٹ بہت جلد رقص کرتی ہے۔الق اخاک بوجہ تلیق ،کے مصداق ہیں۔ ملنے والا سمجھتا ہے کہ ہمارے پرانے شناساں ہیں۔بہت خلوص و محبت سے ملتے ہیں۔مادر علمی دار العلوم ندوۃ العلماء،اکابر ندوہ،تحریک ندوہ کے امین،خانوادہ علی کے فریفتہ،نظر آتے ہیں۔جامع گفتگو کے عادی ہیں ۔بات سلیقے سے کرتے ہیں ۔نہایت سنجیدہ ہیں۔ایران طوران کی نہیں پھینکتے ہیں۔ان کے تئیں یہ میرے ذاتی تأثرات ہیں۔
دوران طالب علمی ہم سب کے مشفق استاد حضرت مولانا شفیق الرحمن ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے دولت کدہ پر ان سے ایک دو ملاقات ہو چکی تھی ۔ادھر ان سے ہماری دوسری ملاقات تھی ۔
ناظم جلسہ کی دعوت پر صدرجلسہ نے مائک سنبھالا ۔بے اختیار آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔گھگھی بندھ گئ۔بڑی مشکل سے اپنے کو سنبھالتے ہوئے حمدوثنا،کےبعد چند قیمتی اشعار سے اپنی بات کا آغاز کیا۔موجودہ دور میں تحریک ندوہ کی ترویج و اشاعت، اس سے ملت کو مربوط کرنا کیوں ضروری ہے۔تحریک ندوہ ،ماضی وحال کی تناظر میں ملت کو کیا کچھ دے سکتی ہے۔امت کی شیرازہ بندی کیوں ضروری ہے؟ان امور پر صدر جلسہ نے تشفی بخش گفتگو کی۔
انہوں نے مزید کہاکہ تنظیم ابنائے ندوہ انہیں خطوط پر کاربند ہے جو اکابر نے طئے کئے ہیں۔اسی مشن کو عام کیا جارہا ہے۔اور ملک کے دیگر ریاستوں میں بھی اس طرح کی تنظیم کام کررہی ہے۔صدر جلسہ نے اور بہت سی قیمتی باتیں کیں۔قدیم و جدید ندوی فضلاء کو ان کی ذمہ داری یاد دلائی۔
صدر محترم کے آنکھوں سے چھلکنے والے آنسوؤں نے ہمیں اندر سے جھنجھو دیا۔ایک نیا حوصلہ وولولہ عطا کیا ۔اللہ تعالی اس آنسو کی لاج رکھے۔اسے ملت کے لئے مفید بنائے۔
خطبۂ صدارت کے بعد دعاء ہوئی ۔دعاءمختصر اور جامعہ تھی۔اس کے بعد ناظم جلسہ نے اعلان کیا کہ جو لوگ نماز ادا کرنا چائتے ہیں وہ پہلے نماز پڑھ لیں اوربعد میں کھانا کھالیں۔جو لوگ کھانا کھانا چاہتے ہیں پہلے کھانے سے فارغ ہوجائیں پھر نماز ادا کرلیں۔اسی کے ساتھ پہلی نششت کا اختتام ہوا۔
نماز باجماعت کی بڑی اہمیت ہے۔اس پر ثواب بھی زیادہ ہے ۔یہ بات سب پر عیاں ہے۔اس جلسہ میں بھی جماعت کا باضابطہ اہتمام کیا جاتا تو اچھا ہوتا ۔بعض حضرات نے انفرادی،وبعض احباب نے اجتماعی طور پر نماز اداکی۔حالانکہ نماز کے لئے کمروں میں انتظام تھا۔نماز باجماعت کا اہتمام ہونا چاہئے ۔اس سے زندگی میں اجتماعیت پیدا ہوتی ہے ۔اور دوسروں میں اچھا پیغام جاتا ہے۔
ہمارے مشفق دوست قاری غزالی امام ندوی نے پاس بلایا تو دیکھا کہ ڈاکٹر ابرار ندوی کھڑے ہیں۔
خوب رو،چہرہ پر تبسم،وہی سادگی،طویل عرصے کے بعد ملاقات ہوئی۔ہم چند احباب مدرسہ اصلاح المسلمین کریم گنج جھٹکی سیتامڑھی سے سال پنجم کے بعد ندوۃ العلماء گئے تھے۔یہ بھی ندوہ کی شاخ تھی۔ڈاکٹر مفتی نصراللہ ندوی استاد دار العلوم ندوۃ العلماء، مطیع الرحمن ندوی، نوشاد ندوی سمستی پور،ڈاکٹر ابرار ندوی، اور راقم اس بیچ میں شامل تھے ۔ابرار ندوی پیشے سے ڈاکٹر ہیں۔سیتا مڑھی میں اپنا مکان اور مطب ہے۔ایک عرصہ کے بعد ملاقات ہوئی۔نئی ،پرانی،گفتگو ہوئی۔بچھڑے احباب کے حال واحوال لئے گئے۔ڈاکٹر صاحب اپنے ساتھ چلنے کو کہا اور بہ ضد بھی ہوئے پر معذرت کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ساتھ میں کھانا کھایا.کھانے میں تنوری روٹی،مادرکفار،اور پلاؤ،میٹھائ تھی۔کھانے کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔میزبان نے میزبانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ایک اجتماعی تصویر بھی لی گئی جس میں فاتح اقبال ندوی، امام غزالی ندوی، ڈاکٹر ابرار ندوی، اور راقم سطور شامل تھا جسے فاتح نے فارغین ندوہ ۱۹۹۸ء گروپ پر بھیج دیا۔تھوڑی دیر بعد دوسری نششت کے لئے اعلان کیا گیا۔لوگوں سے جلسہ گاہ میں آنے کی درخواست کی گئی۔
دوسری نششت کی صدارت مولانا کفیل الدین ندوی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مفتی آصف انظار ندوی نے انجام دئے۔پہلی نششت میں کچھ آپسی خفگی کی بنا پر مفتی آصف انظار ندوی بغل میں فائل دبائے اسٹیج سے اتر گئے۔ڈاکٹر نورالسلام ندوی نے بہت آواز دی پر یہ مثل صدا بہ صحرا ثابت ہوئی۔مفتی صاحب نہیں مانے۔صدرجلسہ نے بار بار منایا پھر بھی نہیں مانے۔مولانا کفیل الدین ندوی نے بھی بلایا پر اڑیل گھوڑے کی طرح بہ ضد رہے۔دوبارہ اسٹیج پر آئے ہی نہیں۔خیر دوسری نششت میں نظامت انہوں نے ہی کی۔تلاوت مولانا نذرالاسلام ندوی نے کی۔اور سورہ حشر سے آخری رکوع کی تلاوت کی۔طبیعت خوش ہوگئ۔تلاوت قرآن مجید کے بعد دربھنگہ کمشنری کے ذمےداروں کا انتخاب عمل میں آیا۔دہلی چیپٹر کی بھی بات ہوئی اور اسے منظوری ملی۔اس کے بھی ذمےداروں کا انتخاب ہوا۔مفتی آصف انظار ندوی نے تعلیم کے مختلف گوشے پر روشنی ڈالی۔نصاب تعلیم پر بھی بحث کی۔اور دیگر امور پر تبادلۂ خیال ہوا۔صدر جلسہ نے مختصر صدارتی خطبہ دیا اور ان کی دعاء پر جلسہ کا اختتام ہوا۔
جلسہ گاہ سے تھوڑے فاصلے پر جناب نجم الہدی ثانی نے صاحب نے ایک اسکول کھولنے کا ارادہ کیا ہے۔اسکول اعلی معیار کا ہوگا۔تحریک ندوہ کا امین بھی ہوگا۔خالص اسلامی تہذیب و ثقافت کا گہوارہ،دینی وعصری علوم کا سنگم طلبہ،باد مخالف، سے پنجہ آزمائی کے مکمل اہل ہوں گے۔
نجم الہدی ثانی صاحب افکار ندوہ،و تحریک ندوہ،سچے علمبردار نظر آئے۔نئی نسلوں کے دین وایمان کی بقاء، اسلامی تشخص، کے تحفظ کے سلسلہ میں کافی متفکر،وبیدار نظر آئے۔اللہ تعالی ان کے اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرے۔استقامت عطا فرمائے، خزانۂ غیب سے ان کی نصرت و حفاظت فرمائے۔
پتہ چلا کہ ان کی تعلیم ندوہ میں ہوئی پر کسی عذر کی بنا پر عالمیت نہیں ہو سکی۔
دوسری نششت کے بعد ان کی دعوت پر تنظیم ابنائے ندوہ بہار کا قافلہ، گریٹ انڈیا اکیڈمی،کے پاس پہونچا۔ابھی بنیاد کی کھودائی کا کام جاری ہے۔زمین کو ہموار ومسطح کیا جاچکا ہے نیچے اینٹ بچھ چکی ہے۔اسی میں کرسیاں سجی تھیں۔بیچ میں ٹیبل کا انتظام تھا ۔لوگ جمع تھے۔
نجم الہدی ثانی صاحب نے اکیڈمی کے اغراض ومقاصد،پر روشنی ڈالی۔مہمانوں کا استقبال کیا۔مقامی دو بزرگوں نے بھی اپنے خیالات کااظہار کیا۔پھر طارق شفیق ندوی نے اس مشن کی پذیرائی کی۔مفتی آصف انظار نے بھی اس موقعہ سے لب کشائی کی۔غالبا کفیل الدین ندوی صاحب کی دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا۔
نجم الہدی ثانی صاحب نے ناشتے کا انتظام ڈبے میں کیا تھا۔سب کے ہاتھوں میں ڈبے تھمائے گئے۔کھانے والوں نے کھایا لےجانے والے بہ طور زاد راہ اپنے ساتھ لے گئے۔اصل میں ناشتے کے ڈبے کی بڑی اہمیت نہیں ،اصل اس جذبے کی قدر و قیمت تھی جو جناب نجم الہدی ثانی صاحب نے ،اور اہا لیان ململ نے پیش کئے۔ہم سب ان کے شکر گزار ہیں۔
اب شام نے شامیانہ تابنا شروع کردیا۔ہوا کی خنکی بڑھ چکی تھی۔ہم گاڑی میں سوار ہوئے ۔قاری عبدالباسط نعمانی ندوی سابق استاد مدرسہ اسلامیہ اماموری پاتے پور ویشالی نے الوداعیہ ملاقات کی اور اپنے دولت کدہ چلنے پر مصر ہوئے ۔ان سے بھی معذرت ظاہر کی ۔اللہ تعالی انہیں سلامت رکھے ۔
گاڑی اپنے وطن کے لئے روانہ ہوئی ۔بھائی تمنے نے اچھی ڈرائیوری کی۔دربنھگہ زیرو مائل کی جامع مسجد میں تاخیر سے عصر کی نماز ادا کی گئی،چند منٹ بعد مغرب کی نماز باجماعت پڑھی گئی۔پھر سب لوگ بولیرو،میں سوار ہوئے مولانا شاہد ندوی واپسی میں ساتھ ہو لئے،انہیں سمستی پور اترنا تھا۔انہیں سمستی پور اتارا گیا۔مولانا محمدنظام الدین ندوی تاجپور اتر گئے۔ان کی بائک تاجپور میں تھی۔مولانامحمدنظام الدین ندوی ضلع سمستی پور سے تعلق رکھتے ہیں ۔نہایت نیک صفت،منکسرالمزاج،متواضع،خلیق،اپنےآپ میں ایک انجمن ہیں۔الہدی اسلامی مکتب چک پہاڑ سمستی پور کے ڈائیرکٹر ہیں ۔نئی نسلوں میں دینی بیداری پیدا کرنے کے لئے جگہ جگہ بچوں کو تیار کرکے اسلامی معلومات پر سوالات مرتب کرتے ہیں۔پھر مقامی ائمہ کی مدد سے پروگرام کرواتے ہیں۔اس سے نئی نسلوں میں نیا جذبہ،نیا امنگ پیدا ہوتا ہے۔پھر تمام مساہمین کی ہمت افزائی کے لئے بہ حیثیت استطاعت انعام دیتے ہیں۔اللہ تعالی اسے قائم ودائم رکھے۔انہوں نے الھدی اردو لائبریری کے نام سے ایک لائبریری بھی قائم کی ہے جس میں تقریباً پانچ الماریوں سے زیادہ کتابیں موجود ہیں اور لائبریری کی جانب سے تعمیر افکار کے نام سے ایک سہ ماہی رسالہ بھی PDFکی شکل میں نکالتے ہیں ۔رسالہ نئے قلم کاروں کو جلا بخشنے کے لئے اہم تریاق ہے۔رسالہ اہل علم دوستوں میں کافی مقبول ہے۔اللہ تعالی داخلی ،اور خارجی،رکاوٹ دور فرماۓ آمین۔
مولانا نظام الدین ندوی تاجپور میں اتر گئے۔مولانا محمد جنید ندوی قاسمی، اور راقم اماموری میں فروکش ہوئے۔
مولانا جنید عالم ندوی، قاسمی،جید عالم ہیں ۔جامعہ سید احمد شہید کٹولی ملیح آباد لکھنؤ سے ندوہ آئے اور عالمیت کی ۔اس کے بعد دار العلوم دیوبند گئے اور دورہ حدیث کی تکمیل کی،فارغ ہونے کےبعد مدرسہ اسلامیہ اماموری میں بہ حیثیت استاد بحال ہوئے۔اس کے بعد سرکاری ملازمت ملی۔فی الحال ابابکر پور کواہی این،پی،ایس،اردو،۔میں خدمت انجام دے رہے ہیں۔علاقے کے لوگ ان سے مستفید ہورہے ہیں۔علاقے کے لئے نعمت غیر مترقبہ ہیں۔پورا علاقہ ان سے جڑاہے۔
۔مولاناقمرعالم ندوی، صدر عالم ندوی،کو مہوا،اترناتھا،اور قافلہ کے امیر مولانا معین الرشید ندوی کو مظفر پور ۔یہ لوگ اپنی منزل کے لئے آگے بڑھتے گئے۔
مولاناقمر عالم ندوی ،مدرسہ احمدیہ ابابکر پور میں سرکاری ملازم ہیں۔مدرسہ حسینیہ چھپرہ کے ذمہ داروں میں ہیں۔بڑے جفاکش ہیں۔ان کے یہاں سستی نام کی چیز نہیں ہے۔ضیاء ولی کے مرتب ہیں۔
مولانا صدر عالم ندوی اسماعیل پور ،گرول،میں اسکول میں سرکاری ملازم ہیں۔کئی کتاب کے مرتب ہیں۔صف اول میں رہنے کے خواہاں اور عادی ہے۔
مولانا معین الرشید ندوی،فعال ومتحرک ہیں بڑے مدرسہ کے ذمہ دار ہیں۔سادہ دل ہیں ۔مولیانہ داؤ پیچ نہیں جانتے ہیں۔اللہ تمام رفقاء کے مساعی جمیلہ کو قبول کرے۔جو جہاں اور جس لائن سے دینی خدمات انجام دے رہے ہیں اللہ اس میں استقامت فرمائے۔
تنظیم ابنائے ندوہ بہار کے اس اجلاس میں حضرت مولانا بلال عبدالحی حسنی ندوی کو شریک ہونا تھا،پر طبیعت کی ناسازی کی بنا پروہ آنہ سکے ۔ان کاایک جامع پیغام بہ ذریعہ موبائل ان کی آواز میں سنایا گیا۔نیز ابنائے ندوہ بہار کے دستور العمل کا رسم اجرا بھی ہوا ۔اس کی قیمت صرف بیس روپے رکھی گئی اور سب شرکاء اجلاس کو دی گئی۔
تنظیم ابنائے ندوہ بہار کے اس اجلاس میں دربھنگہ کمشنری کے عہدے داروں کا انتخاب عمل میں آیا جس کی تفصیل درج ذیل ہے
سرپرست۔مولانا معین احمد ندوی
صدر۔مولانا فاتح اقبال ندوی
نائب صدر۔امتیازاحمدندوی
مولاناافضل امام فاروقی
جنرل سکریٹری۔رحمت اللہ عارفی ندوی۔
سکریٹری۔مولانا محمدنظام الدین ندوی
مولانا نیر اقبال ندوی
خازن۔ارشددلکش ندوی
ممبران
مولانا صفت اللہ عارفی ندوی
مولانا مبشرعبداللہ ندوی
مولانا اخلاق الرحمان ندوی
مولانا شاہد ندوی سمستی پوری
ایڈوکیٹ مولانا مرتضی ندوی
اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ اس تنظیم کو آباد رکھے۔ملک و ملت کے لئے نفع بخش بنائے۔اس تنظیم کے تمام شرکاء،بالخصوص کنوینر،ودیگر ذمےدار،واراکین،کو اخلاص،وللھیت کی دولت سے مالامال فرمایے۔اس کی آڑ میں کسی کا استحصال نہ ہو اس سے بھی محفوظ رکھے۔آمین۔
(نوٹ) یہ ہمارے ذاتی تأثرات ہیں۔لکھنے میں املا کی غلطی ہوسکتی ہے۔کسی نام میں لفظ مولانا چھوٹ گیا ہوتو معذرت ہے۔لفظ ندوی اس کمی کو دور کردے گا۔ترتیب میں بھی اوپر نیچے ہوگیا ہے ۔ان سب کے لئے راقم معذرت خواہ ہے۔
رابطہ۔ 9801805853

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button