اتر پردیشاہم خبریںبین ریاستی خبریں

مسلم نوجوان کے جئے شری رام کا نعرہ لگانے پر بڑھ گیا تنازع، دیوبند نے جتایا اعتراض، نوجوانوں نے کہا- ہم شری رام کی اولاد ہیں

دیوبند : دیوبند کے مولانا مفتی اسد قاسمی نے اس پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اس غلطی پر اللہ سے معافی مانگنے کا مشورہ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنے دنیاوی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے ایسے نعرے نہ لگائیں کیونکہ ایسے نعرے لگانے سے انسان اسلام سے دور ہو جاتا ہے۔ساتھ ہی احسان راؤ کا کہنا ہے کہ مجھے علمائے کرام کے کچھ بھی کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بھگوان رام ہمارے اجداد ہیں اور ہم سب شری رام کی اولاد ہیں۔

سہارنپور میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے جلسہ عام میں ایک مسلم نوجوان کی طرف سے جئے شری رام کا نعرہ لگانے کے بعد تنازعہ بڑھ گیا ہے۔ دراصل 2 دسمبر کو ہونے والی اس ریلی میں احسان راؤ نامی ایک مسلم شخص نے جئے شری رام اور بھارت ماتا کی جئے کے نعرے لگائے تھے۔ ان کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت تیزی سے وائرل ہوئی۔

ایسے میں دیوبند کے مولانا مفتی اسد قاسمی نے اس پر سخت اعتراض ظاہر کیا اور اس غلطی پر اللہ سے معافی مانگنے کا مشورہ دیا۔ علمائے کرام مفتی اسد قاسمی نے کہا کہ اسلام میں ایسے نعرے لگانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ شخص مولانا سے ہاتھ ملا کر اللہ سے توبہ کرے۔

اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ اپنے دنیاوی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے ایسے نعرے نہ لگائیں کیونکہ ایسے نعرے لگانے سے انسان اسلام سے نکل جاتا ہے۔

نوجوان نے خود کو رام کی اولاد بتایا جبکہ جئے شری رام کا نعرہ لگانے والے احسان راؤ نے بھی آگے آکر میڈیا کے سامنے اپنا موقف پیش کیا۔ راؤ نے کہا، ‘دیکھو! بھگوان رام ہمارے اجداد ہیں اور ہم سب شری رام کی اولاد ہیں۔ مجھے جئے شری رام کہنے یا بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جس ملک میں ہم رہ رہے ہیں اس کی جئے جئے کار کرنی چاہئے۔

ساتھ ہی دیوبند کے علماء قاسمی کے بیان کے سوال پر راؤ نے کہا مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ علمائے کرام کیا کہتے ہیں۔رام ہمارے اجداد ہیں اس میں کوئی شک نہیں۔ میں راجپوت ہوں، میں چوہان ہوں، اس میں کوئی اعتراض نہیں، رام کروڑوں لوگوں کی عقیدہ ہے اور جئے شری رام محبت کا نعرہ ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button