اہم خبریںپٹنہحاجی پور، ویشالیسمستی پورفکر و نظر / مضامین و مقالاتمظفر پور

محکمہ اردو ڈاٸریکٹوریٹ کی جانب سےمنعقد ویشالی میں اردوپروگرام کاجاٸزہ✍️محمد صدرعالم ندوی

محکمہ اردو ڈاٸریکٹوریٹ کی جانب سےمنعقد ویشالی میں اردوپروگرام کاجاٸزہ_
✍️محمد صدرعالم ندوی
محکمہ اردوڈاٸریکٹوریٹ کی جانب سےہرسال پورے بہارکے ضلع کواٹرمیں اردوسیل کی جانب سےسرکاری پروگرام کا انعقاد کیا جاتا ہے اس سال بھی ٢٢نومبر ٢٠٢١ ء بروز بدھ کو کلکٹریٹ کانفرنس ہال حاجی پور میں مفتی محمد ثنا۶ الہدی قاسمی ، صدر کاروان ادب حاجی پور کی صدارت اور کامران غنی صبا ، اسسٹنٹ پروفیسر نتیشور کالج مظفرپور کی نظامت میں پروگرام منعقد ہوا ۔ مقالہ خواں کی حیثیت سے ڈاکٹر اے ایم اظہارالحق ،ڈاکٹر عارف حسن وسطوی اور راقم الحروف محمد صدر عالم ندوی نے شرکت کی ۔ مندوبین کی حیثیت سے قمر اعظم صدیقی ، ڈاکٹر شبانہ پروین اور شاہنواز عطا شریک تھے ۔ ان لوگوں کےعلاوہ مہمان خصوصی میں حامد علی خاں، بہار یونیورسٹی مظفرپور اور مہمان اعزازی کی حیثیت سے ریٹائرڈ جج عبدالرحیم انصاری اور پروفیسر واعظ الحق موجود تھے ان کےعلاوہ پانچ بچے طلبہ و طالبات نے اس پروگرام میں حصہ لیا۔پروگرام دو نشستوں پر مشتمل تھا ۔ پہلی نشست میں اظہار خیال اور مقالہ پڑھا گیا جبکہ دوسری نشست میں مشاعرہ کی محفل سجائی گئی ، جس میں دس شعراۓ کرام نے حصہ لیا ۔ پروگرام اپنے وقت مقررہ سے ڈیڑھ گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا کیوں کہ افتتاح ڈی ایم ادیتا سنگھ کو کرنا تھا جنہیں آنے میں تاخیر ہوئ ۔ اس پروگرام میں شرکت کے لیے محکمہ تعلیم کی جانب سے لیٹر جاری تھا جس میں اردو اساتذہ کی شرکت کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔ یعنی اساتذہ اسکول نہیں جاکر کے اس پروگرام میں شریک ہونگے اس کامطلب یہ ہے کہ وہ آن ڈیوٹی رہیں گے گیارہ بجےتک اکثر کرسیاں خالی تھیں ڈی ای او ویشالی کی جانب سے بھی کرسیاں خالی رہنےکی بات کہی گئیں اس سلسلہ میں ڈاکٹر ذاکر حسین بی آر پی بھگوان پور سے بھی ڈی ای او نے بات کی ذاکرحسین صاحب نے یقین دلایاکہ اساتذہ آرہے ہیں ۔ ڈی ایم ویشالی محترمہ ادیتا سنگھ نے قندیل جلا کراس پروگرام کا افتتاح کیا اوراردو کو شیریں زبان سے مخطاب کیا ۔ اردو سیل کی انچارج اور ڈپٹی کلکٹر محترمہ کہکشاں نے بھی اردو زبان کو گنگاجمنی تہذیب کی علامت بتایا ،محترمہ کہکشاں شروع سےاخیر تک اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں پیش پیش رہیں ۔تاخیر سے اساتذہ کی ایک بڑی تعداد آگئ جس سے موجود کرسیاں کم پر گئیں ۔ جس وجہ کر اساتذہ اپنے اعلی اخلاق کا ثبوت دیتے ہوۓ فرش پر ہی بیٹھ گۓ .چند استاد قبل سے طے شدہ منصوبے کے تحت تاخیر سے پہنچے اور محکمہ کی جانب سے کرسی کے لیے ہنگامہ آرائی کرنے لگے ۔ جبکہ انکے احتجاج اور قبل سے کھڑے لوگوں سے قبل ہی صدر جلسہ نے محکمہ کو کرسی اور پانی کی جانب توجہ مبذول کرائی تھی ۔ محکمہ کے لوگ بھی بلکہ خود ڈپٹی کلکٹر محترمہ کہکشاں بھی کرسی کے بندوبست کے لیے اٹھ کر گٸیں تھیں اور باقی اسٹاف بھی کرسیوں کے لیے پریشان تھے، تبھی ان سب کے بیچ کرسی آگئ اور اساتذہ بیٹھ گۓ ۔ پروگرام چلتارہا کچھ اساتذہ کی جانب سےاس پروگرام پرانگلی اٹھاٸ گٸ اور یہ الزام یہ لگایا گیا کہ مقالہ خواں حضرات اور مندوبین نے موضوع سے ہٹ کر بات کیا ۔ اردو کا جنازہ اردو والے ضمیر فروش لوگ نکالتے رہے ۔ ان کا یہ بھی الزام تھا کہ باہری لوگوں کوپروگرام میں پوچھا گیا ۔ جہاں تک مقالہ خواں حضرات کی بات ہےتو ان کےمقالہ کو منگوا کر دیکھ لیاجاۓ صحیح ہے یانہیں یاجن لوگوں کومدعو کیا گیا ہے ان کےاندر کیا کمی ہےتاکہ آٸندہ وہ اصلاح کرلیں۔ ان کے لفافہ پربھی تنقیدکی گٸ ہے آخر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی نے پروگرام کے لیے محنت کیا اوران کو محنتانہ ملا تو پریشانی کی کون سی بات ہے ۔ ظاہر ہے بےچینی و پریشانی انہیں کو ہوئ جو اس کے اہل نہیں تھے لیکن ان کی نگاہ لفافے پر تھی اور ان کی رات کی نیندیں غائب تھی چونکہ حرفت پسند لوگوں کو حلال رقم زیب نہیں دیتی ہے اس لیے انہیں حلال رقم بھی حرام دکھ رہی تھی ۔ جہاں تک پروگرام میں باہری لوگوں کی شرکت کاسوال ہے تو اس پروگرام میں دولوگ دوسرے ضلع کےتھے لیکن ان کی کرم بھومی ویشالی ہی رہی ہے ایک کامران غنی صبا جوبرسوں تک پاتےپور بلاک میں استاد رہے ہیں اب مظفرپور کے نتیشور کالج میں پروفیسرہیں دوسرے حامد علی خاں یہ بھی آر این کالج حاجی پورمیں اردو کے پروفیسر رہے ہیں اوربہت سارےبچوں کو تیار کیاہے ابھی بہار یونیورسٹی مظفرپور میں شعبہ اردو میں ہیں اگر ان دونوں حضرات کو پوچھ ہی لیاگیا تو کوٸ جرم نہیں ہےکہ پروگرام کےخلاف ہنگامہ کیاجاۓ ۔اگر اس پروگرام میں کوٸ کمی بیشی تھی تو اردو سیل کی انچارج محترمہ کہکشاں سے وفد بناکر ملنا چاہیے جیسا کہ ذاکر صاحب نے وفد بناکر کے ملاقات کی اورکمی کی طرف اشارہ بھی کیا یہ اصلاح کا ایک اچھا طریقہ ہے اردو اساتذہ اردوکے ساتھ کیا کرتے ہیں یہ کسی سےپوشیدہ نہیں ہے ، دوسروں کو ضمیر فروش لکھنے سے قبل ایک بار اپنے گریبان میں ضرور جھانکنا چاہیے تھا کہ سرکاری ملازم ہونے کے باوجود وہ اپنی ڈیوٹی پر زیادہ دھیان دے رہے ہیں یا دوسرے ذرائع سے مال حرام حاصل کرنے کے جستجو میں مشغول رہتے ہیں ۔( مال حرام لفظ کا استعمال اس لیے کیا گیا ہے کہ ڈیوٹی کے وقت حاضری بھی بن جائے اور اسکول میں موجود بھی نہ ہوں تو وہ مال حرام ہی ہے )
اردو والوں کے خلاف تحریریں لکھ کر واٹس ایپ، فیسبک یونیورسٹی میں سستی شہرت تو حاصل کی جا سکتی ہے لیکن تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان ان لوگوں کی ایمیج خراب ہی ہوئ ہے۔ بہر حال سرکاری محکمہ میں شامل لوگوں کو بھی ضمیر فروش ، اور دیگر نازیبا الفاظ سے نواز کر قلمکار نے اپنی بات پکی روشنائی میں ہمیشہ کے لیے قلم بند کر دیا ہے ، ظاہر ہے اردو سیل کے پروگرام میں شریک سرکاری محکمہ سے جڑے اسٹاف نے بھی وہ مضمون پڑھیں ہی ہوگی اس لیے میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ وقت رہتے تحریری شکل میں لکھے گۓ مضمون کے تعلق سے معزرت چاہی جاۓ تو بہتر ہوگا ۔ کیوں کہ پانی میں رہ کر مگر مچھ سے بیر تو نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اخیر میں محبان اردو سے درخواست کرونگا کہ بچوں کا سرکاری پروگرام آنے والے سال میں ہونے والا ہے۔ امید ہے کہ جنوری یا فروری میں ہوگا ابھی سےمشورہ دیں تاکہ کوٸ بدنظمی نہ ہو محکمہ آپ کا شکرگذار ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button