اہم خبریں، تازہ سرخیاںتازہ ترینمضامین و مقالات

لڑکیوں کے لئے اپنے گاؤں اور اپنے حدود میں تعلیم کا انتظام ھماری پہلی ترجیح ھو✍️ ڈاکٹر مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی

لڑکیوں کے لئے اپنے گاؤں اور اپنے حدود میں تعلیم کا انتظام ھماری پہلی ترجیح ھو

✍️ ڈاکٹر مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
اللہ کا شکر ھے کہ مسلم سماج میں پہلے کے مقابلہ موجودہ وقت میں تعلیم کا رجحان بڑھا ھے ، لڑکیاں اور لڑکے دونوں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رھے ہیں ،تعلیم بنیادی ضروری ھے ،اس میں بڑھ کر حصہ لینا وقت کی ضرورت ھے ، اعلی تعلیم کے لئے دور دور تک اسکول اور کالج جانے کا رجحان بھی بڑھا ھے ، یہ تو مجبوری ھے ،اس لئے کہ اسکول اور کالج اپنے گاؤں میں نہیں ھوتا ھے ،بلکہ گاؤں سے دور ھوتا ھے ،لیکن موجودہ وقت میں کوچنگ کا بھی رواج بہت زیادہ ھوگیا ھے ، کوچنگ کے لئے بھی لڑکیاں اور لڑکے دور دور تک جاتے ہیں ،لڑکے کے لئے کوئی بات نہیں ،لیکن لڑکیوں کے لئے غور و فکر کی بات ھے ،کوچنگ ایسی ضرورت ھے کہ اپنی لڑکیوں کے لئے گاؤں میں انتظام کر سکتے ہیں ، آج تقریبا ہر گاوں میں مکتب / مدرسہ موجود ہے ،مدرسہ یا مکتب کے ذمہ داروں سے بات کرکے اس میں کوچنگ سنٹر قائم کیا جا سکتا ھے ،اگر سہولت ھو تو باضابطہ کسی جگہ کوچنگ سنٹر قائم کیا جا سکتا ھے ،تاکہ گاؤں کی بچیوں کے لئے خاص طور پر کوچنگ کا انتظام کیا جائے ، آج شاید ھی کوئی گاؤں ایسا ھو ، جس میں بی اے ،ایم اے ،یا ریٹائرڈ ٹیچر نہ ھوں ،ایسے حضرات سے مدد لے لڑکیوں کے لئے گاؤں میں کوچنگ کا انتظام کیا جائے ،تو بہت اچھا ھوگا ،البتہ اس کا اھتمام ضرور ھو کہ اچھے ٹیچر رکھے جائیں ،فیس مناسب ھو ،کوچنگ کا ماحول اچھا ھو ، یہ کوشش موجودہ وقت میں نہایت اہم ھے ،ہر گاؤں میں اس کی ضرورت ھے ،اور ہر گارجین کی ضرورت ھے ، اور یہ وقت کا بھی تقاضہ ھے،
اللہ کا فضل ھے کہ گاؤں کا ماحول آج بھی اچھا ھے ،اور اس میں مخلص افراد بھی دستیاب ہیں ،اس کے لئے کام کرنے کی ضرورت ھے ،اللہ تعالی صحیح فکر عطا فرمائے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button