لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی / شبانہ فردوس


حاجی پور ( شرافت خان) بہار اردو یونیورسٹی مظفر پور کی طالبہ و چالیس روزہ مفت دینی منظم کلاس کی فعال متحرک ٹیچر مقام شاہ پور خرد بلاک چہرہ کلاں ویشالی نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے حالیہ پنچایتی انتخاب کے تعلق سے ملت اسلامیہ سے درد مندانہ انداز میں کہا کہ جس قوم کے مقدر میں اللہ نے سرخروئی ، سربلندی اور سرداری کو مقدم قرار دیا گیا تھا آج وہ قوم کرسی کے بجائے زمیں بوس ہوگئ اور ہم خواب غفلت میں سوۓ ہوے ہیں جبکہ ہم سب کا ماضی گواہ ہے کہ ہم وہ قوم ہیں جو قلت میں بھی اکثریت پر حکومت کرتے تھے ، ہم وہ قوم ہیں جو آپسی اتحاد کا مثال رکھتے تھے ، ہم وہ قوم ہیں جو عدالت عظمیٰ میں میری گواہی سچی اور پکی مانی جاتی تھی ، ہم وہ قوم ہیں جو دشت و صحرا سے ہوتے ہوئے دریا میں بھی گھوڑے کو دوڑا دیتے تھے ، ہم وہ قوم ہیں جو سرداری اور سربلندی قدم چومتی تھی ، ہم وہ قوم ہیں جو ہواؤں کے رخ کو مور کر اپنے حق میں کرلیا کرتے تھے ،ہم وہ قوم ہیں جو قیصرو قصرا کے تخت کو ہلا دیتے تھے ، ہم وہ قوم ہیں جس سے پوچھ کر کسی کو سرداری دی جاتی تھی ، ہم وہ قوم ہیں جو ایوان باطل کے قلعے میں زلزلہ پیدا کردئیے تھے ہم وہ قوم ہیں جس کا اللہ ،قرآن ، نبی ، قبلہ ، کعبہ ، دین ، ایمان ، کلمہ ، نماز ، روزہ ، حج، زکوٰۃ ، امام یہ سب ایک ہونے کے باوجود افسوس صد افسوس کہ ہم نہ شرعی طور پر ایک ہیں نہ سماجی طور پر ایک ہیں نہ سیاسی طور پر ایک ہیں جس کا بہت بڑا نقصان اس قوم کے افراد کو سہنا پڑ رہا ہے اور ہم سب لا فکری لا شعوری کے دریا میں غوطہ زن ہیں ۔

مظہر وسطوی کے شعری مجموعہ “پئے تفہیم” کی رسم اجراء

میں پوچھتی ہوں کہ اس قوم کی سربلندی اور سرخروئی کے لئے کون سوچے گا یا یونہی ٹکڑے ٹکڑے میں بٹتے ہی رہیں گے


رگو میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دل وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز ، روزہ ، حج و زکوٰۃ
یہ سب باقی ہے تو باقی نہیں ہے


ہم ملت اسلامیہ کے مرد و خواتین حضرات سے گزارش کرتی ہوں کہ ملت کے پاسباں بنکر ملت اسلامیہ کے کھوئی ہوئی سربلندی اور سرداری کو دلانے میں اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کریں تاکہ پھر سے ہمارا قوم سربلند ہو جائے نہیں تو


بچو گے نہ تم نہ ساتھی تمہارے
اگر ناؤ ڈوبی تو ڈوبو گے سارے


ہم حالیہ پنچایتی انتخاب کے تین مرحلے کا رزلٹ کو دیکھ لیں تو ملت اسلامیہ کے امیدوار صفر کے برابر ہے ضلع پریشد ، مکھیا اور سمیتی تو دور کی بات ہم وارڈ میں بھی ہار جاتے ہیں اس کی مجموعی وجہ صرف ذاتی دشمنی کی بنیاد ہے جو کبھی ختم نہیں ہونے والی ہے اور اس چھوٹی سی غلطی میں قوم کی سربلندی کا شیرازہ بکھڑ جاتاہے اور پھر رسوائی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا اسلیئے وقت آگیا ہے متحد ہوجائیں اور نظام گلشن کو بدلنے کی صلاحیت پیدا کریں ملی اور قومی جزبہ جگائیں اور اس پنچایتی انتخاب میں ملت کے جیت نے والے امیدوار کو ہرجگہ جیت دلائیں نہیں تو


لمحوں نے خطا کی تھی
صد یوں نے سزا پائی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں