لاک ڈاؤن کی عید اور مولوی

اللہ پاک کا شکر و احسان ہے کہ آج کئی سال بعد گاؤں کی عیدگاہ میں نماز عید ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی؛ حالانکہ مذہبی عبادت گاہوں پر لاک ڈاؤن کی پابندیاں برقرار ہیں؛ لیکن حالات پہلے جیسے مشکل نہیں رہے، تاہم بڑے شہروں میں ابھی بھی محتاط رہ کر ہی عید منانی پڑ رہی ہے۔

آج عیدگاہ میں چند مولویوں کے چہروں پر نظر پڑی، سوشل میڈیا پر مولویوں کی سرگرمیوں کو دیکھا، مبارکبادیوں کے پیغامات نظر سے گزرے، واللہ! کیا چمکتے ہوئے چہرے ہیں، کیا مسکراہٹیں ہیں، وہی پہلے جیسی شان و شوکت، وہی تزک و احتشام، وہی کر و فر، وہی طمطراق، وہی دھوم دھام۔ بظاہر ان چمکتے ہوئے چہروں کو دیکھ کر کون کہے گا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو دو سال سے بے روزگار بیٹھے ہیں، کسے معلوم کہ ان میں سے کتنے ہی چہروں کی مسکراہٹوں کے پیچھے غم کا سمندر پنہاں ہے، آخر کیا وجہ ہے کہ فکر معاش، غم روزگار، قرض کے بوجھ اور اپنوں کے طعنوں کے باوجود ان چمکتی ہوئی پیشانیوں پر بل نظر نہیں آتے؛ جی ہاں! اس لیے کہ انہیں مدرسوں میں صبر و قناعت کی تعلیم دی گئی، تقدیر پر ایمان کا مطلب سمجھایا گیا، شکر و احسان کا درس دیا گیا، اللہ کی نعمتوں کی تفصیل بتائی گئی، ان مولویوں کو مدرسوں میں پڑھ کر دنیا کی حقیقت سے آگاہی ملی، زندگی کا مقصد معلوم ہوا، قدرت کے نظام کا علم ہوا، فطرت کے تقاضوں کی کیفیت سمجھ میں آئی، دنیا کے نظاروں کی حیثیت سامنے آئی۔ لہذا اسی مدرسے کی تعلیم کا نتیجہ ہے کہ دو سال سے مدارس کا نظام بند ہونے کے باوجود مولویوں کے چہروں پر تمتماہٹ عیاں ہے۔

ان مولیوں نے اس قحط کے عرصے میں جس خود داری، قناعت، صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا وہ ان ہی کا خاصہ ہے، رشک تو ان پر آتا ہے جنہوں نے اپنے محلوں کے غریبوں کے لیے تنظیموں، اداروں اور اپنے متعلقین سے راشن کا انتظام کرواکر دیا اور خود کی فاقہ کشی پر لب نہیں کھولے۔ خدائے رزاق نے ان مولیوں کے لبوں پر کبھی شکوہ نہیں آنے دیا، اس رب ذوالجلال نے انہیں بے روزگاری کے عالم میں بھی کھلایا، ان کے لیے کتنوں کو ذریعہ بنایا، کتنوں کی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے فارغین مدارس کے تعاون کے لیے بھی ہاتھ بڑھایا، بے شمار علماء، حفاظ اور فارغین مدارس کے لیے غیبی مدد آئی۔ اللہ تعالیٰ ان سبھی اہل خیر حضرات کو ان کی نیتوں سے بڑھ کر ثواب عطا فرمائے۔

قادر مطلق نے اس لاک ڈاؤن کے عرصے میں بے شمار مولویوں کو احساس کمتری سے نکال کر خود کفیل بنادیا، کتنے ہی علماء نے خالی وقت کو غنیمت جان کر تجارت شروع کی اور بہترین تاجر ثابت ہوئے، حقیقت یہ ہے کہ ایک فارغ التحصیل مولوی دل و دماغ کے اعتبار سے اس دنیا کا سب سے مضبوط انسان ہوا کرتا ہے جو ہر موقع کی مناسبت سے خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اگر یہ مولوی چاہے تو تجارت و صنعت کے پیشے کو اختیار کرکے مال و متاع میں دنیاداروں سے آگے بڑھ سکتا ہے، اگر یہ چاہے تو سیاست کے میدان میں اتر کر سلطنتوں کا مالک بن سکتا ہے؛ لیکن یہ مولوی کے علمی شغف، دینی حمیت اور شان مزاج کی بات ہے کہ مدرسوں کی چاردیواریوں میں فرش پر بیٹھ کر، روکھی سوکھی کھاکر کر چوبیس گھنٹے اسلامی تعلیمات کی اشاعت و حفاظت کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ اللہ پاک ان کے چہروں پر شادمانی قائم رکھے۔ آمین!

از: آفتاب اظہر صدیقی
21 / جولائی 2021 ء بروز بدھ (عید الاضحٰی)


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں