اتر پردیشاہم خبریںسمستی پورسہ ماہی تعمیر افکار سمستی پور

قوت فکر وعمل پہلے فنا ہوتی ہے

ڈاکٹر مفتی محمد نصر الله ندوی
حجاب کے مسئلہ پر غیر ضروری بیانات کا ردعمل آنا شروع ہو گیا ہے،کرناٹک میں راہ چلتے حجاب اتروایا جارہا ہے،بچیوں اور استانیوں کے ساتھ بد سلوکی کی جارہی ہے،یہ منظر بہت تکلیف دہ ہے،اور ہماری بے کسی اور لاچارگی کی منھ بولتی تصویر بھی،لیکن سوال یہ ہے کہ،اس کا ذمہ دار کون ہے؟ہمارے لیڈر چند ووٹوں کیلئے انجام کی پرواہ کئے بغیر،جو چاہتے ہیں،بیان داغ دیتے ہیں،یہ طرز عمل حکمت ومصلحت کے خلاف ہے،اور ہمارے سیاسی شعور پر سوالیہ نشان بھی،ایک لیڈر نے جب حجاب پر بیان دیا،تو ان کے چاہنے والے،حسب معمول اچھل پڑے،گویا انہوں نے خلافت راشدہ کی طرح ڈال دی،ان کو ایسا محسوس ہوا کہ وہ دن دور نہیں،جب مسلمانوں کی اپنی حکومت قائم ہوجائے گی،

اسی طرح ایک قائد نے پانچ لاکھ کا اعلان کرکے راتوں رات ہیرو بننے کی کوشش کی، ظاہر ہے یہ بچکانہ سوچ ہے،اور اس کا انجام مذہبی منافرت میں اضافہ کے سوا کچھ نہیں ہے،اس کا واضح ثبوت کرناٹک کی وہ تصویر ہے،جہاں سرراہ ہماری عزت بے حجاب ہو رہی ہے،اور خواتین کا دو پٹہ اتارا جارہا ہے۔۔

ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ،ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں،اور بہت سے نام نہاد اسلامی ملکوں سے بہتر ہیں،جمہوری ملک میں رہنے کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں،ہر قدم پھونک کر رکھنا ہوتا ہے،ہماری معمولی لغزش بھی،بڑی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے،ہمیں بولنے سے پہلے سوبار سوچنا چاہئے،کچھ بولنے سے پہلے،کیا نہیں بولنا ہے،یہ سوچنا چاہئے،بسا اوقات انجانے میں ہم وہ بول دیتے ہیں،جو بی جے پی ہم سے کہلوانا چاہتی ہے، خاص کر ان لیڈران کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے،جن کی ہر بات پر آگ لگانے والی میڈیا کی نظر ہوتی ہے،ہمارے نبی نے زبان پر کنٹرول رکھنے کی سخت ہدایت دی ہے،اس لئے کہ زبان کی معمولی بے احتیاطی،بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔۔

دوسری بات یہ کہ،ہمیں جذبات کی رو میں نہیں بہنا چاہئے،زمینی حقیقت کو اچھی طرح سمجھنا چاہئے،ہم جس ملک میں رہ رہے ہیں،اس میں حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ،اہون البلیتین یعنی دو آزمائشوں میں سے،نسبة کم تر آزمائش کو اختیار کریں،رسول کی سیرت سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے،آپ کے حالات سے معلوم ہوتا ہے،جب بھی آپ کو دو چیزوں کا اختیار دیا گیا،تو آپ نے آسان ترین امر کا انتخاب کیا،ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں یہ فارمولہ غنیمت لگتا ہے،خاص طور سے ایسے وقت میں جب ہمارا ملک نازک ترین دور سے گزررہا ہے،ہر طبقہ پریشان ہے،اور بربادی کے کگار پر پہونچ گیا ہے،پورے ملک میں ایک بے چینی کی کیفیت ہے،برادران وطن کا ایک بڑا طبقہ انصاف کی آواز بلند کر رہا ہے،اور ملک کو بی جے پی سے نجات دلانے کیلئے کوشاں ہے،ایسے نازک حالات میں حجابی وزیر اعظم کا شوشہ چھوڑنا،نہایت غیر دانشمندانہ اور قابل مذمت عمل ہے ، اس طرح کےبیان سے وہ غیر مسلم بھی ناراض ہیں،جو انصاف کیلئے لڑرہے ہیں۔۔
جہاں تک مسلم سیاسی جماعت کا سوال ہے،تو یہ خیال اس علاقہ کیلئے تو مناسب ہو سکتا ہے،جہاں مسلم آبادی مرتکز ہو اوراکثریت میں ہو،لیکن جہاں مسلمان بیس فیصد یا پندرہ فیصد یا اس سے بھی کم ہیں،وہاں یہ فارمولہ کارگر نہیں ہو سکتا،بلکہ اس کا الٹا رد عمل ہو سکتا ہے،اور بیس فیصدی بنام اسی فیصدی کا معاملہ بن سکتا ہے،اور کچھ پانے کے شوق میں،جو حاصل ہے،اس سے بھی محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔۔۔

اس ملک میں مسلمان صدیوں سے آباد ہیں،اور آج اکثر صوبوں میں جمہوری حقوق کے ساتھ ایک معاہدہ کے تحت زندگی گزار رہے ہیں،بہت سی جگہوں پر ان کو مکمل آزادی حاصل ہے،لیکن کچھ مسلمانوں کو یہ ورغلا دیا گیا کہ،آپ سیکولر پارٹیوں کے غلام ہیں،(حالانکہ جمہوری ملک میں معاہدہ کےساتھ رہنا،غلامی نہیں) آپ کی اپنی پارٹی ہونی چاہئے،تبھی آپ کو مکمل حقوق مل سکتے ہیں وغیرہ،یہ بات کچھ جذباتی نوجوانوں کو فورا سمجھ میں آگئی،گویا پوری دنیا کے مسلمان خلافت راشدہ میں زندگی گزار رہے ہوں اور ہندوستان کے مسلمان اپنی سیاسی پارٹی نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں،ظاہر ہے یہ سوچ کم علمی،کوتاہ نظری اور بے شعوری کی دلیل ہے،لیکن یہ بات کچھ لوگوں کو سمجھ میں نہیں آسکتی،جو امیر المؤمنین کے ہر بیان کو حرف آخر سمجھتے ہیں۔۔

ہندوستانی مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ آپس میں منظم اور متحد نہ ہونا نیز متفقہ اور مضبوط قیادت کا فقدان ہے،اس کی سب بڑی مثال سکھ ہیں،جن کی کوئی اپنی سیاسی پارٹی نہیں ہے،لیکن کسی سیاسی پارٹی کی مجال نہیں کہ،ان کو نظر انداز کردے،اس لئے کہ انہوں نے اپنی ایک تہذیبی ،مذہبی اور سماجی شناخت قائم کی ہے،ان کے اندر اتحاد واتفاق ہے،اور ایثار وقربانی کا بے مثال جذبہ ہے،لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ، ہم بھائی بہنوں کا حصہ ہضم کر جاتے ہیں،شادی میں جہیز کے نام پر اپنے ہی بھائیوں کا خون چوستے ہیں،معاملات میں فراڈ کرتے ہیں،حلال وحرام کی پرواہ نہیں کرتے، اپنےماتحتوں کے ساتھ ظلم ونا انصافی کرتے ہیں لیکن پوری ملت کو انصاف اور حق دلانے کی باتیں کرتے ہیں،یقینا یہ کھلا ہوا تضاد ہے،آپ مسلمانوں کو سیاسی حقوق دلانے کی بات کریں،بہت اچھی بات ہے،لیکن اپنے معاملات کو بھی درست کریں،زبان وقلم شائستگی پیدا کریں،آنکھیں کھول کر دنیا کے حالات کا جائزہ لیں،دماغ کا صحیح استعمال کریں،آنکھیں بند کر کے کسی کے پیچھے نہ بھاگیں،عقل الله کی بہت بڑی نعمت ہے،اس کا استعمال کریں،غور وفکر کرنے کی عادت ڈالیں،پڑھنے لکھنے کا شوق پیدا کریں،جو قوم ان اوصاف سے خالی ہوتی ہے،زوال وادبار اس کا مقدر بن جاتا ہے۔۔
قوت فکر وعمل پہلے فنا ہوتی ہے
تب کسی قوم کی شوکت پر زوال آتا ہے
فقط۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button