قربانی ہر صاحب نصاب پر فرض ہے اس میں کوتاہی نہ کریں محمد ابوالمحاسن



سوپول (پریس ریلیز(عیدالاضحیٰ ایک انتہائی بامقصد اور یادگار دِن ہے، اس دِن کی دُعائوں کی قبولیت کا عندیہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیا گیا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ روزِ عید ہم سب مل کر توبہ استغفار کریں۔ زبانی نہیں، عملی توبہ ۔پروردگار کے حضور گڑگڑا گڑگڑا کر دُعا کریں، اپنی کوتاہیوں، گناہوں کی معافی طلب کریں اور اپنے رب کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ یہ باتیں فلاح ملت ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے سکریٹری محمد ابوالمحاسن استاذ جامعہ اسلامیہ سراج العلوم ڈپرکھا نے کہیں انہوں نے کہاکہ دُنیا کی ابتدا ہی سے ’’قربانی‘‘ تمام مذاہب کا ایک لازمی حصّہ رہی ہے۔ یہ اللہ کے حضور جان کی نذر ہے، جو کسی جانور کو قائم مقام ٹھہرا کر پیش کی جاتی ہے،حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس واقعے کے بعدقربانی کو ایک خاص اہمیت اور ہمہ گیری یوں حاصل ہوئی کہ حضور ِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنّت کا درجہ دے دیا۔قرآنِ پاک اور دیگر سابقہ صحائف میں بھی یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑنے جب اللہ کے حضور گڑگڑا کر دُعا کی تو اللہ نےانہیں تقریباً90برس کی عُمر میں حضرت اسمعیلؑ کی صُورت ایک بیٹا عطا کیا،جس کی انہوں نےبہت لاڈ و پیار سے پرورش کی، یہاں تک کہ حضرت اسمعیلؑ اپنے والد حضرت ابراہیم ؑ کا ہاتھ بٹانےکے قابل ہوگئے۔ پیرانہ سالی میں پہلے فرزند کی پیدائش سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ بیٹا کتنا عزیز اور پیارا ہوگا، مگر حقیقی مسلمان تو وہی ہے، جسے اللہ کی رضا اور خوش نودی سے بڑھ کر دُنیا کی کوئی چیز عزیز نہ ہو۔حتیٰ کہ وہ جان تک کی بھی پروا نہ کرتاہو۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، خواب میں اشارہ پاتے ہی اپنے اکلوتے اور پیارے فرزند کو خود اپنے ہی ہاتھوں قربان کرنے کے لیے تیار ہو گئے ۔بیٹے کاحوصلہ پرکھنے کے لیےجب انہوں نے اپنا خواب سُنایا،تو حضرت اسمٰعیل ؑ نے اسےخواب نہیں، بلکہ پروردگار کا حکم سمجھا اور کہا،کہ آپ اللہ کے اس حکم کی تعمیل کریں،آپ مجھے ثابت قدم پائیں گے، ان شاءاللہ۔‘‘ اس جواب سے مطمئن ہو کر سیّدنا ابراہیم علیہ السلام بیٹے کوحرم کے قریب ہی مروہ پہاڑی کے پاس لے گئے اور قربانی کے لیے ماتھے کے بل زمین پر لٹادیا۔ تکمیلِ احکامِ خداوندی میں قریب تھا کہ ان کے ہاتھ سے چُھری چل جاتی، اللہ کی طرف سے ندا آئی،’’اےابراہیمؑ ! تم نے خواب سچ کر دکھایا۔‘‘بیٹے کی قربانی فی الواقع بہت بڑی آزمائش تھی، جس پرحضرت ابراہیم ؑ پورے اُترے، انہیں انسانوں کا امام و پیشوا بنایا گیا۔پھر اس واقعے کی یادگار کے طور ہر سال، اسی دِن اس قربانی کی سنّت ہمیشہ کے لیے قائم کر دی گئی۔ یہی قربانی ہے، جس کا اہتمام ہم حج اور عید الاضحی کے مواقع پر کرتے ہیں۔قربانی کی اس یاد کو منانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ مسلمانوں کے اندر قربانی کی وہی حقیقی روح، ایمان کی کیفیت اور اپنے مالک کے ساتھ محبّت و وفا داری کا جذبہ پیدا ہو، جس کا عملی مظاہرہ حضرت ابراہیمؑ کی پوری زندگی میں دیکھنے میں آتا ہے۔ اگر کوئی مسلمان اس شعور کے بغیرجانورقربان کرتا ہے، تو وہ اس جانور کا ناحق خون بہاتا ہے، جس کی اللہ کو کوئی ضرورت نہیں کہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے، ’’اللہ کو تمہارے جانوروں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ عیدالاضحیٰ کے دن اللہ کے نزدیک سب سے محبوب اور پسندیدہ عمل جانوروں کا خون بہاناہے اور استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے پر سخت وعید آئی ہے اس لیے جو شخص صاحب استطاعت ہیں قربانی ضرور کریں انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ وقت میں قربانی کے جانوروں کی قیمت نہ ہونے کی وجہ سے دینی اداروں کو کافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے اس لئے اداروں کو مظبوط کرنے کیلئے ضروری ہے کہ چرم قربانی کے ساتھ مالی معاونت بھی کی جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں