اہم خبریںبین ریاستی خبریںفکر و نظر / مضامین و مقالات

قربانی کی تاریخ اور اس کی روح اور حقیقت

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

…………………………….

قربانی خدائے وحدہ لا شریک کی بارگاہ میں تقرب حاصل کرنے اور اس کے حضور جان و مال کا نذرانہ پیش کرنے کا نام اور اس کا بہترین ذریعہ ہے ۔
اس کی تاریخ بہت ہی قدیم ہے ۔ قربانی کی ابتداء اور آغاز اور نذرانہ کا رواج حضرت آدم علیہ السلام کے زمین پر اترنے کے وقت ہی سے ہو چلا تھا ،ان کے دونوں بیٹوں ہابیل اور قابیل کی قربانی اور نذرانے کا ذکر تو تورات و انجیل کے علاوہ خود قرآن مجید میں سورہ مائدہ میں بھی ہے ۔ قربانی کا وجود کسی نہ کسی شکل اور صورت میں ہر نبی اور رسول کے زمانہ میں ملتا ہے ،گو کیفیت اور طریقہ الگ الگ رہا ہو ۔ اور آج بھی شاید ہی کوئی قوم اور کوئی ملک ہو جہاں اس کا رواج کسی نہ کسی شکل میں نہ ہو ۔
زمانہ قدیم میں قربانی کی شکلیں کچھ اس طرح رہی ہیں ۔
*جانور کو ذبح کرنے کے بجائے کسی اونچی جگہ یا پہاڑی پر رکھ دینا ۔ (پھر آسمانی آگ آتی اور جس کی قربانی درست ہوتی اس کو خاکستر کر دیتی یہ دلیل اور اشارہ ہوتا کہ بارگاہ ایزدی میں اس کی قربانی قبول ہوگئ ۔ ہابیل اور قابیل نے اسی شکل میں قربانی پیش کی تھی اللہ تعالی نے ہابیل کی قربانی قبول کرلی اور قابیل کی قربانی کو قبول نہیں کیا) قربانی کی یہ شکل و صورت حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے میں رہی ،اس زمانے میں ان کے بیٹے اسی طرح کی قربانی پیش کرتے تھے* ۔
*جانور کو اپنے معبود کے نام پر چھوڑ دینا جیسا کہ ہندوستان میں رواج رہا ہے ۔ اس رسم کا سراغ ہمیں حضرت صالح علیہ السلام کے دور میں حضرت آدم علیہ السلام کے دنیا میں آنے کے ڈھائی ہزار سال بعد ملتا ہے ۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر اس طرح ہے ۔فقال لھم رسول اللہ ناقة اللہ و سقیاھا فکذبوہ فعقروھا ۔عرب میں بھی اس کی مختلف شکلیں رائج تھیں وہ لوگ قربانی کا گوشت بیت اللہ کے سامنے لا کر رکھتے اور اس کا خون بیت اللہ کی دیواروں پر لٹھیڑتے تھے قرآن کریم نے بتایا کہ ۔ خدا کو تمہارے اس گوشت اور خون کی ضرورت نہیں، اس کے یہاں تو قربانی کے وہ جذبات پہنچتے ہیں جو ذبح کرتے وقت تمہارے دلوں میں موجزن ہوتے ہیں یا ہونے چاہیئں ۔ قران مجید نے اہل عرب کی قربانی کے اس جاہلانہ رسم کی تردید کرتے ہوئے اللہ پر افترا اور بے عقلی کا کام قرار دیا : ما جعل اللہ من بحیرة ولا سائبة ولا وصیلة ولا ھام ولکن الدین کفروا یفترون علی اللہ الکذب و اکثرھم لا یعلقون۔


جانور کو ذبح کرکے اس کا خون اور گوشت چڑھانے کا رواج بھی بودھ ،جین اور کنفیوشس دھرموں کے علاوہ تمام بت پرست قوموں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ اپنے اپنے روایتی طریقوں کے مطابق مختلف جانوروں کو کاٹ کر اس کا خون چڑھاتے ہیں، اور ایک عجیب بات یہ ہے کہ بعض ملکوں جیسے جنوبی امریکہ کے ملک برازیل کی وحشی قوموں میں مانو بلی ( انسانی قربانی) بھی پایا جاتا ہے ۔ ہندوستان مین یگیہ کی تقریب میں پشو بلی یعنی جانوروں کی قربانی کا رواج رہا ہے ۔ دین ابراہیمی میں اس کی پہلی نشانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وہ خواب کرتا ہے جس میں انہوں نے اپنے بیٹے کو ذبح کرتے ہوئے دیکھا : قال یا بنیی انی اری فی المنام انی اذبحک ۔۔۔۔۔۔۔ من الصابرین*۔
*قربانی دینے کا ایک رسم یہ بھی رہا ہے کہ منت پوری ہونے پر اپنی اولاد لڑکا ہو یا لڑکی (زیادہ ترلڑکا) عبادت گاہ کی خدمت کے لئے وقف کر دی جاتی تھی ۔حضرت مریم علیھا السلام کی والدہ کی نذر کا ذکر قرآن مجید میں ہے : و اذ قالت امرأة عمران رب انی نذرت لک مافی بطنی محفرا فتقبل منی ۔۔۔۔۔۔الخ)آل عمران ۴۵/ ۳۶)* (مستفاد از پیش لفظ کتاب قربانی و عقیقہ کے شرعی احکام ، مولانا رحمت اللہ ندوی/ مولفہ راقم الحروف)
غالبا انہیں مذکورہ بالا صورتوں اور شکلوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن مجید میں اللہ تعالی نے فرمایا و لکل امة جعلنا منسکا لیذکروا اسم اللہ علی ما رزقھم من بھیمة الانعام۔ ( حج ۳۴)
جب اسلام کی آمد ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منصب رسالت و نبوت ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی لغو ، بے بنیاد اور رسوم و رواج کو کالعدم کردیا جبکہ کچھ امور کو چند ضروری اصلاحات و ترمیمات کے بعد برقرار بھی رکھا ۔ ان میں سے ایک قربانی کا عمل بھی ہے ،جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی اصلاحات کیں اور اس سے جاہلانہ اور خلاف شرع عمل کو ختم کیا ۔۔۔
اسلام نے اپنے ماننے والوں کو یہ بتایا کہ قربانی صرف گوشت اور خون کا نام نہیں ہے بلکہ اس حقیقت کا نام ہے کہ ہمارا سب کچھ خدا کے لئے ہے اور اسی راہ میں قربان ہونے کے لئے ہے ۔
قربانی کرنے والا صرف جانور کے گلے پر ہی چھری نہیں پھیرتا بلکہ وہ ساری ناپسندیدہ خواہشات اور رسم و رواج کے گلے پر بھی چھری پھیر کر ان کو ذبح کر ڈالتا ہے ۔ اس شعور کے بغیر جو بھی قربانی کی جاتی ہے ۔ جانور ذبح کیا جاتا ہے وہ ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی سنت نہیں بلکہ ایک قومی رسم اور سماجی رواج و طریقہ ہے جس میں گوشت و پوست کی کثرت و فراوانی ہوتی ہے لیکن وہ تقوی ناپید ہوتا جو قربانی کی روح ہے ۔ اور وہ اسپرٹ نہیں ہوتی جو قربانی کی جان ہے ۔
ارشاد خداوندی ہے کہ اللہ تعالی کو جانوروں کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا بلکہ اس کو تمہاری جانب سے تمہارا تقوی پہنچتا ہے ۔
خدا کی نظر میں اس قربانی کی کوئی وقعت و اہمیت نہیں جس کے پیچھے تقوی کے جذبات نہ ہوں ۔ خدا کے دربار میں وہی عمل مقبول ہے جس کا محرک خدا کا تقوی یعنی خوف و لحاظ ہو ۔ فرمان الہی ہے ۔ انما یتقبل اللہ من المتقین ۔ اللہ تعالٰی صرف متقیوں کا عمل ہی قبول کرتا ہے ۔
قربانی اسلام کی دیگر اہم عبادات کی طرح ایک مہتم بالشان عبادت ہے ، جو دراصل حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی یاد گار اور ملت اسلامیہ کا اہم شعار ہے ۔ قربانی کا اجر و ثواب بے حد و حساب ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ : قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئ چیز اللہ تعالی کو پسند نہیں، ان دنوں میں یہ نیک کام سب نیکیوں سے بڑھ کر ہے ،اور قربانی کرتے وقت خون کا جو قطرہ زمین پر گرتا ہے تو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی اللہ کے پاس مقبول ہو جاتا ہے تو خوب خوشی اور دل کھول کر قربانی کیا کرو ۔ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ قربانی کے جانور کے بدن پر جتنے بال ہوتے ہیں ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی لکھی جاتی ہے ۔ قربانی کے جانور کے سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اگر چہ اس حدیث کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن صعیف حدیث کو فضائل کے باب میں بیان کرنے کی گنجائش ہے) *ثمنوا ضحایاکم فانھا مطایاکم یوم الصراط* قربانی کے جانور کو قیمتی اور فربہ رکھو کہ یہ پل صراط کے دن تمہاری سواری کے کام آئیں گے ۔
جس طرح قربانی کا اجر وثواب بہت زیادہ ہے اسی طرح اس سنت براہیمی اور شعار خلیلی کے چھوڑنے پر وعید بھی بہت سخت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : *من لہ سعة ولم یضح فلا یقربن مصلانا* جو شخص وسعت کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہرگز ہرگز میرے مصلی اور عید گاہ کے قریب نہ پھٹکے ۔
سوال یہ ہے کہ اللہ تعالی کو یہ عبادت اس قدر کیوں پسند ہے ؟ اور وسعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرنے والے کے لئے اس قدر سخت وعید زبان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیوں ہے ؟
واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کو اپنے بندے کی جانب سے قربانی بہت پسند ہے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو اس قربانی کے ذریعہ اپنی بندگی کی طرف متوجہ ہونے اور خدائے واحد کے علاوہ دنیا کے تمام مصنوعی معبودوں سے منہ موڑنے کا پیغام دینا چاہتا ہے ۔ قرآن مجید نے اس جانب یوں اشارہ کیا ہے اور اس عقدہ کو اس طرح حل کیا ہے ۔ لن ینال اللہ لحومھا ولا دماءھا و لکن یناله التقوی منكم ( حج ۳۷)
اللہ تعالی کو نہیں پہنچتا ان کا گوشت اور نہ ان کا لہو لہکن اس کو پہنچتا ہے تمہارے دل کا ادب ۔
اس آیت کریمہ کی تشریح میں علماء نے لکھا کہ ۔
*قربانی* کا اصل مقصود اللہ تعالی کا خوف و خشیت دل میں جاگزیں ہونا اور ہر معاملہ میں شریعت اسلامی اور دین حنیف کا تابع فرمان بن جانا ہے ۔ یہ قربانی ہمیں اسی جانب متوجہ کرتی ہے کہ جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے آقا کے حکم پر لاڈلے لخت جگر اور پیارے نور نظر کو قربان کرنے کا تہیہ کرکے واقعی اپنی بندگی اور خلوص وللہیت کا ثبوت دیا ۔ اسی طرح ہر انسان کو اپنی ۰۰ انا۰۰ (میں اور میں کی رٹ) ارشاد الہی اور احکام ربانی کے سامنے فنا کر دینی چاہیے ۔ بلا شبہ یہ عمل اور انسان کی یہ ادا انسانیت کی معراج ہے اور عبدیت کا سب سے زبردست مظہر اور دلیل ہے ۔ ۔ شعار براہیمی اور سنت خلیلی کی ادائیگی کا یہ دن یعنی قربانی کا دن ہر سال ہمیں چیخ چیخ کر متنبہ کرتا ہے کہ انسان اس وقت تک قربت خداوندی اور تقرب الہی حاصل نہیں کرسکتا ،جب تک کہ وہ زندگی کے ہر ہر لمحہ میں قربانی دینے والا نہ بن جائے ۔ ایثار و قربانی اور ترجیح کا جذبہ اس کے سینہ میں موجزن نہ ہو جائے ۔ ذاتی مفادات کو ملی مفادات کے لئے قربان کر دینے کی عادت اور طبعیت نہ بن جائے ۔ قربانی صرف جانوروں کو ذبح کرکے خون بہا دینے کا نام نہیں ہے( یہ سال کے بارہ مہینہ بھی ہم کرتے ہیں ) بلکہ قربانی در اصل عنوان اور تمہید ہے حکم خداوندی کے سامنے خواہشات نفس کو مٹا دینے اور ملیا میٹ کر دینے کا ۔ اور یہ کام صرف ذی الحجہ کے تین دن کا ہی نہیں ہے یہ تین دن تو تربیت اور ٹرینیگ کے ہیں بلکہ سال کے تین سو پینسٹھ دن کرنے کا ہے ۔ قربانی کی یہ عبادت ہم سے مطالبہ کرتی ہے کہ ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس سنت سے سبق حاصل کریں اور قربانی کے پیغام کو سمجھیں اور اس کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیں ۔ آج زندگی کے ہر موڑ پر اسلام ہم سے قربانی کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ آئیے ہم سب عہد کریں کہ ہم ایسی قربانی دینے کے لئے آخری سانس تک تیار رہیں گے ۔
چلتے چلتے اس بات کا تذکرہ بھی کر دیتے ہیں کہ قربانی کامیابی کی شاہ کلید اور دنیوی و اخروی فوز و فلاح کی ضمانت بھی ہے۔ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ قوموں کا عروج و ارتقا ان کی قربانیوں سے وابستہ ہے اور قربانی کا جذبہ سرد پڑنے کے بعد بڑی سے بڑی قومیں بھی نیست و نابود ہوکر تاریخ کے صفحات سے مٹ گئیں ہیں اور تاریخ کے نہاں خانوں میں چلی گئی ہیں ۔
قربانی جیسی مہتم بالشان عبادت انجام دیتے وقت ہمارے سامنے صرف جانور کا گوشت و پوست نہ رہے ۔ بلکہ اس عبادت کے پس پشت جو عظیم آفاقی پیغام مضمر اور پنہا ہے اسے دل و دماغ اور قلب و نظر میں رکھ کر ہمیں اس عبادت کی سعادت سے بہرہ ور ہونا چاہئے اور اس عبادت کو ادا کرتے وقت یہ استحضار بھی رہنا چاہئے کہ

جان دی ،دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

اور یہ مصرع بھی ذھن میں مستحضر رہے جو قربانی کی روح ہے کہ

سر تسیم خم جو مزاج یار میں آئے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button